Yusuf 12:109
Joseph · Juz 13 · Page 248
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰٓۗ أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۗ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ١٠٩
And We sent not before you [as messengers] except men to whom We revealed from among the people of cities. So have they1 not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? And the home of the Hereafter is best for those who fear Allāh; then will you not reason?
1 translator’s note
- Those who deny Prophet Muḥammad (ﷺ). ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 12:108–109
(اے پیغمبر!) کہہ دیجیے، یہی ہے راستہ میرا، میں بلاتا ہوں (تمھیں ) طرف اللہ کی، اوپر بصیرت کے ہوں میں اور وہ لوگ جنھوں نے میری پیروی کی اور پاک ہے اللہ (شریکوں سے)اور نہیں میں مشرکوں میں سے (108) اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے آپ سے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، بستیوں کے رہنے والوں میں سے، کیا پس نہیں سير کی انھوں نے زمین میں ، پس دیکھتے وہ کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ اور البتہ گھر آخرت کا بہت بہتر ہے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا، کیا پس نہیں عقل پکڑتے تم؟(109)
[108] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ ﴾ ’’(لوگوں سے) کہہ دیجیے!‘‘ ﴿ هٰؔذِهٖ سَبِيۡلِيۡۤ ﴾ ’’یہ میرا راستہ ہے‘‘ جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں ، یہ راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے جو علم حق، اس پر عمل کرنے، اس کو ترجیح دینے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص دین کو متضمن ہے۔ ﴿ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام مخلوق اور تمام بندوں کو اپنے رب کے پاس پہنچنے پر آمادہ کرتا ہوں اور انھیں اس کی ترغیب دیتا ہوں اور انھیں ان تمام امور سے ڈراتا ہوں جو انھیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا﴾ ’’سمجھ بوجھ کر‘‘ یعنی میں اپنے دین کے بارے میں بغیر کسی شک و شبہ کے پورے علم و یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَنِيۡ﴾ ’’اور میرے متبعین بھی‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جیسے میں اللہ تعالیٰ کے معاملے میں پوری بصیرت اور یقین کے ساتھ اس کی طرف بلاتا ہوں ۔ ﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے تمام امور کی نسبت سے پاک ہے جو اس کے کمال کے منافی ہیں اور اس کے جلال کے لائق نہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’ میں کسی بھی معاملے میں مشرکین میں شامل نہیں ‘‘ بلکہ دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔
[109]﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی رسول بنا کر بھیجے‘‘ یعنی ہم انسانوں کی ہدایت کے لیے فرشتے یا کوئی اور مخلوق نہیں بھیجتے۔ تب آپﷺ کی قوم کو آپ کی رسالت میں کون سی چیز انوکھی نظر آرہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ان پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پس آپ کے لیے انبیائے سابقین میں اسوۂ حسنہ ہے۔ ﴿ نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى ﴾ ’’ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، (وہ) بستیوں کے رہنے والے ہیں‘‘ یعنی یہ انبیائے کرام صحراؤں میں رہنے والے نہیں تھے بلکہ بستیوں میں رہنے والے تھے جو سب سے زیادہ کامل عقل اور سب سے زیادہ صحیح رائے کے حامل تھے تاکہ ان کا معاملہ نہایت واضح اور ان کی شان نمایاں ہو۔ ﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا پس انھوں نے زمین کی سیر نہیں کی‘‘ جب وہ آپﷺ کی بات کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر کیا انھوں نے چل پھر کر نہیں دیکھا ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔‘‘ یعنی اور وہ دیکھتے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا۔ لہذا تم بھی اس رویہ کو اختیار کرنے سے بچو جس رویے پر وہ قائم رہے ہیں ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جو ان پر نازل ہوا تھا۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت کا گھر‘‘ یعنی جنت اور جنت کی دائمی نعمتیں ﴿ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا﴾ ’’ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو پرہیز گار ہیں ‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ دنیا کی نعمتیں منقطع ہو کر ختم ہو جانے والی ہیں ۔ آخرت کی نعمت کامل اور کبھی نہ فنا ہونے والی ہے بلکہ وہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے ﴿عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ﴾(ھود:11؍108) ’’یہ (اللہ تعالیٰ کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی‘‘ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ یعنی کیا تمھارے پاس اتنی سی بھی عقل نہیں جو اعلیٰ کو ادنیٰ پر ترجیح دے سکے۔
Page 248
12:104
وَمَا تَسۡـَٔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٠٤
And you do not ask of them for it any payment. It is not except a reminder to the worlds.
12:105
وَكَأَيِّن مِّنۡ ءَايَةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ يَمُرُّونَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُونَ ١٠٥
And how many a sign within the heavens and earth do they pass over while they, therefrom, are turning away.
12:106
وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ ١٠٦
And most of them believe not in Allāh except while they associate others with Him.
12:107
أَفَأَمِنُوٓاْ أَن تَأۡتِيَهُمۡ غَٰشِيَةٞ مِّنۡ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوۡ تَأۡتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ١٠٧
Then do they feel secure that there will not come to them an overwhelming [aspect] of the punishment of Allāh or that the Hour will not come upon them suddenly while they do not perceive?
12:108
قُلۡ هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٠٨
Say, "This is my way; I invite to Allāh with insight, I and those who follow me. And exalted is Allāh; and I am not of those who associate others with Him."
12:109
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰٓۗ أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۗ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ١٠٩
And We sent not before you [as messengers] except men to whom We revealed from among the people of cities. So have they1 not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? And the home of the Hereafter is best for those who fear Allāh; then will you not reason?
1 translator’s note
- Those who deny Prophet Muḥammad (ﷺ). ↩
12:110
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسۡتَيۡـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُواْ جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَآءُۖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُنَا عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ١١٠
[They continued] until, when the messengers despaired and were certain that they had been denied, there came to them Our victory, and whoever We willed was saved. And Our punishment cannot be repelled from the people who are criminals.
12:111
لَقَدۡ كَانَ فِي قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٞ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِۗ مَا كَانَ حَدِيثٗا يُفۡتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ١١١
There was certainly in their stories a lesson for those of understanding. Never was it [i.e., the Qur’ān] a narration invented, but a confirmation of what was before it and a detailed explanation of all things and guidance and mercy for a people who believe.