HudJuz 12 · Page 231

Hud 11:84

Hud · Juz 12 · Page 231

۞ وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ وَلَا تَنقُصُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَۖ إِنِّيٓ أَرَىٰكُم بِخَيۡرٖ وَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ مُّحِيطٖ ٨٤

And to Madyan [We sent] their brother Shuʿayb. He said, "O my people, worship Allāh; you have no deity other than Him. And do not decrease from the measure and the scale. Indeed, I see you in prosperity, but indeed, I fear for you the punishment of an all-encompassing Day.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 11:84–95

اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)

[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔

[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔

[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔

[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 231

HudJuz 12 · Page 231

11:82

فَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا جَعَلۡنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةٗ مِّن سِجِّيلٖ مَّنضُودٖ ٨٢

So when Our command came, We made the highest part [of the city] its lowest and rained upon them stones of layered hard clay, [which were]

11:83

مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَۖ وَمَا هِيَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ بِبَعِيدٖ ٨٣

Marked from your Lord. And it [i.e., Allāh's punishment] is not from the wrongdoers [very] far.

11:84

۞ وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ وَلَا تَنقُصُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَۖ إِنِّيٓ أَرَىٰكُم بِخَيۡرٖ وَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ مُّحِيطٖ ٨٤

And to Madyan [We sent] their brother Shuʿayb. He said, "O my people, worship Allāh; you have no deity other than Him. And do not decrease from the measure and the scale. Indeed, I see you in prosperity, but indeed, I fear for you the punishment of an all-encompassing Day.

11:85

وَيَٰقَوۡمِ أَوۡفُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ ٨٥

And O my people, give full measure and weight in justice and do not deprive the people of their due and do not commit abuse on the earth, spreading corruption.

11:86

بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِحَفِيظٖ ٨٦

What remains [lawful] from Allāh is best for you, if you would be believers. But I am not a guardian over you."

11:87

قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأۡمُرُكَ أَن نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوۡ أَن نَّفۡعَلَ فِيٓ أَمۡوَٰلِنَا مَا نَشَٰٓؤُاْۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلۡحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ ٨٧

They said, "O Shuʿayb, does your prayer [i.e., religion] command you that we should leave what our fathers worship or not do with our wealth what we please? Indeed, you are the forbearing, the discerning!"1

1 translator’s note
  1. This is a sarcastic description implying the opposite. ↩

11:88

قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أُخَالِفَكُمۡ إِلَىٰ مَآ أَنۡهَىٰكُمۡ عَنۡهُۚ إِنۡ أُرِيدُ إِلَّا ٱلۡإِصۡلَٰحَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُۚ وَمَا تَوۡفِيقِيٓ إِلَّا بِٱللَّهِۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ ٨٨

He said, "O my people, have you considered: if I am upon clear evidence from my Lord and He has provided me with a good provision from Him...?1 And I do not intend to differ from you in that which I have forbidden you; I only intend reform as much as I am able. And my success is not but through Allāh. Upon Him I have relied, and to Him I return.2

2 translator’s notes
  1. The conclusion of the sentence is estimated as "...would it not be my duty to warn you against corruption and disobedience?"

    [574] i.e., I turn to Allāh frequently in supplication and repentance.

    ↩
  2. ↩
As-Sa'diTafsir · 11:84

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском