Yunus 10:76
Jonah · Juz 11 · Page 217
فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ مِنۡ عِندِنَا قَالُوٓاْ إِنَّ هَٰذَا لَسِحۡرٞ مُّبِينٞ ٧٦
So when there came to them the truth from Us, they said, "Indeed, this is obvious magic."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 10:75–93
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ اور ہارون کو طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی، ساتھ اپنی آیتوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے اور تھے وہ لوگ مجرم (75) پھر جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو کہا انھوں نے ، بلاشبہ یہ تو جادو ہے ظاہر(76) کہا موسیٰ نے، کیا تم کہتے ہو (یہ) واسطے حق کے جبکہ وہ آیا تمھارے پاس؟ کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ نہیں فلاح پاتے جادوگر (77) کہا انھوں نے، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمیں اس (طریقے) سے کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کواور ہو واسطے تم دونوں کے بڑائی زمین میں ؟ اور نہیں ہیں ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے (78) اور کہا فرعون نے، لے آؤ تم میرے پاس ہرجادوگر ماہر کو (79) پس جب آگئے تمام جادوگر تو کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (80) سو جب انھوں نے ڈالا تو کہا موسیٰ نے ، وہ چیز کہ لائے ہو تم اس کو، جادو ہے۔ بلاشبہ اللہ عنقریب باطل کردے گا اسے، بے شک اللہ ، نہیں سنوارتا کام فساد کرنے والوں کا (81) اور ثابت کرتا ہے اللہ حق کو ساتھ اپنے کلمات کے، اگرچہ ناپسند کریں مجرم لوگ (82)پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ لوگ اس کی قوم میں سے، ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اس کے درباریوں سے (اس اندیشے سے) کہ فتنے میں ڈالے وہ ان کو،اور بلاشبہ فرعون ، البتہ سرکشی کرنے والا تھا زمین (مصر) میں اور بے شک وہ ، البتہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (83)اور کہا موسیٰ نے، میری قوم! اگر ہو تم ایمان لائے ساتھ اللہ کے تو اسی پر توکل کرو تم اگر ہو تم فرماں بردار (84) پس کہا انھوں نے ، اوپر اللہ ہی کے توکل کیا ہم نے، اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ واسطے ظالم قوم کے (85) اور تو نجات دے ہمیں ساتھ اپنی رحمت کے کافر قوم سے(86) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ اور اس کے بھائی کی، یہ کہ بناؤ تم واسطے اپنی قوم کے مصر میں کچھ گھراور بناؤ تم اپنے گھروں کو قبلہ اورقائم کرو نمازاورخوش خبری دے دیجیے مومنوں کو (87)اور کہا موسیٰ نے، اے ہمارے رب! بے شک تو نے دی فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کو زینت اورمال زندگانیٔ دنیا میں ، اے ہمارے رب! تاکہ وہ گمراہ کریں تیری راہ سے، اے ہمارے رب! مٹا دے مال ان کے اور سخت کردے دل ان کے، پس نہ ایمان لائیں وہ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (88)اللہ نے کہا، تحقیق قبول کرلی گئی ہے دعا تمھاری، سو ثابت قدم رہو تم دونوں اور مت پیروی کرو راستے کی ان لوگوں کے جو نہیں علم رکھتے (89) اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل سمندر سے، پھر تعاقب کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اورظلم و زیادتی کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جب پا لیا اس کو غرقابی نے تو کہا فرعون نے ، ایمان لایا میں (ساتھ اس بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس ذات کے کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے بنو اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں (90)(اللہ نے فرمایا) کیا اب (ایمان لایا ہے؟) جبکہ تو نافرمان تھا پہلےاور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے (91) پس آج نجات دیں گے (باہر نکال پھینکیں گے) ہم تجھے (سمندر سے) تیر ے بدن سمیت تاکہ ہو تو واسطے ان کے جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں ، نشانی۔ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے ، البتہ غافل ہیں (92)اور البتہ تحقیق ٹھکانا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا اچھا اور رزق دیاہم نے انھیں پاکیزہ چیزوں سے، پھر نہ اختلاف کیا انھوں نے یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس علم، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (93)
[75]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوۡسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوۡنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔
[76]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا‘‘ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑی نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرافگندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العالمین، جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰu کے ہاتھ پر حق آیا تو انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ ﴿ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰؔذَا لَسِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور کہا، یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انھوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کر دیا... بلکہ انھوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل، یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے... بلکہ انھوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا... حالانکہ وہ واضح حق ہے۔
[77] اس لیے حضرت موسیٰu نے... ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے... ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡ﴾ ’’کیا تم یہ کہتے ہو حق کو، جب وہ تمھارے پاس آیا‘‘ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے ﴿ اَسِحۡرٌ هٰؔذَا﴾ ’’کیا یہ جادو ہے؟‘‘ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے۔ مجرد اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے۔ ﴿ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰؔحِرُوۡنَ﴾ ’’اور جادوگر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ یعنی جادوگر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں ۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے، کس کے لیے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انھیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰu تھے جنھوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفریاب ہوئے۔
[78]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوۡنَ لَكُمَا الۡكِبۡرِيَآءُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔
[79]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’اور فرعون نے کہا۔‘‘ یعنی فرعون نے موسیٰu کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِكُلِّ سٰؔحِرٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔‘‘ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں ۔
[80]﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ﴾ ’’پس جب جادو گر آئے‘‘ یعنی موسیٰu کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ﴾ ’’تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔‘‘ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰu کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں ۔
Page 217
10:71
۞ وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ نُوحٍ إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكُم مَّقَامِي وَتَذۡكِيرِي بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡتُ فَأَجۡمِعُوٓاْ أَمۡرَكُمۡ وَشُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُنۡ أَمۡرُكُمۡ عَلَيۡكُمۡ غُمَّةٗ ثُمَّ ٱقۡضُوٓاْ إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ ٧١
And recite to them the news of Noah, when he said to his people, "O my people, if my residence and my reminding of the signs of Allāh has become burdensome upon you - then I have relied upon Allāh. So resolve upon your plan and [call upon] your associates. Then let not your plan be obscure to you.1 Then carry it out upon me and do not give me respite.
1 translator’s note
- i.e., Do not let it be a source of doubt or anxiety to you but let it be clear, open and defined. ↩
10:72
فَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَمَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٧٢
And if you turn away [from my advice] - then no payment have I asked of you. My reward is only from Allāh, and I have been commanded to be of the Muslims [i.e., those who submit to Allāh]."
10:73
فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَعَلۡنَٰهُمۡ خَلَٰٓئِفَ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُنذَرِينَ ٧٣
And they denied him, so We saved him and those with him in the ship and made them successors, and We drowned those who denied Our signs. Then see how was the end of those who were warned.
10:74
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۚ كَذَٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٧٤
Then We sent after him messengers to their peoples, and they came to them with clear proofs. But they were not to believe in that which they had denied before.1 Thus We seal over the hearts of the transgressors.
1 translator’s note
- i.e., the succeeding generations were persistent in disbelief. ↩
10:75
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِم مُّوسَىٰ وَهَٰرُونَ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ بِـَٔايَٰتِنَا فَٱسۡتَكۡبَرُواْ وَكَانُواْ قَوۡمٗا مُّجۡرِمِينَ ٧٥
Then We sent after them Moses and Aaron to Pharaoh and his establishment with Our signs, but they behaved arrogantly and were a criminal people.
10:76
فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ مِنۡ عِندِنَا قَالُوٓاْ إِنَّ هَٰذَا لَسِحۡرٞ مُّبِينٞ ٧٦
So when there came to them the truth from Us, they said, "Indeed, this is obvious magic."
10:77
قَالَ مُوسَىٰٓ أَتَقُولُونَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمۡۖ أَسِحۡرٌ هَٰذَا وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّٰحِرُونَ ٧٧
Moses said, "Do you say [thus] about the truth when it has come to you? Is this magic? But magicians will not succeed."
10:78
قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلۡكِبۡرِيَآءُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِينَ ٧٨
They said, "Have you come to us to turn us away from that upon which we found our fathers and so that you two may have grandeur in the land? And we are not believers in you."