YunusJuz 11 · Page 212

Yunus 10:32

Jonah · Juz 11 · Page 212

فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَاذَا بَعۡدَ ٱلۡحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٰلُۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ ٣٢

For that is Allāh, your Lord, the Truth. And what can be beyond truth except error? So how are you averted?

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 10:31–33

کہہ دیجیے! کون رزق دیتا ہے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ یا کون ہے وہ جو مالک ہو کانوں اور آنکھوں کا؟ اورکون ہے وہ جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اورنکالتا ہے مردہ کو زندہ سے؟ اور کون ہے وہ جو تدبیر کرتا ہے تمام کاموں کی؟ پس وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دیجیے ! کیا پس نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(31) پس یہی ہے اللہ تمھارا رب سچا، پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے؟ پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟ (32) اسی طرح ثابت ہو گيا ہے کلمہ آپ کے رب کا اوپر ان لوگوں کے جنھوں نے نافرمانی کی، کہ بے شک وہ نہیں ایمان لائیں گے (33)

[31]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان کے توحید ربوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کون ہے جو تمھیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے‘‘ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر ﴿اَمَّنۡ يَّمۡلِكُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا‘‘ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا، یہ مفضول پر فاضل کی فضیلت پر تنبیہ كےباب سے ہے، نیز ان کے شرف اور فوائد کی بنا پر ان کا ذکر کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے‘‘مثلاً: شجر و نباتات کی تمام اقسام کو دانے اور گٹھلی سے پیدا کیا، مومن کو کافر سے جنم دیا اور پرندے کو انڈے سے تخلیق کیا۔ ﴿ وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ﴾ ’’اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے‘‘ یعنی مذکورہ تمام چیزوں کے برعکس ﴿ وَمَنۡ يُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ﴾ ’’اور کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون ہے جو عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کرتا ہے؟ اور اس میں تدابیر الہٰیہ کی تمام اقسام شامل ہیں ۔اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں ﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ کہیں گے، اللہ‘‘ کیونکہ وہ ان تمام امور کا اقرار کرتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ مذکورہ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ تو الزامی حجت کے طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ۔‘‘ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ خالص اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتے اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکتے۔

[32]﴿فَذٰلِكُمُ ﴾ ’’پس یہی‘‘ یعنی وہ ہستی، جس نے اپنے مذکورہ اوصاف بیان کیے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمُ ﴾ ’’اللہ ہے، تمھارا رب‘‘ وہ معبود محمود ہے جو مختلف نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوقات کا مربی ہے۔ ﴿الۡحَقُّ١ۚ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ﴾ ’’اور وہ حق ہے۔ پس حق کے بعد سوائے گمراہی کے کیا ہے؟‘‘ یعنی وہ تمھارا پروردگار برحق ہے، حق کے بعد، گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اکیلا ہی تمام کا ئنات کا خالق اور اس کی تدبیر کرتا ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے عطا کی ہوئی ہے۔ تمام بھلائیاں وہی لاتا ہے اور تمام برائیوں کو وہی دور کرتا ہے، وہ اسمائے حسنیٰ سے موسوم، صفات کاملہ سے موصوف اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ ﴿ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کہاں پھیرے جاتے ہو‘‘ یعنی جس ہستی کے یہ اوصاف ہیں اسے چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کی طرف کیوں کر پھرے جا رہے ہو جن کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ جو خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور زندہ کرنے پر قادر نہیں ۔ جن کا اقتدار میں کسی بھی لحاظ سے ذرہ بھر بھی حصہ اور شراکت نہیں ۔ وہ اس کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کر سکتیں ۔

[33] پس ہلاکت ہے اس کے لیے جو ایسوں کو شریک ٹھہراتا ہے اور برائی ہے اس کے لیے جو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے۔ یقینا اپنے دین سے محروم ہونے کے بعد وہ اپنی عقلوں سے بھی محروم ہوگئے بلکہ وہ اپنی دنیا و آخرت بھی کھو بیٹھے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِيۡنَ فَسَقُوۡۤا اَنَّهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ثابت ہو گئی تیرے رب کی بات ان لوگوں پر جو نافرمان ہوئے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو واضح نشانات اور روشن دلائل دکھائے جن میں عقل مندوں کے لیے عبرت، اہل تقویٰ کے لیے نصیحت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 212

YunusJuz 11 · Page 212

10:26

۞ لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ ٱلۡحُسۡنَىٰ وَزِيَادَةٞۖ وَلَا يَرۡهَقُ وُجُوهَهُمۡ قَتَرٞ وَلَا ذِلَّةٌۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٢٦

For them who have done good is the best [reward] - and extra.1 No darkness will cover their faces, nor humiliation. Those are companions of Paradise; they will abide therein eternally.

1 translator’s note
  1. In addition to the pleasures of Paradise, they will be able to see Allāh (subḥānahu wa taʿālā), as reported in an authentic ḥadīth narrated by Muslim. ↩

10:27

وَٱلَّذِينَ كَسَبُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةِۭ بِمِثۡلِهَا وَتَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنۡ عَاصِمٖۖ كَأَنَّمَآ أُغۡشِيَتۡ وُجُوهُهُمۡ قِطَعٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مُظۡلِمًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٢٧

But they who have earned [blame for] evil doings - the recompense of an evil deed is its equivalent, and humiliation will cover them. They will have from Allāh no protector. It will be as if their faces are covered with pieces of the night - so dark [are they]. Those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.

10:28

وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ مَكَانَكُمۡ أَنتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمۡ إِيَّانَا تَعۡبُدُونَ ٢٨

And [mention, O Muḥammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allāh, "[Remain in] your place, you and your 'partners.'"1 Then We will separate them,2 and their "partners" will say, "You did not used to worship us,3

3 translator’s notes
  1. Those they had associated with Allāh.

    [523] From the believers.

    [524] The inanimate objects, such as idols, will not have been aware of their worship of them. But those beings who consented to be worshipped will lie and deny it on the Day of Judgement.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩

10:29

فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ إِن كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغَٰفِلِينَ ٢٩

And sufficient is Allāh as a witness between us and you that we were of your worship unaware."

10:30

هُنَالِكَ تَبۡلُواْ كُلُّ نَفۡسٖ مَّآ أَسۡلَفَتۡۚ وَرُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۖ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ٣٠

There, [on that Day], every soul will be put to trial for what it did previously, and they will be returned to Allāh, their master, the Truth, and lost from them is whatever they used to invent.

10:31

قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ ٣١

Say, "Who provides for you from the heaven and the earth? Or who controls hearing and sight and who brings the living out of the dead and brings the dead out of the living and who arranges [every] matter?" They will say, "Allāh," so say, "Then will you not fear Him?"

10:32

فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَاذَا بَعۡدَ ٱلۡحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٰلُۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ ٣٢

For that is Allāh, your Lord, the Truth. And what can be beyond truth except error? So how are you averted?

10:33

كَذَٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓاْ أَنَّهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ٣٣

Thus the word [i.e., decree] of your Lord has come into effect upon those who defiantly disobeyed - that they will not believe.

As-Sa'diTafsir · 10:32

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском