Ar-Ra'd 13:18
The Thunder · Juz 13 · Page 251
لِلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُۥ لَوۡ أَنَّ لَهُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡحِسَابِ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ ١٨
For those who have responded to their Lord is the best [reward], but those who did not respond to Him - if they had all that is in the earth entirely and the like of it with it, they would [attempt to] ransom themselves thereby. Those will have the worst account, and their refuge is Hell, and wretched is the resting place.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 13:18
واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے قبول کیا (حکم) اپنے رب کا، بھلائی ہے۔ اور وہ لوگ جنھوں نے نہیں قبول کیا (حکم) اس کا، اگر بے شک ہو واسطے ان کے جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اس کی مثل (اور) اس کے ساتھ تو ضرور بدلے میں دے دیں وہ اسے، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے سخت حساب ہے اور ٹھکانا ان کا جہنم ہےاور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے (18)
[18]جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق کو باطل سے واضح کر دیا تو اب فرما رہا ہے کہ لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں ۔(۱)اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہنے والے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا۔(۲)اپنے رب کی دعوت پر لبیک نہ کہنے والے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا۔﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمُ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا‘‘ یعنی جن کے دل علم و ایمان کے سامنے سرافگندہ ہیں اور ان کے جوارح امرونہی پر عمل پیرا ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کی مراد کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿الۡحُسۡنٰى﴾ ’’بھلائی ہے‘‘، یعنی اچھی حالت اور اچھا ثواب ان کی صفات جلیل ترین، ان کے مناقب بہترین اور ان کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ لَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهٗ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کا حکم نہ مانا‘‘ یعنی ان کے سامنے مثالیں بیان کرنے اور حق واضح کرنے کے بعد بھی انھوں نے اپنے رب کی آواز پر لبیک نہ کہا، ان کی حالت اچھی نہ ہو گی۔ ﴿ لَوۡ اَنَّ لَهُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر ان کے پاس ہو جو کچھ کہ زمین میں ہے سارا‘‘ یعنی زمین کا تمام سونا چاندی وغیرہ ﴿ وَّمِثۡلَهٗ مَعَهٗ لَافۡتَدَوۡا بِهٖ﴾’’اور اتنا ہی اس کے ساتھ اور تو سب دے ڈالیں اپنے بدلے میں ‘‘ یعنی قیامت کے روز کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ میں ۔ تو ان سے یہ سب کچھ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ اور یہ مال انھیں حاصل بھی کہاں سے ہو گا؟﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡحِسَابِ﴾ ’’ان کے لیے ہے برا حساب‘‘ یعنی یہ حساب ہر اس بداعمالی کے بارے میں ہو گا جس کا انھوں نے دنیا میں ارتکاب کیا تھا اور بندوں کے جو حقوق ضائع کیے تھے، ان کی تمام بداعمالیاں لکھ کر محفوظ کر لی گئی ہیں ۔ وہ پکار اٹھیں گے ﴿يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکھف: 18؍49)’’ہاے ہماری بدبختی! یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو لکھنے سے چھوڑتی ہے نہ کسی بڑی بات کو اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انھوں نے سرانجام دیے ہوں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ یعنی اس برے حساب کتاب کے بعد ﴿ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ﴾ ’’ان کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع ہے، مثلاً: شدید بھوک، دردناک پیاس، بھڑکتی ہوئی آگ، کھانے کو تھوہر، ٹھٹھرا دینے والی سردی، خاردار جھاڑ اور عذاب کی وہ تمام اقسام جن کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ﴿ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ ’’اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ یعنی ان کا مسکن اور ٹھکانا بدترین ہو گا۔
Page 251
13:14
لَهُۥ دَعۡوَةُ ٱلۡحَقِّۚ وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسۡتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيۡءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيۡهِ إِلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ ١٤
To Him [alone] is the supplication of truth. And those they call upon besides Him do not respond to them with a thing, except as one who stretches his hands toward water [from afar, calling it] to reach his mouth, but it will not reach it [thus].1 And the supplication of the disbelievers is not but in error [i.e., futility].
1 translator’s note
- The analogy indicates that false deities will never respond to them at all. ↩
13:15
وَلِلَّهِۤ يَسۡجُدُۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ طَوۡعٗا وَكَرۡهٗا وَظِلَٰلُهُم بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ۩ ١٥
And to Allāh prostrates whoever is within the heavens and the earth, willingly or by compulsion, and their shadows [as well] in the mornings and the afternoons.
13:16
قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ قُلِ ٱللَّهُۚ قُلۡ أَفَٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ لَا يَمۡلِكُونَ لِأَنفُسِهِمۡ نَفۡعٗا وَلَا ضَرّٗاۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ أَمۡ هَلۡ تَسۡتَوِي ٱلظُّلُمَٰتُ وَٱلنُّورُۗ أَمۡ جَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُواْ كَخَلۡقِهِۦ فَتَشَٰبَهَ ٱلۡخَلۡقُ عَلَيۡهِمۡۚ قُلِ ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُوَ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّٰرُ ١٦
Say, "Who is Lord of the heavens and earth?" Say, "Allāh." Say, "Have you then taken besides Him allies not possessing [even] for themselves any benefit or any harm?" Say, "Is the blind equivalent to the seeing? Or is darkness equivalent to light? Or have they attributed to Allāh partners who created like His creation so that the creation [of each] seemed similar to them?"1 Say, "Allāh is the Creator of all things, and He is the One, the Prevailing."2
13:17
أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَسَالَتۡ أَوۡدِيَةُۢ بِقَدَرِهَا فَٱحۡتَمَلَ ٱلسَّيۡلُ زَبَدٗا رَّابِيٗاۖ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيۡهِ فِي ٱلنَّارِ ٱبۡتِغَآءَ حِلۡيَةٍ أَوۡ مَتَٰعٖ زَبَدٞ مِّثۡلُهُۥۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ وَٱلۡبَٰطِلَۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءٗۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَالَ ١٧
He sends down from the sky, rain, and valleys flow according to their capacity, and the torrent carries a rising foam. And from that [ore] which they heat in the fire, desiring adornments and utensils, is a foam like it. Thus Allāh presents [the example of] truth and falsehood. As for the foam, it vanishes, [being] cast off; but as for that which benefits the people, it remains on the earth. Thus does Allāh present examples.
13:18
لِلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُۥ لَوۡ أَنَّ لَهُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡحِسَابِ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ ١٨
For those who have responded to their Lord is the best [reward], but those who did not respond to Him - if they had all that is in the earth entirely and the like of it with it, they would [attempt to] ransom themselves thereby. Those will have the worst account, and their refuge is Hell, and wretched is the resting place.