Sahih MuslimBook 33 · The Book on Government

Sahih Muslim · Book 33 · The Book on Government

Sahih Muslim 1903

Also in: English · Russian · Bangla · Turkish

Hadith 1903

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدْرًا - قَالَ - فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَرَانِيَ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ - قَالَ - فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا - قَالَ - فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ - قَالَ - فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ فَقَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ - قَالَ - فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ - قَالَ - فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ - قَالَ - فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلاَّ بِبَنَانِهِ ‏.‏ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً‏}‏ قَالَ فَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ ‏.

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری تھی ۔ انہوں نے کہا : یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا ، اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کوئی معرکہ مجھے دکھایا تو اللہ مجھے بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی اور بات کہنے سے ڈرے ( دل میں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم تھا لیکن اس فقرے سے زیادہ کچھ نہیں کہا ۔ ) ، پھر وہ غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ، کہا : پھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو ( میرے چچا ) انس ( بن نضر ) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ابوعمرو! کدھر؟ ( پھر کہا : ) جنت کی خوشبو کیسی عجیب ہے! جو مجھے کوہِ احد کے پیچھے سے آ رہی ہے ، پھر وہ کافروں سے لڑے یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ ان کے جسم پر تلوار ، نیزے اور تیروں کے اَسی سے اوپر زخم پائے گئے ۔ ان کی بہن ، میری پھوپھی ، ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اپنے بھائی ( کی لاش ) کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا تھا ، ( اسی موقع پر ) یہ آیت نازل ہوئی : " ( مومنوں میں سے ) کتنے مرد ہیں کہ جس ( قول ) پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا ، اسے سچ کر دکھایا ، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کر دیا ، اور ان میں سے کوئی ایسے ہیں جو منتظر ہیں ، وہ ذرہ برابر تبدیل نہیں ہوئے ( اپنے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد پر قائم ہیں ۔ ) " صحابہ کرام کا خیال یہ تھا کہ یہ آیت حضرت انس ( بن نضر ) رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔

Sahih Muslim 1903 · Book 33, hadith 213

Numbered as in Abd al‑Baqi's edition.

Translation: urdupoint.com and hamariweb.com

Arabic, numbering and books: Hadith API by Fawaz Ahmed (Unlicense), at a fixed version. Translation: urdupoint.com and hamariweb.com. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском