YusufJuz 13 · Page 244

Yusuf 12:72

Joseph · Juz 13 · Page 244

قَالُواْ نَفۡقِدُ صُوَاعَ ٱلۡمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمۡلُ بَعِيرٖ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٞ ٧٢

They said, "We are missing the measure of the king. And for he who produces it is [the reward of] a camel's load, and I am responsible for it."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 12:69–79

اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)

[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔

[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔

[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ وَاَقۡبَلُوۡا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کی طرف متوجہ ہوئے‘‘ تہمت کو دور کرنے کے لیے کیونکہ چور ہمیشہ اس شخص سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے جس کی اس نے چوری کی ہو تاکہ اس کی چوری پکڑی نہ جائے اور یہ لوگ ان کے پاس واپس آگئے، تہمت کے ازالے کے سوا ان کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس صورت میں انھوں نے اعلان کرنے والوں سے پوچھا ﴿ مَّاذَا تَفۡقِدُوۡنَؔ ﴾ ’’تمھاری کیا چیز گم ہوگئی ہے؟‘‘ انھوں نے یہ نہیں پوچھا ’’ہم نے تمھاری کیا چیز چرا لی ہے؟‘‘ کیونکہ وہ چوری کے اس الزام سے اپنے آپ کو یقینی طور پر بری سمجھتے تھے۔

[72]﴿ قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِكِ وَلِمَنۡ جَآءَ بِهٖ حِمۡلُ بَعِيۡرٍ ﴾ ’’ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے گا، اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے‘‘ یعنی اس کو ڈھونڈنے کی اجرت میں ایک بار شتر اناج ملے گا ﴿ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيۡمٌ﴾ ’’اور میں اس کا ضامن ہوں ۔‘‘ یعنی یہ اناج دلانے کا میں ذمہ لیتا ہوں ، یہ بات تلاش کرنے والے نے کہی تھی۔

[73]﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’انھوں نے کہا، اللہ کی قسم، تم جانتے ہو، ہم ملک میں بگاڑ ڈالنے کے لیے نہیں آئے‘‘ گناہوں کی تمام اقسام کے ذریعے سے ﴿ وَمَا كُنَّا سٰؔرِقِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم چور ہی ہیں ‘‘ کیونکہ چوری فساد فی الارض کی سب سے بڑی قسم ہے۔انھوں نے قسم اس لیے اٹھائی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ فساد پھیلانے والے ہیں نہ چور۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے احوال کی خوب جانچ پڑتال ہوئی ہے جو ان کی پاکیزگی اور پرہیزگاری پر دلالت کرتی ہے اور یہ کام ان کے علم سے نہیں ہو سکتا جن پر وہ چوری کی تہمت لگا رہے ہیں … یہ پیرایہ چوری کی تہمت کی نفی میں اس فقرے سے زیادہ بلیغ ہے (تَاللہِ لَمْ نُفْسِدْ فِیْ الْاَرْضِ وَلَمْ نَسْرِقْ) ’’اللہ کی قسم ہم نے زمین میں فساد کیا ہے نہ ہم نے چوری کی ہے۔‘‘

[74]﴿قَالُوۡا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا تو اس کی جزا کیا ہے۔‘‘ یعنی اس فعل کی جزا کیا ہوگی ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ كٰذِبِيۡنَ﴾ ’’اگر تم جھوٹے ہوئے‘‘ یعنی اگر بادشاہ کا پیمانہ تمھارے پاس ہوا؟

[75]﴿ قَالُوۡا جَزَآؤُهٗ مَنۡ وُّجِدَ فِيۡ رَحۡلِهٖ فَهُوَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کی جزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ پایا جائے تو وہی‘‘ یعنی جس کے سامان میں موجود ہوگا ﴿ جَزَآؤُهٗ﴾ ’’اس کی جزا ہے‘‘ یعنی جس کی چوری کی گئی ہے وہ اس کا مالک بن جائے گا، ان کے دین میں چوری کی سزا یہ تھی کہ اگر اس پر چوری کا الزام ثابت ہو جاتا تو وہ مال مسروقہ کے مالک کی ملکیت بن جاتا۔ اسی لیے انھوں نے کہا:﴿ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘

[76]﴿ فَبَدَاَ بِاَوۡعِيَتِهِمۡ۠ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے سامان کو دیکھنا شروع کیا۔‘‘ یعنی تلاشی لینے والے نے پہلے یوسفu کے بھائیوں کی خرجیوں کی تلاشی لی تاکہ وہ شک زائل ہو جائے کہ سب کچھ قصداً کیا گیا ہے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘یعنی جب بھائیوں کی خرجیوں سے کچھ نہ ملا ﴿ اسۡتَخۡرَجَهَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِيۡهِ﴾ ’’اس برتن کو نکال لیا اپنے بھائی کی خرجی سے‘‘ یعنی حقیقت واقعہ کی رعایت رکھتے ہوئے (وَجَدَھَا) یا (سَرَقَھَا) نہیں کہا۔اس طرح یوسفu کے اس منصوبے کی تکمیل ہوگئی جس کے مطابق وہ اپنے بھائی کو اس طرح اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے کہ ان کے بھائیوں کو اصل صورت حال کا علم نہ ہو۔ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوۡسُفَ﴾ ’’اس طرح تدبیر کی ہم نے یوسف کے لیے‘‘ یعنی ہم نے یوسفu کے لیے اس تدبیر کو آسان کر دیا جس کے ذریعے سے وہ غیر مذموم طریقے سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ﴿ مَا كَانَ لِيَاۡخُذَ اَخَاهُ فِيۡ دِيۡنِ الۡمَلِكِ﴾’’وہ اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا اس بادشاہ کے دین میں ‘‘ یعنی بادشاہ کے قانون کے مطابق مال مسروقہ کے مالک کو یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ چور کا مالک بن سکے۔ ان کے ہاں چوری کی کوئی اور سزا تھی۔ اگر فیصلہ بادشاہ کے قانون کے مطابق ہوتا تو یوسفu اپنے بھائی کو اپنے پاس نہ رکھ سکتے۔ اس لیے حضرت یوسفu نے اپنے بھائیوں سے فیصلہ کروایا تاکہ ان کے منصوبے کی تکمیل ہو۔﴿ نَرۡفَعُ دَرَجٰؔتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ﴾ ’’ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں ‘‘ یعنی علم نافع اور اس راستے کی معرفت عطا کر کے جو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ جیسے ہم نے حضرت یوسفu کے درجات بلند کیے۔ ﴿ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِيۡ عِلۡمٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔‘‘ یعنی ہر صاحب علم کے اوپر ایک شخص ہوتا ہے جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی تک جا پہنچتا ہے۔

[77] جب یوسفu کے بھائیوں نے یہ معاملہ دیکھا تو ﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ يَّسۡرِقۡ﴾ ’’انھوں نے کہا، اگر اس (بھائی) نے چوری کی ہے‘‘ تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ﴿ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی‘‘ ان کی مراد یوسفu تھے۔ ان کا مقصود خود اپنی براء ت کا اظہار کرنا تھا۔ نیز یہ کہ بنیامین اور اس کے بھائی سے چوری صادر ہوئی ہے اور یہ دونوں ہمارے حقیقی بھائی نہیں ہیں ۔ یہ ان کی طرف سے یوسفu اور ان کے بھائی بنیامین کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش تھی۔ اس لیے یوسفu نے اس کے جواب کو اپنے دل میں رکھا۔ ﴿ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور اس کو ان کے سامنے ظاہر نہیں کیا‘‘ اس لیے ان کی اس بات پر کسی ایسے ردعمل کا اظہار نہ کیا جو انھیں ناگوار گزرے بلکہ وہ اپنے غصے کو پی گئے اور تمام معاملے کو اپنے دل میں چھپا لیا۔ ﴿ قَالَ ﴾ حضرت یوسف نے اپنے دل میں کہا: ﴿ اَنۡتُمۡ شَرٌّ مَّكَانًا﴾ ’’تم بدتر ہو درجے میں ‘‘ کیونکہ تم نے ایک بے بنیاد بات پر ہماری مذمت کی ہے اور خود اس سے بھی بدتر اعمال کے مرتکب ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔‘‘ ہماری بابت، جو تم ہمیں سرقہ سے متصف کرتے ہو اللہ تبارک و تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم چوری کے بہتان سے بری ہیں ۔

[78] پھر انھوں نے یوسفu کی خوشامد شروع کر دی شاید کہ وہ ان کے بھائی کے بارے میں نرمی سے کام لیں ۔ پس ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيۡخًا كَبِيۡرًا﴾ ’’انھوں نے کہا، اے عزیز! اس کا باپ بوڑھا ہے، بڑی عمر کا‘‘ یعنی وہ اس کی جدائی پر صبر نہیں کر سکے گا، اس کی جدائی اس پر بہت شاق گزرے گی۔ ﴿فَخُذۡ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’پس اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لے، یقینا ہم تجھے احسان کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ پس ہم پر اور ہمارے باپ پر احسان کیجیے۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 244

YusufJuz 13 · Page 244

12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِي رَحۡلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلۡعِيرُ إِنَّكُمۡ لَسَٰرِقُونَ ٧٠

So when he had furnished them with their supplies, he put the [gold measuring] bowl into the bag of his brother. Then an announcer called out, "O caravan, indeed you are thieves."

12:71

قَالُواْ وَأَقۡبَلُواْ عَلَيۡهِم مَّاذَا تَفۡقِدُونَ ٧١

They said while approaching them, "What is it you are missing?"

12:72

قَالُواْ نَفۡقِدُ صُوَاعَ ٱلۡمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمۡلُ بَعِيرٖ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٞ ٧٢

They said, "We are missing the measure of the king. And for he who produces it is [the reward of] a camel's load, and I am responsible for it."

12:73

قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ عَلِمۡتُم مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ ٧٣

They said, "By Allāh, you have certainly known that we did not come to cause corruption in the land, and we have not been thieves."

12:74

قَالُواْ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمۡ كَٰذِبِينَ ٧٤

They [the accusers] said, "Then what would be its recompense1 if you should be liars?"

1 translator’s note
  1. The punishment for theft. ↩

12:75

قَالُواْ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِي رَحۡلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّٰلِمِينَ ٧٥

[The brothers] said, "Its recompense is that he in whose bag it is found - he [himself] will be its recompense.1 Thus do we recompense the wrongdoers."

1 translator’s note
  1. According to their law, a convicted thief was made a slave of the one from whom he had stolen. ↩

12:76

فَبَدَأَ بِأَوۡعِيَتِهِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسۡتَخۡرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِۚ كَذَٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوسُفَۖ مَا كَانَ لِيَأۡخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ ٱلۡمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمٞ ٧٦

So he began [the search] with their bags before the bag of his brother; then he extracted it from the bag of his brother. Thus did We plan for Joseph. He could not have taken his brother within the religion [i.e., law] of the king except that Allāh willed. We raise in degrees whom We will, but over every possessor of knowledge is one [more] knowing.1

1 translator’s note
  1. Ending with the ultimate knowledge of Allāh (subḥānahu wa taʿālā). ↩

12:77

۞ قَالُوٓاْ إِن يَسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ أَخٞ لَّهُۥ مِن قَبۡلُۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفۡسِهِۦ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡۚ قَالَ أَنتُمۡ شَرّٞ مَّكَانٗاۖ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ٧٧

They said, "If he steals - a brother of his has stolen before." But Joseph kept it within himself and did not reveal it to them.1 He said, "You are worse in position, and Allāh is most knowing of what you describe."

1 translator’s note
  1. He did not answer that he himself had been stolen by them from his father. ↩

12:78

قَالُواْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبٗا شَيۡخٗا كَبِيرٗا فَخُذۡ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٧٨

They said, "O ʿAzeez,1 indeed he has a father [who is] an old man, so take one of us in place of him. Indeed, we see you as a doer of good."

1 translator’s note
  1. Addressing Joseph, who now held the title of "al-ʿAzeez." ↩
As-Sa'diTafsir · 12:72

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском