YusufJuz 12 · Page 237

Yusuf 12:18

Joseph · Juz 12 · Page 237

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٖ كَذِبٖۚ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ فَصَبۡرٞ جَمِيلٞۖ وَٱللَّهُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨

And they brought upon his shirt false blood.1 [Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. And Allāh is the one sought for help against that which you describe."

1 translator’s note
  1. They had stained Joseph's shirt with the blood of a lamb but had forgotten to tear it, thereby arousing their father's suspicion. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 12:15–18

پھر جب وہ لے گئے اسےاور عزم کرلیا انھوں نے یہ کہ ڈال دیں وہ اسے تہ میں کنویں کی اور وحی کی ہم نے اس کی طرف کہ تو ضرور خبر دے گا انھیں ان کے اس کام کی جبکہ وہ نہیں سمجھتے ہوں گے (15) اور آئے وہ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے (16)انھوں نے کہا، ابا جان! بے شک گئے تھے ہم مقابلہ کرتے تھے ہم دوڑ کا اور چھوڑ دیا تھا ہم نے یوسف کو نزدیک اپنے سامان کے، پس کھا گیا اسے بھیڑیااور نہیں تو یقین کرنے والا ہماری بات کا اگر چہ ہوں ہم سچے (17) اور (لگا) لائے وہ اوپر اس کی قمیص کے خون جھوٹا، یعقوب نے کہا، (حقیقت یہ نہیں )بلکہ بنا دی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے ایک بات، سو صبر ہی بہتر ہےاور اللہ (اسی سے) مدد طلب کی جاتی ہے اس پر جو تم بیان کرتے ہو (18)

[15] یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسفu کو ساتھ لے گئے اور انھوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسفu کو… جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے… اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے، ان کی طرف وحی کی ﴿ لَتُنَبِّئَنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰؔذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے‘‘ یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انھیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسفu کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔

[16]﴿ وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؔ ﴾ ’’اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے‘‘ تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔

[17] وہ جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے بولے: ﴿يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ﴾ ’’اباجان! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے۔‘‘ ابا جان! ہم مقابلہ کرنے لگ گئے تھے۔ یہ ’’مقابلہ‘‘ یا تو دوڑ کا مقابلہ تھا یا تیر اندازی اور نیزہ بازی کا۔ ﴿ وَتَرَؔكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا ﴾ ’’اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔‘‘ ہم نے سامان کی حفاظت اور یوسفu کے آرام کی خاطر اسے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا ﴿ فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ﴾ ’’تو اسے بھیڑیا کھاگیا۔‘‘ جب ہم مقابلہ کر رہے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں اسے بھیڑیا کھا گیا ﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡؔ كُنَّا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچے بھی ہوں ، باور نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی ہم یہ عذر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ہماری بات نہیں مانیں گے کیونکہ آپ کا دل یوسفu کے بارے میں سخت غم زدہ ہے۔ مگر آپ کا ہماری بات کو نہ ماننا اس بات سے مانع نہیں کہ ہم آپ کے سامنے حقیقی عذر پیش کریں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے عذر پر تاکید کے لیے تھا۔

[18]﴿ وَ﴾ اور انھوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا ﴿ جَآءُوۡ عَلٰى قَمِيۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ ’’وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے‘‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ یوسفu کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑیے نے یوسفu کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا ﴿ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا﴾ ’’انھوں (یعقوب) نے کہا بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے نفس نے میرے اور یوسفu کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے ایک برے کام کو تمھارے سامنے مزین کر دیا کیونکہ قرائن و احوال اور یوسفu کا خواب، یعقوبu کے اس قول پر دلالت کرتے تھے۔ ﴿ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ١ؕ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَؔ﴾ ’’اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔‘‘ یعنی رہا میں تو میرا وظیفہ… جس کو قائم رکھنا چاہتا ہوں … یہ ہے کہ میں اس آزمائش پر صبر جمیل سے کام لوں گا۔ مخلوق کے پاس اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہیں کروں گا۔ میں اپنے اس وظیفے پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہوں ۔ میں اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہیں کرتا۔ جناب یعقوبu نے اپنے دل میں اس امر کا وعدہ کیا اور اپنے خالق کے پاس اپنے اس صدمے کی شکایت ان الفاظ میں کی ﴿ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّيۡ وَحُزۡنِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾(یوسف: 12؍86) ’’میں تو اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ کے پاس کرتا ہوں ۔‘‘ کیونکہ خالق کے پاس شکوہ کرنا صبر کے منافی نہیں اور نبی جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 237

YusufJuz 12 · Page 237

12:15

فَلَمَّا ذَهَبُواْ بِهِۦ وَأَجۡمَعُوٓاْ أَن يَجۡعَلُوهُ فِي غَيَٰبَتِ ٱلۡجُبِّۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمۡرِهِمۡ هَٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ١٥

So when they took him [out] and agreed to put him into the bottom of the well...1 But We inspired to him, "You will surely inform them [someday] about this affair of theirs while they do not perceive [your identity]."

1 translator’s note
  1. The conclusion of this sentence is estimated to be "...they tormented him." ↩

12:16

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمۡ عِشَآءٗ يَبۡكُونَ ١٦

And they came to their father at night, weeping.

12:17

قَالُواْ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئۡبُۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤۡمِنٖ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صَٰدِقِينَ ١٧

They said, "O our father, indeed we went racing each other and left Joseph with our possessions, and a wolf ate him. But you would not believe us, even if we were truthful."

12:18

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٖ كَذِبٖۚ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ فَصَبۡرٞ جَمِيلٞۖ وَٱللَّهُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨

And they brought upon his shirt false blood.1 [Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. And Allāh is the one sought for help against that which you describe."

1 translator’s note
  1. They had stained Joseph's shirt with the blood of a lamb but had forgotten to tear it, thereby arousing their father's suspicion. ↩

12:19

وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٞ فَأَرۡسَلُواْ وَارِدَهُمۡ فَأَدۡلَىٰ دَلۡوَهُۥۖ قَالَ يَٰبُشۡرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٞۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةٗۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ ١٩

And there came a company of travelers; then they sent their water drawer, and he let down his bucket. He said, "Good news! Here is a boy." And they concealed him, [taking him] as merchandise;1 and Allāh was Knowing of what they did.

1 translator’s note
  1. To be sold as a slave. ↩

12:20

وَشَرَوۡهُ بِثَمَنِۭ بَخۡسٖ دَرَٰهِمَ مَعۡدُودَةٖ وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ ٢٠

And they sold him for a reduced price - a few dirhams - and they were, concerning him, of those content with little.

12:21

وَقَالَ ٱلَّذِي ٱشۡتَرَىٰهُ مِن مِّصۡرَ لِٱمۡرَأَتِهِۦٓ أَكۡرِمِي مَثۡوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗاۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٢١

And the one from Egypt1 who bought him said to his wife, "Make his residence comfortable. Perhaps he will benefit us, or we will adopt him as a son." And thus, We established Joseph in the land that We might teach him the interpretation of events [i.e., dreams]. And Allāh is predominant over His affair, but most of the people do not know.

1 translator’s note
  1. The minister in charge of supplies, whose title was al-ʿAzeez. ↩

12:22

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٢٢

And when he [i.e., Joseph] reached maturity, We gave him judgement and knowledge. And thus We reward the doers of good.

As-Sa'diTafsir · 12:18

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском