Ar-Ra'd 13:41
The Thunder · Juz 13 · Page 254
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَأۡتِي ٱلۡأَرۡضَ نَنقُصُهَا مِنۡ أَطۡرَافِهَاۚ وَٱللَّهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهِۦۚ وَهُوَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٤١
Have they not seen that We set upon the land, reducing it from its borders?1 And Allāh decides; there is no adjuster of His decision. And He is swift in account.
1 translator’s note
- Referring to the spread of Islām through Allāh's Prophet (ﷺ) and the diminishing of those areas controlled by the polytheists. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 13:40–41
اور اگر ہم دکھائیں آپ کو بعض وہ (عذاب) جس کا ہم وعدہ کرتے ہیں ان سے یا ہم وفات دے دیں آپ کو، پس آپ پر توصرف پہنچانا ہی ہےاور ہم پر ہے حساب (لینا)(40)کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم چلے آتے ہیں (ان کی) زمین کو، کم کرتے ہوئے اسے اس کے اطراف سےاور اللہ حکم کرتا ہے، نہیں ہے کوئی رد کرنے والا اس کے حکم کواور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (41)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا ہے کہ کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی گئی ہے آپ اس کے بارے میں جلدی نہ کریں ۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور کفر پر جمے رہے تو وہ عذاب ان کو ضرور آئے گا جس کی ان کو وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿ وَاِنۡ مَّا نُرِيَنَّكَ ﴾ ’’اگر دکھلا دیں ہم آپ کو‘‘ یعنی ان کو عذاب دیا جانا ہم آپ کو دنیا ہی میں دکھا دیں جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ یہ نزول عذاب اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کی حمد و ثنا پر مبنی ہے کوئی اس میں نقص اور خامی تلاش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ ﴿ اَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ ﴾ ’’یا آپ کو اٹھا لیں ‘‘ یعنی ان پر نزول عذاب سے قبل اگر ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ اس میں مشغول نہ ہوں ۔ ﴿ فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ ﴾ ’’آپ کے ذمہ تو پہنچا دینا ہے۔‘‘ اور مخلوق کے سامنے بیان کر دینا ہے ﴿ وَعَلَيۡنَا الۡحِسَابُ ﴾ ’’اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے‘‘ ہم مخلوق سے ان کی ذمہ داریوں کا حساب لیں گے کہ انھوں نے ان کو پورا کیا ہے یا ضائع کیا ہے، پھر ہم انھیں ثواب سے نوازیں گے یا عذاب میں مبتلا کریں گے۔
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں ‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور ظالموں کے استیصال کے ذریعے سے زمین کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ نیز اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشرکین کے شہروں کی فتح، ان کے مال اور بدن میں کمی کے ذریعے سے چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا جا رہا ہے… اس کی تفسیر میں بعض دیگر اقوال بھی ہیں ۔اس کے ظاہر معنی یہ ہیں...واللہ تعالیٰ اعلم… کہ اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کی اراضی کی حالت یہ بنا دی کہ وہ فتح ہو رہی ہیں اور چھینی جا رہی ہیں ، ان پر چاروں طرف سے مصائب ٹوٹ رہے ہیں ، ان کی جان و مال میں کمی سے پہلے یہ ان کے لیے تنبیہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان پر ایسے عذاب نازل کر رہا ہے جسے کوئی رد کرنے پر قادر نہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهٖ﴾ ’’اور اللہ، فیصلہ کرتا ہے، اس کے فیصلے کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں ‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم شرعی، حکم کونی و قدری اور حکم جزائی داخل ہے۔ یہ تمام احکام، جن کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے، حکمت اور پختگی کے بلند ترین درجے پر پائے جاتے ہیں جن میں کوئی نقص اور کوئی خلل نہیں ۔ بلکہ یہ تمام احکام عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا پر مبنی ہیں کوئی ان فیصلوں میں خامی اور نقص تلاش نہیں کر سکتا اور نہ ان میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ اس کے برعکس دیگر ہستیوں کے فیصلے کبھی حق و صواب کے موافق ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور وہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مطالبے میں جلدی نہ مچائیں کیونکہ ہر وہ چیز جسے آنا ہے وہ قریب ہوتی ہے۔
Page 254
13:35
۞ مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ أُكُلُهَا دَآئِمٞ وَظِلُّهَاۚ تِلۡكَ عُقۡبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْۚ وَّعُقۡبَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٱلنَّارُ ٣٥
The example [i.e., description] of Paradise, which the righteous have been promised, is [that] beneath it rivers flow. Its fruit is lasting, and its shade. That is the consequence for the righteous, and the consequence for the disbelievers is the Fire.
13:36
وَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَۖ وَمِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ مَن يُنكِرُ بَعۡضَهُۥۚ قُلۡ إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشۡرِكَ بِهِۦٓۚ إِلَيۡهِ أَدۡعُواْ وَإِلَيۡهِ مَـَٔابِ ٣٦
And [the believers among] those to whom We have given the [previous] Scripture rejoice at what has been revealed to you, [O Muḥammad], but among the [opposing] factions are those who deny part of it [i.e., the Qur’ān]. Say, "I have only been commanded to worship Allāh and not associate [anything] with Him. To Him I invite, and to Him is my return."
13:37
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ حُكۡمًا عَرَبِيّٗاۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم بَعۡدَ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا وَاقٖ ٣٧
And thus We have revealed it as an Arabic legislation.1 And if you should follow their inclinations after what has come to you of knowledge, you would not have against Allāh any ally or any protector.
1 translator’s note
- i.e., revealed in the Arabic language. ↩
13:38
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَذُرِّيَّةٗۚ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ لِكُلِّ أَجَلٖ كِتَابٞ ٣٨
And We have already sent messengers before you and assigned to them wives and descendants. And it was not for a messenger to come with a sign except by permission of Allāh. For every term is a decree.
13:39
يَمۡحُواْ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ ٣٩
Allāh eliminates what He wills or confirms, and with Him is the Mother of the Book.1
1 translator’s note
- The Preserved Slate (al-Lawḥ al-Maḥfūẓ), in which is inscribed the original of every scripture revealed by Allāh. ↩
13:40
وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُ وَعَلَيۡنَا ٱلۡحِسَابُ ٤٠
And whether We show you part of what We promise them or take you in death, upon you is only the [duty of] notification, and upon Us is the account.
13:41
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَأۡتِي ٱلۡأَرۡضَ نَنقُصُهَا مِنۡ أَطۡرَافِهَاۚ وَٱللَّهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهِۦۚ وَهُوَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٤١
Have they not seen that We set upon the land, reducing it from its borders?1 And Allāh decides; there is no adjuster of His decision. And He is swift in account.
1 translator’s note
- Referring to the spread of Islām through Allāh's Prophet (ﷺ) and the diminishing of those areas controlled by the polytheists. ↩
13:42
وَقَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَلِلَّهِ ٱلۡمَكۡرُ جَمِيعٗاۖ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٖۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلۡكُفَّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى ٱلدَّارِ ٤٢
And those before them had plotted, but to Allāh belongs the plan entirely. He knows what every soul earns, and the disbelievers will know for whom is the final home.