Al-Hijr 15:39
The Rocky Tract · Juz 14 · Page 264
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٣٩
[Iblees] said, "My Lord, because You have put me in error, I will surely make [disobedience] attractive to them [i.e., mankind] on earth, and I will mislead them all
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 15:26–44
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
Page 264
15:32
قَالَ يَٰٓإِبۡلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ ٣٢
[Allāh] said, "O Iblees, what is [the matter] with you that you are not with those who prostrate?"
15:33
قَالَ لَمۡ أَكُن لِّأَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهُۥ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ ٣٣
He said, "Never would I prostrate to a human whom You created out of clay from an altered black mud."
15:34
قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ ٣٤
[Allāh] said, "Then depart from it,1 for indeed, you are expelled.
1 translator’s note
- Your position in the heavens. ↩
15:35
وَإِنَّ عَلَيۡكَ ٱللَّعۡنَةَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ ٣٥
And indeed, upon you is the curse until the Day of Recompense."
15:36
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ٣٦
He said, "My Lord, then reprieve me until the Day they are resurrected."
15:37
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ ٣٧
[Allāh] said, "So indeed, you are of those reprieved
15:38
إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ ٣٨
Until the Day of the time well-known."
15:39
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٣٩
[Iblees] said, "My Lord, because You have put me in error, I will surely make [disobedience] attractive to them [i.e., mankind] on earth, and I will mislead them all
15:40
إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٤٠
Except, among them, Your chosen servants."
15:41
قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيمٌ ٤١
[Allāh] said, "This is a path [of return] to Me [that is] straight.
15:42
إِنَّ عِبَادِي لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ ٤٢
Indeed, My servants - no authority will you have over them, except those who follow you of the deviators.
15:43
وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٤٣
And indeed, Hell is the promised place for them all.
15:44
لَهَا سَبۡعَةُ أَبۡوَٰبٖ لِّكُلِّ بَابٖ مِّنۡهُمۡ جُزۡءٞ مَّقۡسُومٌ ٤٤
It has seven gates; for every gate is of them [i.e., Satan's followers] a portion designated."
15:45
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّٰتٖ وَعُيُونٍ ٤٥
Indeed, the righteous will be within gardens and springs,
15:46
ٱدۡخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ ٤٦
[Having been told], "Enter it in peace, safe [and secure]."
15:47
وَنَزَعۡنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنۡ غِلٍّ إِخۡوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٖ مُّتَقَٰبِلِينَ ٤٧
And We will remove whatever is in their breasts of resentment,1 [so they will be] brothers, on thrones facing each other.
1 translator’s note
- See footnote to 7:43. ↩
15:48
لَا يَمَسُّهُمۡ فِيهَا نَصَبٞ وَمَا هُم مِّنۡهَا بِمُخۡرَجِينَ ٤٨
No fatigue will touch them therein, nor from it will they [ever] be removed.
15:49
۞ نَبِّئۡ عِبَادِيٓ أَنِّيٓ أَنَا ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٤٩
[O Muḥammad], inform My servants that it is I who am the Forgiving, the Merciful,
15:50
وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ ٱلۡعَذَابُ ٱلۡأَلِيمُ ٥٠
And that it is My punishment which is the painful punishment.
15:51
وَنَبِّئۡهُمۡ عَن ضَيۡفِ إِبۡرَٰهِيمَ ٥١
And inform them about the guests of Abraham,