Jami' at-Tirmidhi · Book 28 · Chapters on Medicine
Jami' at-Tirmidhi 2053
Hadith 2053
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ كَانَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ غِلْمَةٌ ثَلاَثَةٌ حَجَّامُونَ فَكَانَ اثْنَانِ مِنْهُمْ يُغِلاَّنِ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ وَوَاحِدٌ يَحْجُمُهُ وَيَحْجُمُ أَهْلَهُ . قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ يُذْهِبُ الدَّمَ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ وَيَجْلُو عَنِ الْبَصَرِ " . وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ عُرِجَ بِهِ مَا مَرَّ عَلَى مَلإٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ إِلاَّ قَالُوا عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ . وَقَالَ " إِنَّ خَيْرَ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ يَوْمَ سَبْعَ عَشَرَةَ وَيَوْمَ تِسْعَ عَشَرَةَ وَيَوْمَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ " . وَقَالَ " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ السَّعُوطُ وَاللَّدُودُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشِيُّ " . وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَدَّهُ الْعَبَّاسُ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لَدَّنِي فَكُلُّهُمْ أَمْسَكُوا فَقَالَ " لاَ يَبْقَى أَحَدٌ مِمَّنْ فِي الْبَيْتِ إِلاَّ لُدَّ " . غَيْرَ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ قَالَ عَبْدٌ قَالَ النَّضْرُ اللَّدُودُ الْوَجُورُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ .
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ ( فاسد ) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: ”تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے؟“ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا: ”گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے، سوائے آپ کے چچا عباس کے“۔ راوی عبد کہتے ہیں: نضر نے کہا: «لدود» سے مراد «وجور» ہے ( حلق میں ڈالنے کی ایک دوا ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
Daif Isnaad · al-Albani
Daif · Zubair Ali Zai
Jami' at-Tirmidhi 2053 · Book 28, hadith 18
Translation: urdupoint.com and hamariweb.com
Arabic, numbering and books: Hadith API by Fawaz Ahmed (Unlicense), at a fixed version. Translation: urdupoint.com and hamariweb.com. Grades: each with who gave it. Sources and licences