Ibrahim 14:24
Abraham · Juz 13 · Page 258
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا كَلِمَةٗ طَيِّبَةٗ كَشَجَرَةٖ طَيِّبَةٍ أَصۡلُهَا ثَابِتٞ وَفَرۡعُهَا فِي ٱلسَّمَآءِ ٢٤
Have you not considered how Allāh presents an example, [making] a good word like a good tree, whose root is firmly fixed and its branches [high] in the sky?
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 14:24–26
کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ کس طرح بیان فرمائی ہے اللہ نے مثال کلمۂ طیبہ کی؟ (کہ وہ ہے) مانند درخت پاکیزہ (کھجور) کے، کہ جڑ اس کی مضبوط ہے اور شاخیں اس کی آسمان میں ہیں (24) لاتا ہے وہ (درخت) پھل اپنا ہر وقت ساتھ حکم اپنے رب کے،اور بیان فرماتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (25) اور مثال کلمۂ خبیثہ (کفرو شرک) کی ہے مانند درخت ناپاک کے، وہ اکھیڑ دیا جاتا ہے اورپر سے زمین کے، نہیں ہے اس کے لیے کوئی قرار (26)
[24]﴿ اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات‘‘ یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے)﴿ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ﴾ ’’جیسے ایک ستھرا درخت ہے‘‘ اور اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ﴿ اَصۡلُهَا ثَابِتٌ ﴾ ’’اس کی جڑ مضبوط ہے‘‘ یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے ﴿ وَّفَرۡعُهَا ﴾ ’’اور اس کی شاخیں ۔‘‘ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ﴿ فِي السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان میں ‘‘ اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔
[25]﴿ تُؤۡتِيۡۤ اُكُلَهَا ﴾ ’’وہ پھل لاتا ہے‘‘ ﴿ كُلَّ حِيۡنٍۭؔ بِـاِذۡنِ رَبِّهَا﴾ ’’ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے‘‘ یہی حال شجر ایمان کا ہے، اس کی جڑیں علم و اعتقاد کے اعتبار سے بندۂ مومن کے قلب کی گہرائیوں میں نہایت مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں ، اس کی شاخیں یعنی کلمات طیبات، عمل صالح، اخلاق جمیلہ، آداب حسنہ ہمیشہ آسمان کی طرف بلند رہتی ہیں ۔ بندۂ مومن کی طرف سے ایسے اعمال و اقوال بلند ہوتے ہیں ۔ جو شجر ایمان سے نکلتے ہیں ، جن سے بندۂ مومن اور دیگر لوگ منتفع ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں ‘‘ ان سے جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان سے جن سے ان کو روکا ہے۔ کیونکہ ضرب الامثال میں ، معانی معقولہ کو امثال محسوسہ کے ذریعے سے قریب لایاجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے معنی میں مراد کی غایت حد تک تبیین اور توضیح ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حسن تعلیم ہے پوری، کامل اور بے پایاں حمد و ثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس یہ بندۂ مومن کے قلب میں کلمہء توحید کا وصف اور اس کے ثبات کا بیان ہے۔
[26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کلمۂ توحید کی ضد کلمۂ کفر اور اس کی شاخوں کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيۡثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيۡثَةِ﴾ ’’اور گندی بات کی مثال، جیسے گندا درخت ہے‘‘ جو کھانے اور ذائقے میں بدترین درخت ہے اور اس سے مراد اندرائن وغیرہ کا پودا ہے ﴿اِجۡتُثَّتۡ ﴾ یعنی اس پودے کو اکھاڑ لیا گیا ﴿ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَهَا مِنۡ قَرَارٍ ﴾ ’’زمین کے اوپر سے، اس کو کوئی ٹھہراؤ نہیں ‘‘ یعنی اس پودے کو ثبات حاصل نہیں اس پودے کی رگیں نہیں ہیں جو اس کو سہارا دے کر کھڑا کر سکیں اور نہ یہ کوئی اچھا پھل لاتا ہے بلکہ اس میں پھل پایا بھی جاتا ہے تو انتہائی بدذائقہ۔اسی طرح کفر اور گناہ کی بات قلب میں کوئی فائدہ مند مضبوطی اور ثبات پیدا نہیں کرتی، اس کا ثمرہ بھی قول خبیث اور عمل خبیث کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اس کو تکلیف دیتا ہے۔ اس بندے کی طرف سے کوئی عمل صالح اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتا۔ اس قول و عمل سے وہ خود منتفع ہوتا ہے نہ کوئی اور۔
Page 258
14:19
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۚ إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَأۡتِ بِخَلۡقٖ جَدِيدٖ ١٩
Have you not seen [i.e., considered] that Allāh created the heavens and the earth in truth? If He wills, He can do away with you and produce a new creation.
14:20
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٖ ٢٠
And that is not difficult for Allāh.
14:21
وَبَرَزُواْ لِلَّهِ جَمِيعٗا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُاْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعٗا فَهَلۡ أَنتُم مُّغۡنُونَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ قَالُواْ لَوۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيۡنَٰكُمۡۖ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَجَزِعۡنَآ أَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٖ ٢١
And they will come out [for judgement] before Allāh all together, and the weak will say to those who were arrogant, "Indeed, we were your followers, so can you avail us anything against the punishment of Allāh?" They will say, "If Allāh had guided us, we would have guided you. It is all the same for us whether we show intolerance or are patient: there is for us no place of escape."
14:22
وَقَالَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لَمَّا قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ ٱلۡحَقِّ وَوَعَدتُّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُكُمۡۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوۡتُكُمۡ فَٱسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوٓاْ أَنفُسَكُمۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَآ أَنتُم بِمُصۡرِخِيَّ إِنِّي كَفَرۡتُ بِمَآ أَشۡرَكۡتُمُونِ مِن قَبۡلُۗ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٢٢
And Satan will say when the matter has been concluded, "Indeed, Allāh had promised you the promise of truth. And I promised you, but I betrayed you. But I had no authority over you except that I invited you, and you responded to me. So do not blame me; but blame yourselves. I cannot be called to your aid, nor can you be called to my aid. Indeed, I deny your association of me [with Allāh] before.1 Indeed, for the wrongdoers is a painful punishment."
1 translator’s note
- By your obedience to me instead of Him during life on earth. ↩
14:23
وَأُدۡخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِمۡۖ تَحِيَّتُهُمۡ فِيهَا سَلَٰمٌ ٢٣
And those who believed and did righteous deeds will be admitted to gardens beneath which rivers flow, abiding eternally therein by permission of their Lord; and their greeting therein will be, "Peace!"
14:24
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا كَلِمَةٗ طَيِّبَةٗ كَشَجَرَةٖ طَيِّبَةٍ أَصۡلُهَا ثَابِتٞ وَفَرۡعُهَا فِي ٱلسَّمَآءِ ٢٤
Have you not considered how Allāh presents an example, [making] a good word like a good tree, whose root is firmly fixed and its branches [high] in the sky?