YunusJuz 11 · Page 214

Yunus 10:44

Jonah · Juz 11 · Page 214

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ ٱلنَّاسَ شَيۡـٔٗا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٤٤

Indeed, Allāh does not wrong the people at all, but it is the people who are wronging themselves.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 10:42–44

اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف، کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو اگرچہ ہوں وہ نہ عقل رکھتے؟ (42) اوربعض ان میں سے وہ ہیں جودیکھتے ہیں آپ کی طرف، کیا پس آپ راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اگرچہ ہوں وہ نہ دیکھتے؟ (43) بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرتا لوگوں پر کچھ بھی لیکن لوگ اپنے آپ پر (خود ہی) ظلم کرتے ہیں (44)

[42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے رسول (ﷺ) کی اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کی تکذیب کی، چنانچہ فرمایا:﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ﴾ ’’اور ان میں سے بعض کان لگاتے ہیں آپ کی طرف‘‘ یعنی وحی کی قراء ت کے وقت نبی کریمﷺ کو غور سے سنتے ہیں ، رشد و ہدایت کے حصول کی خاطر نہیں بلکہ تکذیب اور کمزوریاں تلاش کرنے کے لیے سنتے ہیں اور اس طرح کا سننا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور سننے والے کو کوئی بھلائی عطا نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پر توفیق کا دروازہ بند ہوگیا اور وہ سننے کے فائدے سے محروم ہوگئے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّؔ وَلَوۡ كَانُوۡا لَا يَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’کیا آپ بہروں کو سنائیں گے، اگرچہ وہ سمجھ نہ رکھتے ہوں ‘‘ یہ استفہام بمعنی نفی متقرر (استفہام انکاری) ہے، یعنی آپ بہروں کو نہیں سنا سکتے جو بات کو غور سے نہیں سنتے خواہ آپ بآواز بلند کیوں نہ سنوائیں خاص طور پر جبکہ وہ عقل سے محروم ہوں ۔ جب بہرے کو سنوانا محال ہے جو کلام کو سمجھنے سے قاصر ہے، تب یہ تکذیب کرنے والے بھی اسی طرح سننے سے قاصر ہیں آپ ان کو بھی نہیں سنوا سکتے جس سے یہ نفع اٹھا سکیں ۔ رہا سماع حجت تو انھوں نے اتنا ضرور سن لیا جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت بالغہ قائم ہو۔ سماعت حصول علم کے راستوں میں سے ایک بہت بڑا راستہ ہے جو ان پر مسدود ہو چکا ہے اور یہ بھلائی سے متعلق مسموعات ہیں ۔

[43] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسرے راستے کے مسدود ہونے کا ذکر فرمایا ہے اور وہ ہے نظر کا راستہ، چنانچہ فرمایا ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡظُرُ اِلَيۡكَ﴾ ’’اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں ۔‘‘ اور ان کا آپ کی طرف دیکھنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ آپ کو کوئی راحت دے سکتا ہے۔ پس جس طرح آپ اندھوں کو راہ نہیں دکھا سکتے جو بصارت سے محروم ہیں اسی طرح آپ بہروں کی بھی راہ نمائی نہیں کر سکتے۔ جب ان کی عقل، سماعت اور بصارت، جو حصول علم اور معرفت حقائق کا ذریعہ ہیں ، خرابی کا شکار ہو جائیں تب ان کے لیے حق تک پہنچنے کا کون سا راستہ ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡظُرُ اِلَيۡكَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے احوال، آپ کے طریقوں ، آپ کے اخلاق اور آپ کے اعمال کو دیکھنا آپ اور آپ کی دعوت کی صداقت پر دلیل مہیا کرتا ہے اور یہ نظر، صاحب بصیرت کو دیگر دلائل سے مستغنی کر دیتی ہے۔

[44]﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ النَّاسَ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا‘‘ پس وہ لوگوں کی برائیوں کو بڑھاتا ہے، نہ نیکیوں میں کمی کرتا ہے۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔‘‘ ان کے پاس حق آتا ہے مگر یہ اسے قبول نہیں کرتے ہیں ، تب اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر ان کے دلوں ، ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 214

YunusJuz 11 · Page 214

10:43

وَمِنۡهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تَهۡدِي ٱلۡعُمۡيَ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يُبۡصِرُونَ ٤٣

And among them are those who look at you. But can you guide the blind although they will not [attempt to] see?

10:44

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ ٱلنَّاسَ شَيۡـٔٗا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٤٤

Indeed, Allāh does not wrong the people at all, but it is the people who are wronging themselves.

10:45

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ كَأَن لَّمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيۡنَهُمۡۚ قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ ٤٥

And on the Day when He will gather them, [it will be] as if they had not remained [in the world] but an hour of the day, [and] they will know each other. Those will have lost who denied the meeting with Allāh and were not guided.

10:46

وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفۡعَلُونَ ٤٦

And whether We show you some of what We promise them, [O Muḥammad], or We take you in death, to Us is their return; then, [either way], Allāh is a witness concerning what they are doing.

10:47

وَلِكُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولٞۖ فَإِذَا جَآءَ رَسُولُهُمۡ قُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٤٧

And for every nation is a messenger. So when their messenger comes,1 it will be judged between them in justice, and they will not be wronged.

1 translator’s note
  1. To witness on the Day of Judgement. Another meaning is "Once a messenger has come [to them in this world]..." ↩

10:48

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٤٨

And they say, "When is [the fulfillment of] this promise, if you should be truthful?"

10:49

قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي ضَرّٗا وَلَا نَفۡعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ٤٩

Say, "I possess not for myself any harm or benefit except what Allāh should will. For every nation is a [specified] term. When their time has come, then they will not remain behind an hour, nor will they precede [it]."

10:50

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُهُۥ بَيَٰتًا أَوۡ نَهَارٗا مَّاذَا يَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٥٠

Say, "Have you considered: if His punishment should come to you by night or by day - for which [aspect] of it would the criminals be impatient?"1

1 translator’s note
  1. "Impatience" refers to the disbelievers' ridicule of the Prophet (ﷺ) by telling him to produce Allāh's punishment as proof of his truthfulness. ↩

10:51

أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓۚ ءَآلۡـَٰٔنَ وَقَدۡ كُنتُم بِهِۦ تَسۡتَعۡجِلُونَ ٥١

Then is it that when it has [actually] occurred you will believe in it? Now?1 And you were [once] for it impatient.2

2 translator’s notes
  1. i.e., when it is too late to benefit from belief.

    [529] Challenging those who warned of it to bring it on immediately.

    ↩
  2. ↩

10:52

ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡخُلۡدِ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمۡ تَكۡسِبُونَ ٥٢

Then it will be said to those who had wronged, "Taste the punishment of eternity; are you being recompensed except for what you used to earn?"

10:53

۞ وَيَسۡتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَۖ قُلۡ إِي وَرَبِّيٓ إِنَّهُۥ لَحَقّٞۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ ٥٣

And they ask information of you, [O Muḥammad], "Is it true?" Say, "Yes, by my Lord. Indeed, it is truth; and you will not cause failure [to Allāh]."

As-Sa'diTafsir · 10:44

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском