IbrahimJuz 13 · Page 259

Ibrahim 14:32

Abraham · Juz 13 · Page 259

ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزۡقٗا لَّكُمۡۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡفُلۡكَ لِتَجۡرِيَ فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡهَٰرَ ٣٢

It is Allāh who created the heavens and the earth and sent down rain from the sky and produced thereby some fruits as provision for you and subjected for you1 the ships to sail through the sea by His command and subjected for you the rivers.

1 translator’s note
  1. i.e., made serviceable to you. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 14:32–34

اللہ ہی ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے آسمان اور زمین اور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر اس نے نکالے (پیدا کیے) اس (پانی) کے ذریعے سے پھل، روزی تمھارے لیےاور تابع کر دیا واسطے تمھارے کشتیوں کو تاکہ چلیں وہ سمندر میں اس (اللہ) کے حکم سےاور تابع کر دیا تمھارے لیے نہروں کو (32) اور تابع کر دیا واسطے تمھارے سورج اورچاند کو درانحالیکہ وہ دونوں برابر چل رہے ہیں اور مطیع کر دیا واسطے تمھارے رات اوردن کو (33) اور اس نے دی تمھیں ہر وہ چیز کہ سوال کیا تم نے اس کااور اگر تم شمار کرو نعمتیں اللہ کی تو نہ گن سکو گے تم انھیں ، بے شک انسان ، البتہ بڑا ظالم، نہایت ناشکرا ہے (34)

[32] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو (ان کی وسعتوں کے ساتھ) پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ﴾ ’’اور اتارا آسمان سے پانی‘‘ اس سے مراد وہ بارش ہے جسے اللہ تعالیٰ بادلوں سے برساتا ہے ﴿ فَاَخۡرَجَ بِهٖ ﴾ ’’پس اس کے ذریعے سے نکالے۔‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے سے ﴿ مِنَ الثَّمَرٰتِ ﴾ مختلف انواع کے پھل ﴿ رِزۡقًا لَّكُمۡ﴾ تمھارے اور تمھارے مویشیوں کے لیے رزق ﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے کشتیوں کو‘‘ یعنی جہاز اور کشتیاں ﴿ لِتَجۡرِيَ فِي الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ﴾ ’’کہ چلیں وہ سمندر میں اس کے حکم سے‘‘ وہی ہے جس نے جہازوں اور کشتیوں کی صنعت کو تمھارے لیے آسان بنا کر تمھیں ان پر قدرت عطا کی۔ پانی کی موجوں پر ان کی حفاظت کی۔ تاکہ تمھیں اور تمھارے تجارتی مال و اسباب کو اس شہر تک اٹھا لے جائے جہاں کا تم قصد رکھتے ہو۔﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الۡاَنۡهٰرَ ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے نہروں کو‘‘ تاکہ تم اپنے کھیتوں اور باغات کو سیراب کرو اور خود بھی ان کا پانی پیو۔

[33]﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ دَآىِٕبَيۡنِ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے سورج اور چاند کو، ایک دستور پر برابر۔‘‘ ان کی رفتار میں نرمی آتی ہے نہ وہ سست پڑتے ہیں بلکہ تمھارے مصالح یعنی زمان و اوقات کے حساب، تمھارے ابدان، تمھارے مویشی و حیوانات، کھیتوں اور باغات کے فائدے کے لیے رواں دواں رہتے ہیں ۔ ﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اور کام میں لگایا دیا تمھارے لیے رات کو‘‘ تاکہ تم آرام کر سکو۔ ﴿ وَالنَّهَارَ ﴾ ’’اور دن کو‘‘ تمھارے دیکھنے کے لیے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔

[34]﴿ وَاٰتٰىكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡهُ﴾ ’’اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگا‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہر وہ چیز عطا کی جس کے ساتھ تمھاری آرزوئیں اور ضرورتیں وابستہ ہیں جو تم اپنی زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہو، مثلاً: مال مویشی، مختلف اقسام کے آلات و صناعات وغیرہ۔ ﴿ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَا﴾ ’’اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو توتم شمار نہ کرسکو۔‘‘ یعنی تمھارا ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو کجا، تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ كَفَّارٌ ﴾ ’’یقینا انسان نہایت نادان، بہت بے شکرا ہے‘‘ یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کیونکہ وہ نہایت ظالم، معاصی کے ارتکاب کی جسارت کرنے والا، اپنے رب کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکر وہی ادا کر سکتا ہے، جس کی اللہ تعالیٰ راہ نمائی کرے۔ تب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، اپنے رب کے حق کو پہچانتا ہے اور اسے قائم کرتا ہے۔پس ان آیات کریمہ میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بہت سی اصناف مجمل اورمفصل طور پر بیان ہوئی ہیں …اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کا ذکر اور اس کا شکر ادا کریں اور وہ ان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دن رات اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور اس سے دعا مانگتے رہیں جیسے ہر وقت بتکرار ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا فیضان رہتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 259

IbrahimJuz 13 · Page 259

14:25

تُؤۡتِيٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينِۭ بِإِذۡنِ رَبِّهَاۗ وَيَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٢٥

It produces its fruit all the time, by permission of its Lord. And Allāh presents examples for the people that perhaps they will be reminded.

14:26

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٖ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجۡتُثَّتۡ مِن فَوۡقِ ٱلۡأَرۡضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٖ ٢٦

And the example of a bad word is like a bad tree, uprooted from the surface of the earth, not having any stability.

14:27

يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَۚ وَيَفۡعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ٢٧

Allāh keeps firm those who believe, with the firm word,1 in worldly life and in the Hereafter.2 And Allāh sends astray the wrongdoers. And Allāh does what He wills.

2 translator’s notes
  1. The testimony that there is no deity except Allāh and that Muḥammad (ﷺ) is the messenger of Allāh.

    [657] When questioned in their graves by the angels after death.

    ↩
  2. ↩

14:28

۞ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ كُفۡرٗا وَأَحَلُّواْ قَوۡمَهُمۡ دَارَ ٱلۡبَوَارِ ٢٨

Have you not considered those who exchanged the favor of Allāh for disbelief1 and settled their people [in] the home of ruin?

1 translator’s note
  1. They met Allāh's blessing with denial instead of gratitude. ↩

14:29

جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَاۖ وَبِئۡسَ ٱلۡقَرَارُ ٢٩

[It is] Hell, which they will [enter to] burn, and wretched is the settlement.

14:30

وَجَعَلُواْ لِلَّهِ أَندَادٗا لِّيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِهِۦۗ قُلۡ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمۡ إِلَى ٱلنَّارِ ٣٠

And they have attributed to Allāh equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy yourselves, for indeed, your destination is the Fire."

14:31

قُل لِّعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا بَيۡعٞ فِيهِ وَلَا خِلَٰلٌ ٣١

[O Muḥammad], tell My servants who have believed to establish prayer and spend from what We have provided them, secretly and publicly, before a Day comes in which there will be no exchange [i.e., ransom], nor any friendships.

14:32

ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزۡقٗا لَّكُمۡۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡفُلۡكَ لِتَجۡرِيَ فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡهَٰرَ ٣٢

It is Allāh who created the heavens and the earth and sent down rain from the sky and produced thereby some fruits as provision for you and subjected for you1 the ships to sail through the sea by His command and subjected for you the rivers.

1 translator’s note
  1. i.e., made serviceable to you. ↩

14:33

وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ دَآئِبَيۡنِۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ ٣٣

And He subjected for you the sun and the moon, continuous [in orbit], and subjected for you the night and the day.

As-Sa'diTafsir · 14:32

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском