Yusuf 12:91
Joseph · Juz 13 · Page 246
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ ٩١
They said, "By Allāh, certainly has Allāh preferred you over us, and indeed, we have been sinners."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 12:87–92
اے میرے بیٹو! تم جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کواور نہ مایوس ہو اللہ کی رحمت سے، بے شک نہیں مایوس ہوتے اللہ کی رحمت سے مگر کافر لوگ ہی (87) پھر جب وہ داخل ہوئے یوسف پر تو انھوں نے کہا، اے عزیز! پہنچی ہے ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو تکلیف اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص، پس آپ پورادیجیے ہمارے لیے ماپ (غلے کا) اور صدقہ خیرات کیجیے ہم پر، بے شک اللہ جزا دیتا ہے صدقہ خیرات کرنے والوں کو (88) یوسف نے کہا، کیا معلوم ہے تمھیں جو کچھ کیا تم نے ساتھ یوسف اور اس کے بھائی کے جب تھے تم نادان؟ (89) انھوں نے کہا، کیاواقعی تو یوسف ہی ہے؟ اس نے کہا، (ہاں ) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، تحقیق احسان کیاہے اللہ نے ہم پر، بے شک جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر نیکی کرنے والوں کا (90) انھوں نے کہا، قسم اللہ کی! یقینا فضیلت دی تجھے اللہ نے ہم پراور بلاشبہ ہم ہی تھے خطا کار (91) اس نے کہا، نہیں کوئی ملامت اوپر تمھارے آج، معاف کرے اللہ تمھیں اوروہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (92)
[87] یعنی یعقوبu نے اپنے بیٹوں سے کہا: ﴿ يٰبَنِيَّ اذۡهَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ يُّوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اے بیٹو! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کو‘‘ یعنی پوری حرص اور کوشش کے ساتھ دونوں کو تلاش کرو۔ ﴿ وَلَا تَايۡــَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے فیض سے ناامید نہ ہو‘‘ کیونکہ امید بندے کو اپنے مقصد کے لیے کوشش اور جدوجہد کے لیے آمادہ کرتی ہے اور مایوسی اسے سست اور کاہل بنا دیتی ہے اور سب سے بہترین چیز جس کی بندے کو امید رکھنی چاہیے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و مہربانی۔ ﴿ اِنَّهٗ لَا يَايۡــَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ کے فیض سے کافر ہی ناامید ہوتے ہیں ‘‘ کیونکہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے دور ہے، اس لیے کفار کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنے ایمان کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی کی امید رکھتا ہے۔
[88] پس وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ ﴾ ’’جب وہ اس کے پاس گئے۔‘‘ یعنی جب وہ یوسفu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰؔىةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَا﴾ ’’اے عزیز! پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سختی اور ہم ناقص پونجی لے کر آئے ہیں ، سو ہمیں بھرتی پوری دیں اور ہم پر خیرات کریں ‘‘ یعنی ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت محتاج ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰؔىةٍ ﴾’’اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ایسا مال لے کر آئے ہیں جو قلیل، بے وقعت ہونے کی بنا پر کسی اہمیت کا حامل نہیں ۔﴿ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ﴾ ’’پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجیے۔‘‘ یعنی ہمارے پاس قیمت کم ہونے کے باوجود، ہمیں قیمت سے زیادہ غلہ عنایت کر کے ہم پر صدقہ کیجیے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِي الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صدقہ کرنے والوں کو ثواب دیتاہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کا ثواب عطا کرتا ہے۔
[89] جب معاملہ اپنی انتہا اور شدت کو پہنچ گیا تو یوسفu نرم پڑ گئے اور انھوں نے ان کو اپنا تعارف کرایا اور ان پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِيُوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’کیا تمھیں معلوم ہے، تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا‘‘ رہے یوسفu تو ان کے ساتھ ان کا سلوک ظاہر ہے اور رہا ان کا بھائی بنیامین تو شاید… واللہ اعلم… اس سے مراد بھائیوں کا یہ قول ہے ﴿ اِنۡ يَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ﴾(یوسف: 77/12) یا اس سے مراد وہ حادثہ ہے جس کی بنا پر باپ اور بیٹے میں جدائی واقع ہوئی اور اس جدائی کے اصل سبب اور موجب وہی تھے۔ ﴿ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰهِلُوۡنَ ﴾ ’’جب تم ناسمجھ تھے‘‘ یہ ان کی جہالت پر ایک قسم کا اعتذار ہے یا ان پر زجر و توبیخ ہے کیونکہ انھوں نے جاہلوں کا سا کام کیا، حالانکہ یہ کام ان کے شایان شان نہیں تھا۔
[90] انھوں نے پہچان لیا کہ جو شخص ان سے مخاطب ہے وہ یوسف ہے اس لیے انھوں نے پوچھا: ﴿ ءَاِنَّكَ لَاَنۡتَ يُوۡسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا يُوۡسُفُ وَهٰؔذَاۤ اَخِيۡ١ٞ قَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’کیا آپ یوسف ہیں ؟ انھوں نے کہا، ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے‘‘ کہ اس نے ہمیں ایمان، تقویٰ اور زمین میں اقتدار سے نوازا۔ یہ سب کچھ صبر اور تقویٰ کا ثمرہ ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يَّتَّقِ وَيَصۡبِرۡ ﴾ ’’بے شک جو شخص اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتاہے۔‘‘ یعنی جو کوئی فعل حرام سے پرہیز کرتا ہے، آلام و مصائب پر صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘ یہ تمام امور احسان کے زمرے میں آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی کے اعمال حسنہ کو ضائع نہیں کرتا۔
[91]﴿قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ ’’انھوں نے کہا، اللہ کی قسم، اللہ نے آپ کو ہمارے مقابلے میں پسند کر لیا ہے‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کے ذریعے سے ہم پر فضیلت سے نوازا۔ ہم نے آپ کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا، ہم نے آپ کو تکلیف پہنچانے اور آپ کو اپنے باپ سے دور کرنے کی خواہش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت بخشی اور ان امور کو آپ کے لیے ممکن بنا دیا جو آپ چاہتے تھے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنَّا لَخٰطِــِٕيۡنَ﴾ ’’اور بلاشبہ ہم خطا کار تھے۔‘‘
[92]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے اپنے جود و کرم کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ لَا تَثۡرِيۡبَ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ﴾ ’’آج تم پر کوئی الزام نہیں ‘‘ یعنی میں تمھارا کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی ملامت نہیں کرتا۔ ﴿ يَغۡفِرُ اللّٰهُ لَكُمۡ١ٞ وَهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ ﴾ ’’اللہ تمھیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یوسفu نے اپنے بھائیوں کے گزشتہ جرائم پر عار دلائے بغیر ان کے ساتھ انتہائی نرمی اور فراخ دلی کا سلوک کیا اور ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی، یہ احسان کی انتہا ہے، اس سلوک کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندے ہی کر سکتے ہیں ۔
Page 246
12:87
يَٰبَنِيَّ ٱذۡهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَاْيۡـَٔسُواْ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ لَا يَاْيۡـَٔسُ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٨٧
O my sons, go and find out about Joseph and his brother and despair not of relief from Allāh. Indeed, no one despairs of relief from Allāh except the disbelieving people."
12:88
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيۡهِ قَالُواْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهۡلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَٰعَةٖ مُّزۡجَىٰةٖ فَأَوۡفِ لَنَا ٱلۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَآۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجۡزِي ٱلۡمُتَصَدِّقِينَ ٨٨
So when they entered upon him [i.e., Joseph], they said, "O ʿAzeez, adversity has touched us and our family, and we have come with goods poor in quality, but give us full measure and be charitable to us. Indeed, Allāh rewards the charitable."
12:89
قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُم مَّا فَعَلۡتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذۡ أَنتُمۡ جَٰهِلُونَ ٨٩
He said, "Do you know what you did with Joseph and his brother when you were ignorant?"
12:90
قَالُوٓاْ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِيۖ قَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَآۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٩٠
They said, "Are you indeed Joseph?" He said, "I am Joseph, and this is my brother. Allāh has certainly favored us. Indeed, he who fears Allāh and is patient, then indeed, Allāh does not allow to be lost the reward of those who do good."
12:91
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ ٩١
They said, "By Allāh, certainly has Allāh preferred you over us, and indeed, we have been sinners."
12:92
قَالَ لَا تَثۡرِيبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡيَوۡمَۖ يَغۡفِرُ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٩٢
He said, "No blame will there be upon you today. May Allāh forgive you; and He is the most merciful of the merciful.
12:93
ٱذۡهَبُواْ بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلۡقُوهُ عَلَىٰ وَجۡهِ أَبِي يَأۡتِ بَصِيرٗا وَأۡتُونِي بِأَهۡلِكُمۡ أَجۡمَعِينَ ٩٣
Take this, my shirt, and cast it over the face of my father; he will become seeing. And bring me your family, all together."
12:94
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلۡعِيرُ قَالَ أَبُوهُمۡ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَۖ لَوۡلَآ أَن تُفَنِّدُونِ ٩٤
And when the caravan departed [from Egypt], their father said,1 "Indeed, I find the smell of Joseph [and would say that he was alive] if you did not think me weakened in mind."
1 translator’s note
- To those present with him, either some of his sons or other relatives. ↩
12:95
قَالُواْ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَٰلِكَ ٱلۡقَدِيمِ ٩٥
They said, "By Allāh, indeed you are in your [same] old error."