Yunus 10:35
Jonah · Juz 11 · Page 213
قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهۡدِي لِلۡحَقِّۗ أَفَمَن يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّيٓ إِلَّآ أَن يُهۡدَىٰۖ فَمَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ ٣٥
Say, "Are there of your 'partners' any who guides to the truth?" Say, "Allāh guides to the truth. So is He who guides to the truth more worthy to be followed or he who guides not unless he is guided? Then what is [wrong] with you - how do you judge?"
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 10:34–36
کہہ دیجیے! کیا ہے کوئی تمھارے (بناوٹی) شریکوں میں سے جو پہلی بار پیدا کرے مخلوق کو ، پھر دوبارہ پیدا کر دے اسے؟ کہہ دیجیے ! اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو، پھر وہی دوبارہ (بھی) پیدا کرے گا اس کو، پس کیسے ، پھرے جاتے ہو تم (34)کہہ دیجیے! کیاہے کوئی تمھارے شریکوں میں سے جو ہدایت دیتا ہو حق کی طرف؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی ہدایت دیتا ہے واسطے حق کے ، کیا پس جو ہدایت دیتا ہے حق کی طرف زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ اس کا اتباع کیا جائے یا وہ جو نہیں ہے خود ہدایت یافتہ مگر یہ کہ وہ ہدایت دیا جائے (حق کی)؟ پس کیاہے تمھیں ؟ کیسے فیصلہ کرتے ہو تم؟(35)اور نہیں اتباع کرتے اکثر ان کے مگر ظن کی، بلاشبہ ظن (گمان) تو نہیں فائدہ دیتا حق سے کچھ بھی، بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے اس چیز کو جو وہ کر رہے ہیں (36)
[34] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بے بسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا، جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں ، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو‘‘ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے؟ ﴿ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’پھر اسے دوبارہ زندہ کرے‘‘ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کر سکتی ہو، وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔
[35]﴿ قُلِ اللّٰهُ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی بغیر کسی شریک کی شراکت اور بغیر کسی معاون کی مدد کے تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس کہاں پھرے جاتے ہو تم؟‘‘ یعنی پھر اس ہستی کی عبادت سے منحرف ہو کر جو مخلوق کی ابتدا کرنے اور پھر اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، ایسی ہستیوں کی عبادت کر رہے ہو جو کچھ تخلیق کرنے سے قاصر بلکہ خود مخلوق ہیں ۔﴿قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف رہنمائی کرے‘‘ یعنی اپنے بیان اور راہ نمائی یا اپنے الہام اور توفیق کے ذریعے سے، حق کی طرف راہ نمائی کر سکتا ہو۔ ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ﴿ يَهۡدِيۡ لِلۡحَقِّ﴾ ’’رہنمائی کرتا ہے حق کی طرف‘‘ دلائل و براہین اور الہام و توفیق کے ذریعے سے حق کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور راست ترین راستے پر گامزن ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ﴿ اَفَمَنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ اَحَقُّ اَنۡ يُّتَّبَؔعَ اَمَّنۡ لَّا يَهِدِّيۡۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّهۡدٰؔى ﴾ ’’کیا پس جو شخص راہ بتائے صحیح، اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو آپ راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کو راہ بتلائی جائے۔‘‘ یعنی اپنے عدم علم اور گمراہی کے سبب سے اور اس سے مراد ان کے گھڑے ہوئے شریک ہیں جو کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں نہ خود ہدایت یافتہ ہیں ، سوائے اس کے کہ خود ان کی راہ نمائی کی جائے۔ ﴿ فَمَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھیں اس پر آمادہ کیا ہے کہ تم یہ باطل فیصلہ کرتے ہو اور اس حقیقت پر دلیل و برہان کے ظاہر ہونے کے بعد کہ اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کی صحت کا حکم لگاتے ہو۔جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ ان کے معبودان باطل میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، وہ معنوی اور فعلی اوصاف موجود نہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جائے بلکہ اس کے برعکس یہ معبودان باطل نقائص سے متصف ہیں جو ان کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہیں، تب وہ کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ انھیں بھی معبود قرار دیتی ہے؟
[36] اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کو خوش نما بنا دینا شیطان کا کام ہے، یہ قبیح ترین بہتان اور سب سے بڑی گمراہی ہے لیکن یہی اس کا دل پسند اعتقاد بن گیا ہے اور وہ اسی کو حق سمجھتا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا يَتَّبِـعُ اَ كۡثَرُهُمۡ﴾ ’’اور نہیں پیروی کرتے ان کے اکثر لوگ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنے گھڑے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں ﴿اِلَّا ظَنًّا﴾ ’’مگر گمان کی۔‘‘ یعنی وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے شریکوں کو نہیں پکارتے کیونکہ اصل میں عقلاً و نقلاً اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ، یہ لوگ محض اپنے ظن اور گمان کی پیروی کرتے ہیں ﴿ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغۡنِيۡ مِنَ الۡحَقِّ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔‘‘ پس انھوں نے ان کو معبود کے نام سے موسوم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی عبادت بھی کرنے لگے ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰ بَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾(النجم: 53؍23) ’’وہ تو صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے گھڑ لیے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے افعال کو خوب جانتا ہے اور وہ ان افعال پر انھیں سخت سزا دے گا۔
Page 213
10:34
قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥۚ قُلِ ٱللَّهُ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ ٣٤
Say, "Are there of your 'partners' any who begins creation and then repeats it?" Say, "Allāh begins creation and then repeats it, so how are you deluded?"
10:35
قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهۡدِي لِلۡحَقِّۗ أَفَمَن يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّيٓ إِلَّآ أَن يُهۡدَىٰۖ فَمَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ ٣٥
Say, "Are there of your 'partners' any who guides to the truth?" Say, "Allāh guides to the truth. So is He who guides to the truth more worthy to be followed or he who guides not unless he is guided? Then what is [wrong] with you - how do you judge?"
10:36
وَمَا يَتَّبِعُ أَكۡثَرُهُمۡ إِلَّا ظَنًّاۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا يَفۡعَلُونَ ٣٦
And most of them follow not except assumption. Indeed, assumption avails not against the truth at all. Indeed, Allāh is Knowing of what they do.
10:37
وَمَا كَانَ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ أَن يُفۡتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا رَيۡبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٧
And it was not [possible] for this Qur’ān to be produced by other than Allāh, but [it is] a confirmation of what was before it and a detailed explanation of the [former] Scripture, about which there is no doubt,1 from the Lord of the worlds.
1 translator’s note
- This phrase refers back to the Qur’ān. ↩
10:38
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ فَأۡتُواْ بِسُورَةٖ مِّثۡلِهِۦ وَٱدۡعُواْ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٣٨
Or do they say [about the Prophet (ﷺ)], "He invented it?" Say, "Then bring forth a sūrah like it and call upon [for assistance] whomever you can besides Allāh, if you should be truthful."
10:39
بَلۡ كَذَّبُواْ بِمَا لَمۡ يُحِيطُواْ بِعِلۡمِهِۦ وَلَمَّا يَأۡتِهِمۡ تَأۡوِيلُهُۥۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّٰلِمِينَ ٣٩
Rather, they have denied that which they encompass not in knowledge and whose interpretation has not yet come to them. Thus did those before them deny. Then observe how was the end of the wrongdoers.
10:40
وَمِنۡهُم مَّن يُؤۡمِنُ بِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن لَّا يُؤۡمِنُ بِهِۦۚ وَرَبُّكَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُفۡسِدِينَ ٤٠
And of them are those who believe in it, and of them are those who do not believe in it. And your Lord is most knowing of the corrupters.
10:41
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمۡ عَمَلُكُمۡۖ أَنتُم بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعۡمَلُ وَأَنَا۠ بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ ٤١
And if they deny you, [O Muḥammad], then say, "For me are my deeds, and for you are your deeds. You are disassociated from what I do, and I am disassociated from what you do."
10:42
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يَعۡقِلُونَ ٤٢
And among them are those who listen to you. But can you cause the deaf to hear [i.e., benefit from this hearing], although they will not use reason?