Hud 11:103
Hud · Juz 12 · Page 233
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ ٱلۡأٓخِرَةِۚ ذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّجۡمُوعٞ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّشۡهُودٞ ١٠٣
Indeed in that is a sign for those who fear the punishment of the Hereafter. That is a Day for which the people will be collected, and that is a Day [which will be] witnessed.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 11:103–108
بے شک اس میں یقینا نشان (عبرت) ہے اس شخص کے لیے جو ڈر گیا عذاب آخرت سے، وہ (یوم آخرت) ایک دن ہے کہ جمع کیے جائیں گے اس میں سب لوگ اور وہ دن ہے کہ حاضر کیے جائیں گے (اس میں سب)(103) اور نہیں مؤخر کرتے ہیں ہم اس دن کو مگر واسطے (پورا کرنے) وقت مقرر کے (104)(جب) وہ دن آجائے گا تو نہ کلام کرے گا کوئی نفس مگر اللہ کے حکم سے، پھر کوئی ان میں سے بد بخت ہو گا اور کوئی نیک بخت(105) پس لیکن وہ لوگ جو بدبخت ہو ں گے تو (وہ) آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا اور دھاڑنا ہو گا (106) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (آگ) میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، بے شک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کو جو وہ چاہتا ہے (107)اور لیکن وہ لوگ جو نیک بخت بنائے گئے تو (وہ) جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، (یہ اللہ کی) عطاء ہے نہ ختم ہونے والی (108)
[103]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک ان میں ‘‘ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں ۔ ﴿ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ ﴾ ’’یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ﴾ ’’اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا‘‘ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
[104]﴿ وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ ﴾ ’’ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴾ ’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
[105]﴿يَوۡمَ يَاۡتِ ﴾ ’’جس روز وہ آجائے گا۔‘‘ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا‘‘ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان میں سے بعض‘‘ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَقِيٌّ وَّسَعِيۡدٌ ﴾ ’’بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں ‘‘ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں ۔
[106]﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا﴾ ’’تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِي النَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا’’ان كے ليے اس ميں ‘‘ يعني اس سختي كي وجه سے جس ميں وه مبتلا هوں گے۔ ﴿ زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ﴾ ’’چیخنا ہے اور دھاڑنا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
[107]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
[108]﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا﴾ ’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَفِي الۡجَنَّةِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
Page 233
11:98
يَقۡدُمُ قَوۡمَهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَأَوۡرَدَهُمُ ٱلنَّارَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡوِرۡدُ ٱلۡمَوۡرُودُ ٩٨
He will precede his people on the Day of Resurrection and lead them into the Fire; and wretched is the place to which they are led.
11:99
وَأُتۡبِعُواْ فِي هَٰذِهِۦ لَعۡنَةٗ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ بِئۡسَ ٱلرِّفۡدُ ٱلۡمَرۡفُودُ ٩٩
And they were followed in this [world] with a curse and on the Day of Resurrection. And wretched is the gift1 which is given.
1 translator’s note
- i.e., the curse which follows them in both worlds. ↩
11:100
ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡقُرَىٰ نَقُصُّهُۥ عَلَيۡكَۖ مِنۡهَا قَآئِمٞ وَحَصِيدٞ ١٠٠
That is from the news of the cities, which We relate to you; of them, some are [still] standing and some are [as] a harvest [mowed down].1
1 translator’s note
- Their structures have been completely destroyed. ↩
11:101
وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡۖ فَمَآ أَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ ءَالِهَتُهُمُ ٱلَّتِي يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖ لَّمَّا جَآءَ أَمۡرُ رَبِّكَۖ وَمَا زَادُوهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيبٖ ١٠١
And We did not wrong them, but they wronged themselves. And they were not availed at all by their gods which they invoked other than Allāh when there came the command of your Lord. And they did not increase them in other than ruin.
11:102
وَكَذَٰلِكَ أَخۡذُ رَبِّكَ إِذَآ أَخَذَ ٱلۡقُرَىٰ وَهِيَ ظَٰلِمَةٌۚ إِنَّ أَخۡذَهُۥٓ أَلِيمٞ شَدِيدٌ ١٠٢
And thus is the seizure of your Lord when He seizes the cities while they are committing wrong. Indeed, His seizure is painful and severe.
11:103
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ ٱلۡأٓخِرَةِۚ ذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّجۡمُوعٞ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّشۡهُودٞ ١٠٣
Indeed in that is a sign for those who fear the punishment of the Hereafter. That is a Day for which the people will be collected, and that is a Day [which will be] witnessed.
11:104
وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّا لِأَجَلٖ مَّعۡدُودٖ ١٠٤
And We do not delay it except for a limited term.
11:105
يَوۡمَ يَأۡتِ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ فَمِنۡهُمۡ شَقِيّٞ وَسَعِيدٞ ١٠٥
The Day it comes no soul will speak except by His permission. And among them will be the wretched and the prosperous.
11:106
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ ١٠٦
As for those who were [destined to be] wretched, they will be in the Fire. For them therein is [violent] exhaling and inhaling.1
1 translator’s note
- i.e., their sighs and sobs, resembling the bray of a donkey. ↩
11:107
خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٞ لِّمَا يُرِيدُ ١٠٧
[They will be] abiding therein as long as the heavens and the earth endure, except what your Lord should will. Indeed, your Lord is an effecter of what He intends.
11:108
۞ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُواْ فَفِي ٱلۡجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۖ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوذٖ ١٠٨
And as for those who were [destined to be] prosperous, they will be in Paradise, abiding therein as long as the heavens and the earth endure, except what your Lord should will - a bestowal uninterrupted.