Ar-Ra'dJuz 13 · Page 255

Ar-Ra'd 13:43

The Thunder · Juz 13 · Page 255

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَسۡتَ مُرۡسَلٗاۚ قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ وَمَنۡ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلۡكِتَٰبِ ٤٣

And those who have disbelieved say, "You are not a messenger." Say, [O Muḥammad], "Sufficient is Allāh as Witness between me and you, and [the witness of] whoever has knowledge of the Scripture."1

1 translator’s note
  1. i.e., those who recognize the truth through their knowledge of previous scriptures. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 13:42–43

اور تحقیق تدبیریں کی تھیں (انبیاء کے خلاف) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے،پس واسطے اللہ ہی کے ہیں تدبیریں ساری، وہ جانتا ہے جو کچھ کماتا ہے ہر نفساور عن قریب جان لیں گے کافر، کس کے لیے ہے (اچھا) انجام آخرت کا؟ (42) اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے تو رسول، آپ کہہ دیجیے، کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیاناور وہ شخص (بھی) کہ اس کے پاس ہے علم کتاب کا (43)

[42] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَقَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’ان سے پہلے لوگوں نے بھی چال چلی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے رسولوں اور اس حق کے خلاف سازشیں کیں جنھیں لے کر رسول آئے تھے مگر ان کی چالیں اور سازشیں کسی کام نہ آئیں اور وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ کیونکہ وہ اللہ کے خلاف جنگ کرتے ہیں ۔ ﴿ فَلِلّٰهِ الۡمَؔكۡرُ جَمِيۡعًا﴾ ’’پس اللہ کے ہاتھ میں ہے سب تدبیر‘‘ یعنی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی چال چلنے پر قادر نہیں اور یہ چال اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے تحت آتی ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لہذا ان کی سازش اور چال ناکامی اور ندامت کا داغ لے کر انھی کی طرف لوٹے گی۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو کماتا ہے ہر نفس‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر جان کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا کمائی کی، یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک نفس کے عزم و ارادے اور ظاہری اور باطنی اعمال کو خوب جانتا ہے۔ مکر اور سازش بھی لازمی طور پر انسان کے اکتساب میں شمار ہوتے ہیں ، پس ان کا مکر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ۔ اس لیے یہ ممتنع ہے کہ ان کی چال حق اور اہل حق کو نقصان پہنچا کر ان کو کوئی فائدہ دے۔ فرمایا:﴿ وَسَيَعۡلَمُ الۡكُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’اور عنقریب جان لیں گے کافر کہ کس کے لیے ہے گھر عاقبت کا‘‘ یعنی اچھا انجام کفار کے لیے ہے یا اللہ کے رسولوں کے لیے؟ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ اہل تقویٰ کی عاقبت اچھی ہے۔ کفر اور اہل کفر کی عاقبت اچھی نہیں ہے۔

[43]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا﴾ ’’اور کافر کہتے ہیں کہ آپ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ‘‘ یعنی کفار آپﷺ کی اور اس حق کی تکذیب کرتے ہیں جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے ﴿ قُلۡ﴾ اگر وہ آپ سے گواہ طلب کریں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾’’اللہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے‘‘ اور اس کی گواہی اس کے قول و فعل اور اقرار کے ذریعے سے ہوتی ہے۔قول کے ذریعے سے اس کی شہادت یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن مخلوق میں سب سے سچی ہستی پر نازل فرمایا جو آپﷺ کی رسالت کو ثابت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور آپ کو ایسی فتح و نصرت عطا کی جو آپ کی، آپ کے اصحاب اور آپ کے متبعین کی قدرت اختیار سے باہر تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فعل و تائید کے ذریعے سے شہادت ہے۔ اقرار کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو خبر دی کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کریں ۔ پس جو کوئی آپ کی اطاعت کرتا ہے اس کے لیے اللہ کی رضامندی اور اس کی کرامت ہے اور جو کوئی آپ کی اطاعت نہیں کرتا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم ہے اور اس کا خون اور مال حلال ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دعوے پر برقرار رکھتا ہے۔ اگر رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں آپ کو عذاب دے دیتا۔﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور جس کو خبر ہے کتاب کی‘‘ یہ آیت کریمہ اہل کتاب کے تمام علماء کو شامل ہے۔ کیونکہ ان میں سے جو کوئی ایمان لا کر حق کی اتباع کرتا ہے وہ رسول اللہﷺ کی گواہی دیتا ہے اور نہایت صراحت سے آپ کے حق میں شہادت دیتا ہے اور ان میں سے جو کوئی گواہی کو چھپاتا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی خبر کہ اس کے پاس شہادت ہے، اس کی خبر سے زیادہ بلیغ ہے۔ اگر اس کے پاس شہادت نہ ہوتی تو دلیل کے ساتھ اپنے طلب شہادت کو رد کر دیتا۔ پس اس کا سکوت دلالت کرتا ہے کہ اس کے پاس رسول کے حق میں شہادت موجود ہے جو اس نے چھپا رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل کتاب سے گواہی لینے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ وہ گواہی دینے کی اہلیت رکھتے ہیں ہر معاملے میں صرف اسی شخص سے گواہی لی جانی چاہیے جو اس کا اہل ہو اور دوسروں کی نسبت اس بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اس معاملے میں بالکل اجنبی ہوں ، مثلاً:ان پڑھ مشرکین عرب وغیرہ تو ان سے شہادت طلب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ انھیں اس معاملے کی کوئی خبر ہے نہ انھیں اس کی معرفت ہی حاصل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 255

IbrahimJuz 13 · Page 255

13:43

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَسۡتَ مُرۡسَلٗاۚ قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ وَمَنۡ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلۡكِتَٰبِ ٤٣

And those who have disbelieved say, "You are not a messenger." Say, [O Muḥammad], "Sufficient is Allāh as Witness between me and you, and [the witness of] whoever has knowledge of the Scripture."1

1 translator’s note
  1. i.e., those who recognize the truth through their knowledge of previous scriptures. ↩

سورة ابراهيم

Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

14:1

الٓرۚ كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ لِتُخۡرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِ رَبِّهِمۡ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ ١

Alif, Lām, Rā.1 [This is] a Book which We have revealed to you, [O Muḥammad], that you might bring mankind out of darknesses into the light by permission of their Lord - to the path of the Exalted in Might, the Praiseworthy -

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

14:2

ٱللَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَوَيۡلٞ لِّلۡكَٰفِرِينَ مِنۡ عَذَابٖ شَدِيدٍ ٢

Allāh, to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And woe [i.e., destruction] to the disbelievers from a severe punishment -

14:3

ٱلَّذِينَ يَسۡتَحِبُّونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلِۭ بَعِيدٖ ٣

The ones who prefer the worldly life over the Hereafter and avert [people] from the way of Allāh, seeking to make it [seem] deviant. Those are in extreme error.

14:4

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٤

And We did not send any messenger except [speaking] in the language of his people to state clearly for them, and Allāh sends astray [thereby] whom He wills1 and guides whom He wills. And He is the Exalted in Might, the Wise.

1 translator’s note
  1. i.e., those who refuse His guidance. ↩

14:5

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ أَنۡ أَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرۡهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ٥

And We certainly sent Moses with Our signs, [saying], "Bring out your people from darknesses into the light and remind them of the days1 of Allāh." Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.

1 translator’s note
  1. Days of blessings bestowed upon the Children of Israel. Also interpreted as days of punishment and destruction of the former nations. ↩
As-Sa'diTafsir · 13:43

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском