Hud 11:43
Hud · Juz 12 · Page 226
قَالَ سَـَٔاوِيٓ إِلَىٰ جَبَلٖ يَعۡصِمُنِي مِنَ ٱلۡمَآءِۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلۡيَوۡمَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَۚ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا ٱلۡمَوۡجُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡمُغۡرَقِينَ ٤٣
[But] he said, "I will take refuge on a mountain to protect me from the water." [Noah] said, "There is no protector today from the decree of Allāh, except for whom He gives mercy." And the waves came between them, and he was among the drowned.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 11:25–49
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
Page 226
11:38
وَيَصۡنَعُ ٱلۡفُلۡكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَأٞ مِّن قَوۡمِهِۦ سَخِرُواْ مِنۡهُۚ قَالَ إِن تَسۡخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسۡخَرُ مِنكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُونَ ٣٨
And he constructed the ship, and whenever an assembly of the eminent of his people passed by him, they ridiculed him. He said, "If you ridicule us, then we will ridicule you just as you ridicule.
11:39
فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن يَأۡتِيهِ عَذَابٞ يُخۡزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٞ مُّقِيمٌ ٣٩
And you are going to know who will get a punishment that will disgrace him [on earth] and upon whom will descend an enduring punishment [in the Hereafter]."
11:40
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلۡنَا ٱحۡمِلۡ فِيهَا مِن كُلّٖ زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيۡهِ ٱلۡقَوۡلُ وَمَنۡ ءَامَنَۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٞ ٤٠
[So it was], until when Our command came and the oven overflowed,1 We said, "Load upon it [i.e., the ship] of each [creature] two mates and your family, except those about whom the word [i.e., decree] has preceded, and [include] whoever has believed." But none had believed with him, except a few.
1 translator’s note
- As a sign to Noah of the imminence of the flood. The tannūr is a large, rounded oven. The word can also mean the earth's lowlands. ↩
11:41
۞ وَقَالَ ٱرۡكَبُواْ فِيهَا بِسۡمِ ٱللَّهِ مَجۡر۪ىٰهَا وَمُرۡسَىٰهَآۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ ٤١
And [Noah] said, "Embark therein; in the name of Allāh [are] its course and its anchorage. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful."
11:42
وَهِيَ تَجۡرِي بِهِمۡ فِي مَوۡجٖ كَٱلۡجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبۡنَهُۥ وَكَانَ فِي مَعۡزِلٖ يَٰبُنَيَّ ٱرۡكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٤٢
And it sailed with them through waves like mountains, and Noah called to his son who was apart [from them], "O my son, come aboard with us and be not with the disbelievers."
11:43
قَالَ سَـَٔاوِيٓ إِلَىٰ جَبَلٖ يَعۡصِمُنِي مِنَ ٱلۡمَآءِۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلۡيَوۡمَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَۚ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا ٱلۡمَوۡجُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡمُغۡرَقِينَ ٤٣
[But] he said, "I will take refuge on a mountain to protect me from the water." [Noah] said, "There is no protector today from the decree of Allāh, except for whom He gives mercy." And the waves came between them, and he was among the drowned.
11:44
وَقِيلَ يَٰٓأَرۡضُ ٱبۡلَعِي مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقۡلِعِي وَغِيضَ ٱلۡمَآءُ وَقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ وَٱسۡتَوَتۡ عَلَى ٱلۡجُودِيِّۖ وَقِيلَ بُعۡدٗا لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٤٤
And it was said, "O earth, swallow your water, and O sky, withhold [your rain]." And the water subsided, and the matter was accomplished, and it [i.e., the ship] came to rest on the [mountain of] Jūdiyy. And it was said, "Away with the wrongdoing people."
11:45
وَنَادَىٰ نُوحٞ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبۡنِي مِنۡ أَهۡلِي وَإِنَّ وَعۡدَكَ ٱلۡحَقُّ وَأَنتَ أَحۡكَمُ ٱلۡحَٰكِمِينَ ٤٥
And Noah called to his Lord and said, "My Lord, indeed my son is of my family; and indeed, Your promise is true; and You are the most just of judges!"