At-TakathurJuz 30 · Page 600

At-Takathur 102:7

The Rivalry in world increase · Juz 30 · Page 600

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ ٱلۡيَقِينِ ٧

Then you will surely see it with the eye of certainty.1

1 translator’s note
  1. i.e., with actual eyesight. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 102:1–8

غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔

[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔

[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔

[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘

[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 600

Al-Qari'ahJuz 30 · Page 600

100:10

وَحُصِّلَ مَا فِي ٱلصُّدُورِ ١٠

And that within the breasts is obtained,1

1 translator’s note
  1. i.e., when all secrets are made known. ↩

100:11

إِنَّ رَبَّهُم بِهِمۡ يَوۡمَئِذٖ لَّخَبِيرُۢ ١١

Indeed, their Lord with them, that Day, is [fully] Aware.1

1 translator’s note
  1. Fully acquainted and familiar with everything about each one of them. ↩

سورة القارعة

Al-Qari'ah

The Calamity · Meccan · 11 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

101:1

ٱلۡقَارِعَةُ ١

The Striking Calamity -

101:2

مَا ٱلۡقَارِعَةُ ٢

What is the Striking Calamity?

101:3

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡقَارِعَةُ ٣

And what can make you know what is the Striking Calamity?

101:4

يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ ٤

It is the Day when people will be like moths, dispersed,1

1 translator’s note
  1. The people will be as such after having been expelled from their graves. ↩

101:5

وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٱلۡمَنفُوشِ ٥

And the mountains will be like wool, fluffed up.1

1 translator’s note
  1. i.e., beginning to disintegrate. ↩

101:6

فَأَمَّا مَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ ٦

Then as for one whose scales are heavy [with good deeds],

101:7

فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ ٧

He will be in a pleasant life.

101:8

وَأَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ ٨

But as for one whose scales are light,

101:9

فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٞ ٩

His refuge1 will be an abyss.2

2 translator’s notes
  1. Literally, "mother" (a man's original refuge) , which will envelop him as in an embrace.

    [1978] i.e., the pit of Hellfire.

    ↩
  2. ↩

101:10

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا هِيَهۡ ١٠

And what can make you know what that is?

101:11

نَارٌ حَامِيَةُۢ ١١

It is a Fire, intensely hot.

سورة التكاثر

At-Takathur

The Rivalry in world increase · Meccan · 8 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

102:1

أَلۡهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ ١

Competition in [worldly] increase diverts you

102:2

حَتَّىٰ زُرۡتُمُ ٱلۡمَقَابِرَ ٢

Until you visit the graveyards.1

1 translator’s note
  1. i.e., remain in them temporarily, meaning until the Day of Resurrection. ↩

102:3

كـَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ٣

No! You are going to know.

102:4

ثُمَّ كـَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ٤

Then, no! You are going to know.

102:5

كـَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُونَ عِلۡمَ ٱلۡيَقِينِ ٥

No! If you only knew with knowledge of certainty...1

1 translator’s note
  1. The conclusion of this verse is estimated to be "...you would not have been distracted from preparing for the Hereafter." ↩

102:6

لَتَرَوُنَّ ٱلۡجَحِيمَ ٦

You will surely see the Hellfire.

102:7

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ ٱلۡيَقِينِ ٧

Then you will surely see it with the eye of certainty.1

1 translator’s note
  1. i.e., with actual eyesight. ↩

102:8

ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ ٨

Then you will surely be asked that Day about pleasure.1

1 translator’s note
  1. i.e., the comforts of worldly life and whether you were grateful to Allāh for His blessings. ↩
As-Sa'diTafsir · 102:7

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском