Yunus 10:104
Jonah · Juz 11 · Page 220
قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِي شَكّٖ مِّن دِينِي فَلَآ أَعۡبُدُ ٱلَّذِينَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِنۡ أَعۡبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُمۡۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٠٤
Say, [O Muḥammad], "O people, if you are in doubt as to my religion - then I do not worship those which you worship besides Allāh; but I worship Allāh, who causes your death. And I have been commanded to be of the believers
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 10:104–106
کہہ دیجیے، اے لوگو! اگر ہو تم شک میں ، میرے دین سے (متعلق) تو نہیں عبادت کرتا میں ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے لیکن میں تو عبادت کرتاہوں اللہ کی وہ جو وفات دیتا ہے تمھیں اور حکم دیا گیا ہوں میں اس بات کا کہ ہوں میں مومنوں میں سے (104) اور یہ کہ سیدھا رکھیں آپ منہ اپنا واسطے دین (اسلام) کے ، یکسو ہو کر! اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکین میں سے(105)اور مت پکاریں آپ سوائے اللہ کے ان کو جو نہ نفع دے سکتے ہیں آپ کواور نہ نقصان دے سکتے ہیں آپ کو، پس اگر آپ نے (ایسا) کیا تو بلاشبہ آپ بھی اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے (106)
[104] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین، امام المتقین، خیر الموقنین حضرت محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ دِيۡنِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے اے لوگو! اگر تم میرے لائے ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔‘‘ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہو، وہ سب باطل ہیں ۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں ۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمھارے خود ساختہ ہمسروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرتا کیونکہ یہ پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے، یہ تو خود مخلوق اور اللہ کی قدرت کے سامنے مسخر ہیں ، ان میں کوئی ایسی صفات نہیں پائی جاتیں جو ان کی عبادت کا تقاضا کرتی ہوں ﴿ وَلٰكِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰهَ الَّذِيۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ﴾ ’’لیکن میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو کھینچ لیتا ہے تمھاری روحیں ‘‘ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، وہی تمھیں موت دے گا، پھر وہ تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا... پس وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے لیے نماز پڑھی جائے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا جائے۔
[105]﴿ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔‘‘ ﴿ وَاَنۡ اَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا﴾ ’’اور یہ کہ سیدھا کر اپنا منہ دین پر یک طرفہ ہو کر‘‘ یعنی اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے اور یکسو ہو کر تمام شرائع کو قائم کیجیے، یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول رکھیے۔ ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔‘‘ ان کا حال اختیار کیجیے، نہ ان کا ساتھ دیجیے۔
[106]﴿ وَلَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ﴾ ’’اور اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکاریں جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں نہ نقصان‘‘ کیونکہ یہ وصف ہر مخلوق کا ہے، مخلوق کوئی فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان، نفع اور نقصان پہنچانے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿ فَاِنۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اگر ایسا کرو گے۔‘‘ یعنی اگر آپ نے اللہ کے بغیر کسی ہستی کو پکارا جو کسی کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان ﴿ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جنھوں نے ہلاکت کے ذریعے سے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ۰۰﴾(لقمان: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارے تو اس کا شمار مشرکوں میں ہو جاتا ہے تو دیگر لوگوں کا کیا حال ہوگا؟
Page 220
10:98
فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ ءَامَنَتۡ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوۡمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُواْ كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡيِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ حِينٖ ٩٨
Then has there not been a [single] city that believed so its faith benefited it except the people of Jonah? When they believed, We removed from them the punishment of disgrace in worldly life and gave them enjoyment [i.e., provision] for a time.
10:99
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَأٓمَنَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيعًاۚ أَفَأَنتَ تُكۡرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ ٩٩
And had your Lord willed, those on earth would have believed - all of them entirely. Then, [O Muḥammad], would you compel the people in order that they become believers?
10:100
وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ أَن تُؤۡمِنَ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَجۡعَلُ ٱلرِّجۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعۡقِلُونَ ١٠٠
And it is not for a soul [i.e., anyone] to believe except by permission of Allāh, and He will place defilement1 upon those who will not use reason.
1 translator’s note
- Among its meanings are filth, wrath, punishment, disbelief, confusion and error. ↩
10:101
قُلِ ٱنظُرُواْ مَاذَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَا تُغۡنِي ٱلۡأٓيَٰتُ وَٱلنُّذُرُ عَن قَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ ١٠١
Say, "Observe what is in the heavens and the earth." But of no avail will be signs or warners to a people who do not believe.
10:102
فَهَلۡ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثۡلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِهِمۡۚ قُلۡ فَٱنتَظِرُوٓاْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِينَ ١٠٢
So do they wait except for like [what occurred in] the days of those who passed on before them? Say, "Then wait; indeed, I am with you among those who wait."
10:103
ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيۡنَا نُنجِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٠٣
Then We will save Our messengers and those who have believed. Thus, it is an obligation upon Us that We save the believers.1
1 translator’s note
- From Allāh's punishment. ↩
10:104
قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِي شَكّٖ مِّن دِينِي فَلَآ أَعۡبُدُ ٱلَّذِينَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِنۡ أَعۡبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُمۡۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٠٤
Say, [O Muḥammad], "O people, if you are in doubt as to my religion - then I do not worship those which you worship besides Allāh; but I worship Allāh, who causes your death. And I have been commanded to be of the believers
10:105
وَأَنۡ أَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٠٥
And [commanded], 'Direct your face [i.e., self] toward the religion, inclining to truth, and never be of those who associate others with Allāh;
10:106
وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٠٦
And do not invoke1 besides Allāh that which neither benefits you nor harms you, for if you did, then indeed you would be of the wrongdoers.'"2