YunusJuz 11 · Page 211

Yunus 10:22

Jonah · Juz 11 · Page 211

هُوَ ٱلَّذِي يُسَيِّرُكُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَرَيۡنَ بِهِم بِرِيحٖ طَيِّبَةٖ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتۡهَا رِيحٌ عَاصِفٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡمَوۡجُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ أُحِيطَ بِهِمۡ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنۡ أَنجَيۡتَنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٢٢

It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them1 by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from every place and they expect to be engulfed, they supplicate Allāh, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."

1 translator’s note
  1. The change in pronoun from the second to third person shows that the following description applies specifically to the disbelievers. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 10:22–23

وہی ہے (اللہ) جو چلاتا ہے تمھیں خشکی اور تری میں ، حتی کہ جب ہوتے ہو تم کشتیوں میں اور چلتی ہیں وہ انھیں (تمھیں ) لے کر ساتھ ہوا پاکیزہ (موافق)کےاورخوش ہوتے ہیں وہ ساتھ اس (ہوا) کے تو آتی ہے ان پر سخت ہوااور آتی ہیں ان کے پاس لہریں ہر طرف سے اور گمان کرتے ہیں وہ کہ بے شک گھیر لیا گیا ہے ان کو تو (اس وقت) پکارتے ہیں اللہ کو خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو، کہ اگر تو نے نجات دے دی ہمیں اس (طوفان) سے تو یقینا ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں میں سے (22) پس جب اس (اللہ) نے نجات دے دی ان کو فوراً وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق، اے لوگو! یقینا تمھاری سرکشی (کا وبال) اوپر تمھاری جانوں ہی کے ہے، (اٹھالو) فائدہ زندگی کا دنیا کی ، پھر ہماری طرف ہی لوٹنا ہے تمھیں ، پس ہم خبردیں گے تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے (23)

[23,22] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ يُسَيِّرُؔكُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ﴾ ’’وہی ہے جو تمھیں چلاتا ہے خشکی اور سمندر میں ‘‘ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمھیں مہیا کیے ہیں اور ان کی طرف تمھاری راہ نمائی فرمائی ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا كُنۡتُمۡ فِي الۡفُلۡكِ﴾ ’’یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو‘‘ یعنی بحری جہازوں میں ﴿وَجَرَيۡنَ بِهِمۡ بِرِيۡحٍ طَيِّبَةٍ﴾ ’’اور لے کر چلیں وہ ان کو اچھی ہوا سے‘‘ یعنی وہ ہوا جو ان کی خواہش کے موافق بغیر کسی مشقت اور گھبراہٹ کے ان جہازوں کو چلاتی ہے۔ ﴿وَّفَرِحُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور وہ خوش ہوں ساتھ ان کے‘‘ اور ان ہواؤں پر نہایت مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ ﴿جَآءَتۡهَا رِيۡحٌ عَاصِفٌ ﴾ ’’اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے۔‘‘ یعنی کشتیوں پر سخت ہوا آئی ﴿ وَّجَآءَهُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اُحِيۡطَ بِهِمۡ﴾ ’’اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور انھوں نے جان لیا کہ وہ گھر گئے‘‘ یعنی انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت یقینی ہے، تب اس وقت مخلوق سے ان کے تمام تعلق منقطع ہو جاتے ہیں اور انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت اور سختی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، تب اس وقت ﴿ دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کو پکارتے ہیں ‘‘ اور الزامی طور پر اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں ، چنانچہ کہتے ہیں ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجَيۡتَنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾’’اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا لے تو ہم تیرے شکر گزار ہو جائیں گے۔‘‘﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡجٰؔىهُمۡ اِذَا هُمۡ يَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’پس جب اللہ نے ان کو نجات دے دی تو اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں ناحق۔‘‘ یعنی وہ اس سختی کو جس میں وہ مبتلا تھے، ان دعاؤں کو جو وہ مانگتے رہے تھے اور ان وعدوں کو جو انھوں نے اپنے اوپر لازم کیے تھے، فراموش کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی ہستی انھیں ان سختیوں سے نجات دے سکتی ہے نہ ان کی تنگی دور کر سکتی ہے۔ پس انھوں نے اپنی فراخی اور کشادگی میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیوں نہ کیا جس طرح انھوں نے سختی میں اپنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیا تھا مگر اس بغاوت اور سرکشی کا وبال انھیں پر پڑے گا۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ١ۙ مَّؔتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’اے لوگو! تمھاری شرارت تمھی پر پڑے گی، نفع اٹھا لو دنیا کی زندگانی کا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے سرکشی و بغاوت اور اس کے لیے اخلاص سے دور بھاگنے میں ان کی غرض و غایت یہ ہے کہ وہ دنیا کے چند ٹکڑے اور اس کا مال و جاہ اور معمولی سے فوائد حاصل ہوں جو بہت جلد ختم ہو جائیں گے، سب کچھ ہاتھوں سے نکل جائے گا اور تم اسے چھوڑ کر یہاں سے کوچ کر جاؤ گے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر ہمارے پاس ہی تمھیں لوٹ کر آنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَنُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر ہم تمھیں بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے‘‘ اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کو ان کے اپنے ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 211

YunusJuz 11 · Page 211

10:21

وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ مِّنۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُمۡ إِذَا لَهُم مَّكۡرٞ فِيٓ ءَايَاتِنَاۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسۡرَعُ مَكۡرًاۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكۡتُبُونَ مَا تَمۡكُرُونَ ٢١

And when We give the people a taste of mercy after adversity has touched them, at once they conspire against Our verses. Say, "Allāh is swifter in strategy." Indeed, Our messengers [i.e., angels] record that which you conspire.

10:22

هُوَ ٱلَّذِي يُسَيِّرُكُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَرَيۡنَ بِهِم بِرِيحٖ طَيِّبَةٖ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتۡهَا رِيحٌ عَاصِفٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡمَوۡجُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ أُحِيطَ بِهِمۡ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنۡ أَنجَيۡتَنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٢٢

It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them1 by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from every place and they expect to be engulfed, they supplicate Allāh, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."

1 translator’s note
  1. The change in pronoun from the second to third person shows that the following description applies specifically to the disbelievers. ↩

10:23

فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمۡ إِذَا هُمۡ يَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۗ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۖ مَّتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٢٣

But when He saves them, at once they commit injustice1 upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do.

1 translator’s note
  1. By oppression and disobedience or by invoking others besides Allāh. ↩

10:24

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ مِمَّا يَأۡكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلۡأَنۡعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلۡأَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتۡ وَظَنَّ أَهۡلُهَآ أَنَّهُمۡ قَٰدِرُونَ عَلَيۡهَآ أَتَىٰهَآ أَمۡرُنَا لَيۡلًا أَوۡ نَهَارٗا فَجَعَلۡنَٰهَا حَصِيدٗا كَأَن لَّمۡ تَغۡنَ بِٱلۡأَمۡسِۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٢٤

The example of [this] worldly life is but like rain which We have sent down from the sky that the plants of the earth absorb - [those] from which men and livestock eat - until, when the earth has taken on its adornment and is beautified and its people suppose that they have capability over it, there comes to it Our command by night or by day, and We make it as a harvest,1 as if it had not flourished yesterday. Thus do We explain in detail the signs for a people who give thought.

1 translator’s note
  1. Its vegetation having been cut down or uprooted, i.e., utterly destroyed. ↩

10:25

وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٢٥

And Allāh invites to the Home of Peace [i.e., Paradise] and guides whom He wills to a straight path.

As-Sa'diTafsir · 10:22

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском