YusufJuz 12 · Page 241

Yusuf 12:45

Joseph · Juz 12 · Page 241

وَقَالَ ٱلَّذِي نَجَا مِنۡهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعۡدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأۡوِيلِهِۦ فَأَرۡسِلُونِ ٤٥

But the one who was freed and remembered after a time said, "I will inform you of its interpretation, so send me forth."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 12:43–49

اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)

[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘

[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے سکے، پھر آدمu سے سوال کیا انھوں نے فرشتوں کو ہر چیز کا نام بتا دیا اور اس طرح فرشتوں پر آدمu کی فضیلت ثابت ہوگئی۔اسی طرح قیامت کے روز، اللہ کی مخلوق میں بہترین ہستی، جناب محمد مصطفیﷺ کی فضیلت ظاہر ہوگی، اللہ مخلوق کو الہام کرے گا اور تمام مخلوق جناب آدم، پھر جناب نوح، پھر جناب ابراہیم، پھر جناب موسیٰ اور پھر جناب عیسیٰ ( علیہ السلام ) سے شفاعت کی درخواست کرے گی مگر وہ معذرت کر دیں گے، پھر تمام مخلوق نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی استدعا کرے گی جسے قبول کرتے ہوئے رسول اللہﷺ فرمائیں گے ’’ہاں میں شفاعت کروں گا‘‘ ’’میں اس کا مستحق ہوں ‘‘… اور یوں آپ تمام مخلوق کی شفاعت کریں گے اور اس طرح وہ اس مقام محمود پر فائز ہوں گے جس پر اولین و آخرین رشک کریں گے۔ پاک ہے وہ ذات جس کا لطف و کرم مخفی ہے اور وہ اپنے اولیاء و اصفیاء اور اپنے خاص بندوں کو نہایت دقیق طریقے سے اپنے فضل و احسان سے نوازتی ہے۔

[45]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡ نَجَا مِنۡهُمَا ﴾ ’’ان دو نوجوانوں میں سے جو بچ گیا تھا، اس نے کہا‘‘ اور یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نچوڑ رہا ہے جس سے یوسفu نے کہا تھا کہ وہ اپنے آقا کے پاس ان کا ذکر کرے ﴿ وَادَّؔكَرَ بَعۡدَ اُمَّؔةٍ ﴾ ’’اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی۔‘‘ یعنی کئی سال کی مدت کے بعد اسے یوسفu اور ان کا ان دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر بتانا اور یوسفu کا وصیت کرنا یاد آیا اور اسے معلوم تھا کہ اس خواب کی تعبیر صرف یوسفu ہی بتا سکتے ہیں ۔ اس لیے وہ کہنے لگا: ﴿ اَنَا اُنَبِّئُكُمۡ بِتَاۡوِيۡلِهٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ﴾ ’’میں بتاؤں تم کو اس کی تعبیر، پس تم مجھے بھیجو‘‘ یعنی مجھے یوسفu کے پاس بھیجو تاکہ میں ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھ سکوں ۔

[46] انھوں نے اسے بھیج دیا وہ یوسفu کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یوسفu نے اس کے فراموش کر دینے پر اس پر عتاب نہیں فرمایا بلکہ اس نے جو کچھ پوچھا یوسفu نے اسے نہایت غور سے سنا اور اس کے سوال کا جواب دیا۔ اس شخص نے کہا تھا: ﴿يُوۡسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيۡقُ﴾ ’’اے یوسف، اے سچے! ‘‘ یعنی اپنے اقوال و افعال میں بہت ہی سچے شخص۔ ﴿ اَفۡتِنَا فِيۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعِ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّيۡۤ اَرۡجِـعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلاؤ، کہ سات موٹی گائیں ، ان کو سات کمزور گائیں کھا جاتی ہیں اور سات ہری بالیاں ، دوسری خشک بالیوں کو تاکہ میں لوگوں کی طرف واپس جاؤں شاید ان کو معلوم ہو‘‘ کیونکہ اس خواب نے ان لوگوں کو سخت پریشان کر رکھا ہے اور وہ اس خواب کی تعبیر جاننے کے لیے سخت بے تاب ہیں ۔

[47] یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے کہا کہ سات موٹی تازی گایوں اور سات ہری بالیوں سے سات آئندہ سالوں کی سرسبزی و شادابی کی طرف اشارہ ہے اور سات لاغر اور کمزور گایوں اور سات سوکھی بالیوں سے شادابی کے بعد آنے والی خشک سالی اور قحط کے سات سالوں کی طرف اشارہ ہے۔ اس تعبیر کا پہلو غالباً یہ ہے… اللہ اعلم… چونکہ کھیتی کا دارومدار شادابی اور خشک سالی پر ہے، جب شادابی آتی ہے تو کھیتیوں اور فصلوں کو طاقت ملتی ہے، وہ خوشنما نظر آتی ہیں ، غلے کی بہتات ہوتی ہے، قحط سالی میں کھیتیوں کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ گیہوں کی بالیاں سب سے اچھی اور سب سے بڑی خوراک لیے ہوئے ہوتی ہیں ، وجود مناسبت کی بنا پر یوسفu نے تعبیر بیان کی۔اس خواب کی تعبیر بتانے کے ساتھ ساتھ جناب یوسفu نے اس طرف بھی اشارہ کر دیا کہ انھیں کیا کرنا چاہیے۔ شادابی کے سالوں کے دوران قحط سالی کا مقابلہ کرنے کے لیے انھیں کیسے تیاری کرنی چاہیے اور کیا کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ تَزۡرَعُوۡنَؔ سَبۡعَ سِنِيۡنَ دَاَبًا﴾ ’’تم لگاتار سات سال تک (شادابی کی وجہ سے) کھیتی باڑی کرتے رہو گے‘‘ ﴿ فَمَا حَصَدۡتُّمۡ ﴾ ’’پس جو فصلیں تم کاٹو‘‘ ﴿ فَذَرُوۡهُ﴾ ’’تو اس (فصل) کو چھوڑ دو۔‘‘ ﴿ فِيۡ سُنۢۡبُلِهٖۤ ﴾ ’’اس کے خوشوں میں ‘‘ کیونکہ اس سے غلہ زیادہ عرصہ تک باقی رہ سکتا ہے اور تلف ہونے کا امکان بعید تر ہوتا ہے ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔمَّا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ ’’تھوڑے غلے کے سوا جو تم کھاتے ہو۔‘‘ یعنی شادابی کے ان دنوں میں اپنی خوراک کا اس طرح انتظام کرو کہ کم سے کم خوراک استعمال کرو تاکہ زیادہ سے زیادہ خوراک کا ذخیرہ کر سکو۔ جس کا فائدہ اور وقعت زیادہ ہوگی۔

[48]﴿ ثُمَّ يَاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس کے بعد آئیں گے۔‘‘ یعنی شادابی کے ان سات سالوں کے بعد ﴿ سَبۡعٌ شِدَادٌ ﴾ ’’خشک سالی اور سخت قحط کے سات سال آئیں گے۔‘‘ ﴿ يَّاۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ ﴾ ’’ (یعنی قحط کے یہ سات سال) وہ سب کچھ کھا جائیں گے جو کچھ تم نے ذخیرہ کیا ہوگا‘‘ خواہ کتنا ہی زیادہ ذخیرہ کیوں نہ کیا ہو۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔمَّا تُحۡصِنُوۡنَؔ﴾ ’’مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے تم بیج کے واسطے‘‘ یعنی جنھیں تم اصلی فصل کی تیاری کے لیے روک کر رکھو گے۔

[49]﴿ ثُمَّ يَاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس کے بعد آئے گا۔‘‘ یعنی سخت قحط سالی کے ان سات سالوں کے بعد ﴿ عَامٌ فِيۡهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيۡهِ يَعۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’ایک سال، اس میں لوگوں پر بارش ہو گی اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے‘‘ یعنی اس سال بہت کثرت سے بارشیں ہوں گی، بہت زیادہ سیلاب آئیں گے۔ کثرت سے غلہ پیدا ہوگا جو ان کی خوراک کی ضروریات سے زیادہ ہوگا، حتیٰ کہ وہ انگوروں کا رس نچوڑیں گے جو ان کے کھانے سے زیادہ ہوں گے۔شاید اس شادابی اور سرسبز سال پر استدلال اس لیے کیا… حالانکہ بادشاہ کے خواب میں اس سال کی صراحت نہیں تھی… کہ یوسفu نے سات سالہ قحط کی تعبیر سے سمجھا کہ ان کے بعد آنے والے سال میں قحط کی شدت زائل ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ سات سال کا لگاتار قحط بکثرت شادابی کے ذریعے ہی سے ختم ہو سکتا ہے ورنہ اندازے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 241

YusufJuz 12 · Page 241

12:44

قَالُوٓاْ أَضۡغَٰثُ أَحۡلَٰمٖۖ وَمَا نَحۡنُ بِتَأۡوِيلِ ٱلۡأَحۡلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ ٤٤

They said, "[It is but] a mixture of false dreams, and we are not learned in the interpretation of dreams."

12:45

وَقَالَ ٱلَّذِي نَجَا مِنۡهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعۡدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأۡوِيلِهِۦ فَأَرۡسِلُونِ ٤٥

But the one who was freed and remembered after a time said, "I will inform you of its interpretation, so send me forth."

12:46

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفۡتِنَا فِي سَبۡعِ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ وَسَبۡعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضۡرٖ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٖ لَّعَلِّيٓ أَرۡجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٤٦

[He said], "Joseph, O man of truth, explain to us about seven fat cows eaten by seven [that were] lean, and seven green spikes [of grain] and others [that were] dry - that I may return to the people [i.e., the king and his court]; perhaps they will know [about you]."

12:47

قَالَ تَزۡرَعُونَ سَبۡعَ سِنِينَ دَأَبٗا فَمَا حَصَدتُّمۡ فَذَرُوهُ فِي سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تَأۡكُلُونَ ٤٧

[Joseph] said, "You will plant for seven years consecutively; and what you harvest leave in its spikes, except a little from which you will eat.

12:48

ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ سَبۡعٞ شِدَادٞ يَأۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تُحۡصِنُونَ ٤٨

Then will come after that seven difficult [years] which will consume what you advanced [i.e., saved] for them, except a little from which you will store.

12:49

ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَامٞ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعۡصِرُونَ ٤٩

Then will come after that a year in which the people will be given rain and in which they will press [olives and grapes]."

12:50

وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرۡجِعۡ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسۡـَٔلۡهُ مَا بَالُ ٱلنِّسۡوَةِ ٱلَّٰتِي قَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيمٞ ٥٠

And the king said, "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Joseph] said, "Return to your master and ask him what is the case of the women who cut their hands. Indeed, my Lord is Knowing of their plan."

12:51

قَالَ مَا خَطۡبُكُنَّ إِذۡ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفۡسِهِۦۚ قُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِن سُوٓءٖۚ قَالَتِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡـَٰٔنَ حَصۡحَصَ ٱلۡحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفۡسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٥١

Said [the king to the women], "What was your condition when you sought to seduce Joseph?" They said, "Perfect is Allāh!1 We know about him no evil." The wife of al-ʿAzeez said, "Now the truth has become evident. It was I who sought to seduce him, and indeed, he is of the truthful.

1 translator’s note
  1. In His ability to create such purity of character. ↩

12:52

ذَٰلِكَ لِيَعۡلَمَ أَنِّي لَمۡ أَخُنۡهُ بِٱلۡغَيۡبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي كَيۡدَ ٱلۡخَآئِنِينَ ٥٢

That is so he [i.e., al-ʿAzeez] will know that I did not betray him in [his] absence and that Allāh does not guide the plan of betrayers.

As-Sa'diTafsir · 12:45

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском