IbrahimJuz 13 · Page 256

Ibrahim 14:9

Abraham · Juz 13 · Page 256

أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَبَؤُاْ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوحٖ وَعَادٖ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا ٱللَّهُۚ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓاْ أَيۡدِيَهُمۡ فِيٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَقَالُوٓاْ إِنَّا كَفَرۡنَا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَنَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ ٩

Has there not reached you the news of those before you - the people of Noah and ʿAad and Thamūd and those after them? No one knows them [i.e., their number] but Allāh. Their messengers brought them clear proofs, but they returned their hands to their mouths1 and said, "Indeed, we disbelieve in that with which you have been sent, and indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt."

1 translator’s note
  1. Several explanations have been given as to the meaning. Based upon the conclusion of the verse, Ibn Katheer preferred that this was a gesture of denial and rejection. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 14:9–12

کیا نہیں آئی تمھارے پاس خبر ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے (یعنی ) قوم نوح اور عاد اور ثمود کی اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے، نہیں جانتا انھیں (کوئی بھی) سوائے اللہ کے، آئے تھے ان کے پاس رسول ان کے واضح دلیلوں کے ساتھ، پس لوٹائے انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں اور کہا، بے شک ہم نہیں مانتے اس چیز کو کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کےاور بے شک ہم تو البتہ ایسے شک میں ہیں اس سے کہ تم بلاتے ہو ہمیں اس کی طرف، جو اضطراب میں ڈالنے والا ہے (9) کہا ان کے رسولوں نے، کیا اس اللہ کی بابت شک ہے (تمھیں ) جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا؟ وہ بلاتا ہے تمھیں تاکہ وہ بخش دے تمھارے لیے تمھارے گناہ اور (تاکہ) مہلت دے تمھیں ایک وقت مقرر (موت) تک، انھوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہم جیسے ہی، تم چاہتے ہو یہ کہ روک دو ہمیں ان (معبودوں ) سے کہ تھے (ان کی) عبادت کرتے باپ دادا ہمارے، پس لے آؤ تم ہمارے پاس کوئی دلیل واضح (10)کہا ان سے ان کے رسولوں نے نہیں ہیں ہم مگر بشر تم جیسے ہی لیکن اللہ احسان کرتا ہے اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور نہیں ہے (اختیار) واسطے ہمارے یہ کہ ہم لے آئیں تمھارے پاس کوئی معجزہ بغیر حکم اللہ کےاور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن (11) او ر کیا (عذر) ہے ہمارے لیے کہ نہ بھروسہ کریں ہم اوپر اللہ کے جبکہ اس نے دکھائیں ہمیں ہماری (ہدایت کی) راہیں ؟ اور البتہ ہم ضرور صبر کریں گے اوپر اس کے جو اذیت دیتے ہو تم ہمیں اور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (12)

[9] جھٹلانے والی قوموں کے پاس جب ان کے رسول آئے اور انھوں نے ان کو جھٹلایا تو ان قوموں پر عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں ان کو جو سزا دے دی یہ عذاب لوگوں نے دیکھا اور سنا، پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس عذاب سے ڈراتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَؤُا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، قوم نوح، عاد اور ثمود‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت بسط و تفصیل سے ان کے واقعات ذکر فرمائے ہیں ۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ١ۛؕ لَا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا اللّٰهُ﴾ ’’اور جو ان کے بعد ہوئے، جن کو صرف اللہ جانتا ہے‘‘ ان کی کثرت اور ان کی تاریخ مٹ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا ﴿ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان کے رسول ان کے پاس ایسے دلائل لے کر آئے جو ان کی تعلیمات کی صداقت پر دلالت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی رسول مبعوث فرمایا اس کو ایسی آیات عطا فرمائیں جو انسان کے بس میں نہ تھیں ۔ جب ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے تو انھوں نے ان دلائل کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا بلکہ انھوں نے نہایت تکبر کے ساتھ ان کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَرَدُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فِيۡۤ اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’پس لوٹائے انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں ‘‘ یعنی وہ اس وحی پر ایمان نہ لائے جو رسول لے کر آئے تھے انھوں نے کوئی ایسی بات نہ کہی جو ان کے ایمان پر دلالت کرتی ہو۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ﴾(البقرۃ: 2؍19) ’’تو یہ بجلی کی کڑک سے ڈر کر موت کے خوف سے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں ۔‘‘﴿ وَقَالُوۡۤا ﴾ اور صراحت کے ساتھ اپنے رسولوں سے انھوں نے کہا ﴿ اِنَّا كَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ ﴾ ’’ہم نے انکار کیا اس چیز کا جس کے ساتھ تمھیں بھیجا گیا اور بے شک ہمیں اس دعوت میں شک ہے جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو، خلجان میں ڈالنے والا‘‘ یعنی شک و شبہ میں ڈالتا ہے۔

[10] اس بارے میں انھوں نے یقینا جھوٹ کہا تھا اور ظلم کیا تھا۔ اسی لیے ﴿قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ ﴾ ’’ان کے رسولوں نے (ان سے) کہا: ﴿اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ ﴾ ’’کیا اللہ کے بارے میں بھی شک ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود واضح ترین اور روشن ترین حقیقت ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کرتا ہے ﴿فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی جس کے وجود پر تمام اشیاء کے وجود کا دارومدار ہے۔ تو اس کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں جو معلوم ہو، حتیٰ کہ امور محسوسہ بھی اس کی تائید نہیں کرتے۔ اس لیے انبیاء و مرسلین نے ان کو اس طرح خطاب فرمایا ہے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ﴿يَدۡعُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’وہ تمھیں بلاتا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمھیں تمھارے فائدے کے امور اور تمھارے مصالح کی طرف بلاتا ہے ﴿لِيَغۡفِرَ لَكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَؔكُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’تاکہ تمھارے گناہ بخشے اور فائدہ پہنچانے کے لیے ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔‘‘ یعنی تمھیں رسول کی دعوت پر لبیک کہنے کے اجر میں دنیاوی اور اخروی ثواب عطا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس لیے دعوت نہیں دی کہ تمھاری عبادت سے مستفید ہو بلکہ تمھاری عبادت کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ انھوں نے اپنے رسولوں کی دعوت کو اس طرح ٹھکرا دیا جیسے جاہل اور بے قوف لوگ ٹھکراتے ہیں ﴿قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے اپنے رسولوں سے کہا ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو‘‘ یعنی تمھیں ہم پر نبوت اور رسالت کی بنا پر کیسے فضیلت حاصل ہے؟ ﴿تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’تم چاہتے ہو کہ تم ہمیں ان چیزوں سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ تب ہم تمھاری رائے کی خاطر اپنے آباء و اجداد کی سیرت اور ان کے نظریات کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں اور ہم کیسے تمھاری اطاعت کر سکتے ہیں جبکہ تم ہماری ہی طرح انسان ہو؟ ﴿فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’پس ہمارے پاس کوئی کھلی دلیل لاؤ۔‘‘ یعنی واضح دلیل اور حجت پیش کرو اور دلیل سے ان کی مراد وہ آیت اور معین معجزہ تھا جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے، حالانکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے۔

[11]﴿قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ ﴾ ان کے رسولوں نے ان کے مطالبے اور اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ ﴾ ’’ہم تمھارے ہی جیسے آدمی ہیں ۔‘‘ یعنی یہ صحیح اور حقیقت ہے کہ ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ ﴾ مگر تمھارا یہ اعتراض اس حق کو باطل نہیں کر سکتا جسے ہم لے کر آئے ہیں کیونکہ ﴿ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾ ’’اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، احسان فرماتا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی وحی اور رسالت سے نواز دیا تو یہ اس کا فضل و احسان ہے اور کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو روک سکے اور اس کو اس کی نوازشوں سے منع کر سکے۔ تم اس چیز میں غور کرو جو ہم تمھارے پاس لے کر آئے ہیں اگر وہ حق ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ حق نہیں ہے تو بے شک اسے ٹھکرا دو۔ مگر ہم جو کچھ لے کر آئے اسے ٹھکرانے کے لیے ہمارے حال کو اپنے لیے دلیل نہ بناؤ اور تمھارا یہ کہنا ﴿ فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾’’کوئی واضح دلیل لے کر آؤ‘‘ تو یہ چیز ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے اور ہمارے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِيَكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’ہمارا کام نہیں کہ تمھارے پاس کوئی دلیل لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اگر وہ چاہے تو تمھارے پاس معجزہ لے آئے اور اگر وہ نہ چاہے تو تمھارے پاس معجزہ نہ لائے اور وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق کرتا ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ہی پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور پر نہیں ﴿ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’چاہیے کہ مومن بھروسہ کریں ‘‘ پس وہ اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کفایت تامہ، قدرت کاملہ اور بے پایاں احسان کا مالک ہے۔ جلب مصالح اور دفع ضرر میں آسانی پیدا کرنے میں اہل ایمان اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور ان کا توکل ان کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے توکل کا وجوب مستفاد ہوتا ہے نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ توکل لوازمات ایمان اور بڑی بڑی عبادات میں شمار ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کو محبوب اور جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے کیونکہ تمام عبادات توکل پر موقوف ہیں ۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 256

IbrahimJuz 13 · Page 256

14:6

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ أَنجَىٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٞ ٦

And [recall, O Children of Israel], when Moses said to his people, "Remember the favor of Allāh upon you when He saved you from the people of Pharaoh, who were afflicting you with the worst torment and were slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord.

14:7

وَإِذۡ تَأَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَئِن شَكَرۡتُمۡ لَأَزِيدَنَّكُمۡۖ وَلَئِن كَفَرۡتُمۡ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٞ ٧

And [remember] when your Lord proclaimed, 'If you are grateful, I will surely increase you [in favor]; but if you deny, indeed, My punishment is severe.'"

14:8

وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكۡفُرُوٓاْ أَنتُمۡ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ ٨

And Moses said, "If you should disbelieve, you and whoever is on the earth entirely - indeed, Allāh is Free of need and Praiseworthy."

14:9

أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَبَؤُاْ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوحٖ وَعَادٖ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا ٱللَّهُۚ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓاْ أَيۡدِيَهُمۡ فِيٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَقَالُوٓاْ إِنَّا كَفَرۡنَا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَنَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ ٩

Has there not reached you the news of those before you - the people of Noah and ʿAad and Thamūd and those after them? No one knows them [i.e., their number] but Allāh. Their messengers brought them clear proofs, but they returned their hands to their mouths1 and said, "Indeed, we disbelieve in that with which you have been sent, and indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt."

1 translator’s note
  1. Several explanations have been given as to the meaning. Based upon the conclusion of the verse, Ibn Katheer preferred that this was a gesture of denial and rejection. ↩

14:10

۞ قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ أَفِي ٱللَّهِ شَكّٞ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يَدۡعُوكُمۡ لِيَغۡفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَكُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ قَالُوٓاْ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأۡتُونَا بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ١٠

Their messengers said, "Can there be doubt about Allāh, Creator of the heavens and earth? He invites you that He may forgive you of your sins, and He delays you [i.e., your death] for a specified term." They said, "You are not but men like us who wish to avert us from what our fathers were worshipping. So bring us a clear authority [i.e., evidence]."

As-Sa'diTafsir · 14:9

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском