Hud 11:62
Hud · Juz 12 · Page 228
قَالُواْ يَٰصَٰلِحُ قَدۡ كُنتَ فِينَا مَرۡجُوّٗا قَبۡلَ هَٰذَآۖ أَتَنۡهَىٰنَآ أَن نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ ٦٢
They said, "O Ṣāliḥ, you were among us a man of promise before this. Do you forbid us to worship what our fathers worshipped? And indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 11:61–68
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
Page 228
11:54
إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعۡتَرَىٰكَ بَعۡضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوٓءٖۗ قَالَ إِنِّيٓ أُشۡهِدُ ٱللَّهَ وَٱشۡهَدُوٓاْ أَنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ ٥٤
We only say that some of our gods have possessed you with evil [i.e., insanity]." He said, "Indeed, I call Allāh to witness, and witness [yourselves] that I am free from whatever you associate with Allāh
11:55
مِن دُونِهِۦۖ فَكِيدُونِي جَمِيعٗا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ ٥٥
Other than Him. So plot against me all together; then do not give me respite.
11:56
إِنِّي تَوَكَّلۡتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذُۢ بِنَاصِيَتِهَآۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٥٦
Indeed, I have relied upon Allāh, my Lord and your Lord. There is no creature but that He holds it by its forelock [i.e., controls it]. Indeed, my Lord is on a path [that is] straight.
11:57
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُم مَّآ أُرۡسِلۡتُ بِهِۦٓ إِلَيۡكُمۡۚ وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّي قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيظٞ ٥٧
But if you turn away, then I have already conveyed that with which I was sent to you. My Lord will give succession to a people other than you, and you will not harm Him at all. Indeed my Lord is, over all things, Guardian."1
1 translator’s note
- Protecting and preserving the existence and attributes of His creations. ↩
11:58
وَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا هُودٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَنَجَّيۡنَٰهُم مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيظٖ ٥٨
And when Our command came, We saved Hūd and those who believed with him, by mercy from Us; and We saved them from a harsh punishment.
11:59
وَتِلۡكَ عَادٞۖ جَحَدُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ وَعَصَوۡاْ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٖ ٥٩
And that was ʿAad, who rejected the signs of their Lord and disobeyed His messengers and followed the order of every obstinate tyrant.
11:60
وَأُتۡبِعُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا لَعۡنَةٗ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَآ إِنَّ عَادٗا كَفَرُواْ رَبَّهُمۡۗ أَلَا بُعۡدٗا لِّعَادٖ قَوۡمِ هُودٖ ٦٠
And they were [therefore] followed in this world with a curse and [as well] on the Day of Resurrection. Unquestionably, ʿAad denied their Lord; then away with ʿAad, the people of Hūd.
11:61
۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَٱسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِيهَا فَٱسۡتَغۡفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٞ مُّجِيبٞ ٦١
And to Thamūd [We sent] their brother Ṣāliḥ. He said, "O my people, worship Allāh; you have no deity other than Him. He has produced you from the earth and settled you in it, so ask forgiveness of Him and then repent to Him. Indeed, my Lord is near and responsive."
11:62
قَالُواْ يَٰصَٰلِحُ قَدۡ كُنتَ فِينَا مَرۡجُوّٗا قَبۡلَ هَٰذَآۖ أَتَنۡهَىٰنَآ أَن نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ ٦٢
They said, "O Ṣāliḥ, you were among us a man of promise before this. Do you forbid us to worship what our fathers worshipped? And indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt."