Al-Hijr 15:52
The Rocky Tract · Juz 14 · Page 265
إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗا قَالَ إِنَّا مِنكُمۡ وَجِلُونَ ٥٢
When they entered upon him and said, "Peace." [Abraham] said, "Indeed, we are fearful [i.e., apprehensive] of you."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 15:51–56
اور خبر دیجیے انھیں مہمانوں کی بابت ابراہیم کے (51) جس وقت داخل ہوئے وہ اس پر تو کہا انھوں نے، سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، تحقیق ہم تو تم سے ڈرتے ہیں (52) انھوں نے کہا، نہ ڈر تو، بلاشبہ ہم تو خوش خبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے علم والے کی (53) ابراہیم نے کہا، کیا تم خوشخبری دیتے ہو مجھے باوجود اس کے کہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپا؟ سو (اب) کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو تم؟ (54)انھوں نے کہا، ہم بشارت دیتے ہیں تجھے حق (امر واقعی) کی پس نہ ہو تو ناامیدوں میں سے (55)ابراہیم نے کہااور وہ کون ناامید ہوتا ہے رحمت سے اپنے رب کی سوائے گمراہوں کے؟ (56)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں ‘‘ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیلu کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں ۔ حضرت ابراہیمu کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
[52]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام‘‘ یعنی انھوں نے ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم تم لوگوں سے خائف ہیں ۔‘‘ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوۡا﴾ فرشتوں نے ان سے کہا:
[53]﴿ لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں ‘‘ یہاں لڑکے سے مراد اسحاقu ہیں ۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ’’علیم‘‘ سے مراد ہے ’’کثیر العلم‘‘ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(الصافات:37؍ 112) ’’اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[54] ابراہیمu نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِيۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔‘‘ ﴿ عَلٰۤى اَنۡ مَّسَّنِيَ الۡكِبَرُ ﴾ ’’جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا‘‘ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴾ ’’پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟‘‘ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں ۔
[55]﴿ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے‘‘ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں ۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
[56] ابراہیمu نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں ‘‘ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیمu کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔
Page 265
15:52
إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗا قَالَ إِنَّا مِنكُمۡ وَجِلُونَ ٥٢
When they entered upon him and said, "Peace." [Abraham] said, "Indeed, we are fearful [i.e., apprehensive] of you."
15:53
قَالُواْ لَا تَوۡجَلۡ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٖ ٥٣
[The angels] said, "Fear not. Indeed, we give you good tidings of a learned boy."
15:54
قَالَ أَبَشَّرۡتُمُونِي عَلَىٰٓ أَن مَّسَّنِيَ ٱلۡكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ ٥٤
He said, "Have you given me good tidings although old age has come upon me? Then of what [wonder] do you inform?"
15:55
قَالُواْ بَشَّرۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡقَٰنِطِينَ ٥٥
They said, "We have given you good tidings in truth, so do not be of the despairing."
15:56
قَالَ وَمَن يَقۡنَطُ مِن رَّحۡمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ ٥٦
He said, "And who despairs of the mercy of his Lord except for those astray?"
15:57
قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٥٧
[Abraham] said, "Then what is your business [here], O messengers?"
15:58
قَالُوٓاْ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمٖ مُّجۡرِمِينَ ٥٨
They said, "Indeed, we have been sent to a people of criminals,
15:59
إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٥٩
Except the family of Lot; indeed, we will save them all
15:60
إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ قَدَّرۡنَآ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٦٠
Except his wife." We [i.e., Allāh] decreed that she is of those who remain behind.1
1 translator’s note
- For having collaborated with the evildoers. ↩
15:61
فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٦١
And when the messengers came to the family of Lot,
15:62
قَالَ إِنَّكُمۡ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ ٦٢
He said, "Indeed, you are people unknown."
15:63
قَالُواْ بَلۡ جِئۡنَٰكَ بِمَا كَانُواْ فِيهِ يَمۡتَرُونَ ٦٣
They said, "But we have come to you with that about which they were disputing,
15:64
وَأَتَيۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ٦٤
And we have come to you with truth, and indeed, we are truthful.
15:65
فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَٱتَّبِعۡ أَدۡبَٰرَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٞ وَٱمۡضُواْ حَيۡثُ تُؤۡمَرُونَ ٦٥
So set out with your family during a portion of the night and follow behind them and let not anyone among you look back and continue on to where you are commanded."
15:66
وَقَضَيۡنَآ إِلَيۡهِ ذَٰلِكَ ٱلۡأَمۡرَ أَنَّ دَابِرَ هَٰٓؤُلَآءِ مَقۡطُوعٞ مُّصۡبِحِينَ ٦٦
And We conveyed to him [the decree] of that matter: that those [sinners] would be eliminated by early morning.
15:67
وَجَآءَ أَهۡلُ ٱلۡمَدِينَةِ يَسۡتَبۡشِرُونَ ٦٧
And the people of the city came rejoicing.1
1 translator’s note
- At the news of Lot's visitors. ↩
15:68
قَالَ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ ضَيۡفِي فَلَا تَفۡضَحُونِ ٦٨
[Lot] said, "Indeed, these are my guests, so do not shame me.
15:69
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُخۡزُونِ ٦٩
And fear Allāh and do not disgrace me."
15:70
قَالُوٓاْ أَوَلَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٧٠
They said, "Have we not forbidden you from [protecting] people?"