IbrahimJuz 13 · Page 255

Ibrahim 14:3

Abraham · Juz 13 · Page 255

ٱلَّذِينَ يَسۡتَحِبُّونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلِۭ بَعِيدٖ ٣

The ones who prefer the worldly life over the Hereafter and avert [people] from the way of Allāh, seeking to make it [seem] deviant. Those are in extreme error.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 14:1–3

الٓرٰ، (یہ) عظیم الشان کتاب ہے، نازل کیاہے ہم نے اسے آپ کی طرف تاکہ آپ نکالیں لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف، ان کے رب کے حکم سے، اس کے راستے کی طرف جو غالب ہے ، قابل تعریف ہے (1)(یعنی ) اللہ (کی طرف) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہےاور ہلاکت ہے واسطے کافروں کے سخت عذاب سے (2) وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں زندگانیٔ دنیا کو اوپر آخرت کے اور وہ روکتے ہیں (لوگوں کو) اللہ کی راہ سےاور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی، یہ لوگ ہیں دور کی گمراہی میں (3)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتاہے کہ اس نے مخلوق کے فائدے کے لیے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کفر و جہالت، اخلاق بد اور مختلف اقسام کے گناہوں کی تاریکی سے نکال کر علم و ایمان اور اخلاق حسنہ کی روشنی میں لے جائے اور فرمایا ﴿ بِـاِذۡنِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کے رب کے حکم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی محبوب مراد صرف اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی مدد ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں بندوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اپنے رب سے مدد طلب کریں ، پھر اللہ نے اس ’’نور‘‘ کی تفسیر بیان فرمائی جس کی طرف یہ کتاب راہنمائی کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِلٰى صِرَاطِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’غالب اور قابل تعریف (اللہ) کے راستے کی طرف۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم والے گھر تک پہنچانے والا راستہ، جو حق کے علم اور اس پر عمل کو متضمن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچانے والے راستے کا ذکر کرنے کے بعد ﴿ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ ﴾کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو کوئی اس راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے کوئی اعوان و انصار نہ ہوں ، تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے غلبے کے ساتھ غالب اور طاقتور ہے، وہ اپنے تمام امور میں قابل ستائش اور اچھے انجام کا مالک ہے۔ نیز یہ اس بات پر دلالت کرے کہ اللہ تعالیٰ کا راستہ، اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور نعوت جلال پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ اور جس نے اپنے بندوں کے لیے یہ راستہ مقرر کیا ہے، وہ غالب، قوت والا، اپنے اقوال و افعال اور احکام میں قابل ستائش ہے۔ وہ معبود ہے اور تمام عبادات کا مستحق ہے یہ عبادات اس صراط مستقیم کی منازل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ، تخلیق،رزق اور تدبیر کے اعتبار سے جس طرح آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اسی طرح وہ اپنے بندوں پر احکام دینی بھی نافذ کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی ملکیت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں کہ وہ ان کو بے فائدہ چھوڑ دے۔جب اللہ تعالیٰ نے دلیل اور برہان واضح کر دی تو اس نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ مِنۡ عَذَابٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اور ہلاکت ہے کافروں کے لیے سخت عذاب کی صورت میں ‘‘ یعنی اس کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان کیا جا سکتا ہے۔

[3] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں آخرت پر‘‘ پس وہ دنیا پر راضی اور مطمئن ہو کر آخرت سے غافل ہو گئے۔ ﴿وَيَصُدُّوۡنَ ﴾ ’’اور (لوگوں کو) روکتے ہیں ‘‘ ﴿ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے راستے سے‘‘ وہ راستہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا ہے اور اسے اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولوں کی زبان پر خوب بیان کر دیا ہے مگر یہ لوگ اپنے آقاومولا کے مقابلے میں عداوت و محاربت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور تلاش کرتے ہیں اس میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ﴿عِوَجًا﴾ ’’کجی‘‘ یعنی وہ اس راستے کو خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے خلاف نفرت پیدا ہو جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا وصف بیان کیا گیا ہے ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ ’’دور کی گمراہی میں ہیں ‘‘ کیونکہ وہ خود گمراہ ہوئے، لوگوں کو گمراہ کیا، انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور ان کے خلاف جنگ کی۔ پس اس سے بڑھ کر اور کون سی گمراہی ہے؟ لیکن اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ، دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے ہیں ، وہ لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں ، وہ امکان بھر اس راستے کو خوبصورت بناتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ سیدھا رہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 255

IbrahimJuz 13 · Page 255

13:43

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَسۡتَ مُرۡسَلٗاۚ قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ وَمَنۡ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلۡكِتَٰبِ ٤٣

And those who have disbelieved say, "You are not a messenger." Say, [O Muḥammad], "Sufficient is Allāh as Witness between me and you, and [the witness of] whoever has knowledge of the Scripture."1

1 translator’s note
  1. i.e., those who recognize the truth through their knowledge of previous scriptures. ↩

سورة ابراهيم

Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

14:1

الٓرۚ كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ لِتُخۡرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِ رَبِّهِمۡ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ ١

Alif, Lām, Rā.1 [This is] a Book which We have revealed to you, [O Muḥammad], that you might bring mankind out of darknesses into the light by permission of their Lord - to the path of the Exalted in Might, the Praiseworthy -

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

14:2

ٱللَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَوَيۡلٞ لِّلۡكَٰفِرِينَ مِنۡ عَذَابٖ شَدِيدٍ ٢

Allāh, to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And woe [i.e., destruction] to the disbelievers from a severe punishment -

14:3

ٱلَّذِينَ يَسۡتَحِبُّونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلِۭ بَعِيدٖ ٣

The ones who prefer the worldly life over the Hereafter and avert [people] from the way of Allāh, seeking to make it [seem] deviant. Those are in extreme error.

14:4

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٤

And We did not send any messenger except [speaking] in the language of his people to state clearly for them, and Allāh sends astray [thereby] whom He wills1 and guides whom He wills. And He is the Exalted in Might, the Wise.

1 translator’s note
  1. i.e., those who refuse His guidance. ↩

14:5

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ أَنۡ أَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرۡهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ٥

And We certainly sent Moses with Our signs, [saying], "Bring out your people from darknesses into the light and remind them of the days1 of Allāh." Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.

1 translator’s note
  1. Days of blessings bestowed upon the Children of Israel. Also interpreted as days of punishment and destruction of the former nations. ↩
As-Sa'diTafsir · 14:3

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском