Al-Hijr 15:7
The Rocky Tract · Juz 14 · Page 262
لَّوۡمَا تَأۡتِينَا بِٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٧
Why do you not bring us the angels, if you should be among the truthful?"
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 15:6–9
اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)
[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘
[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق مبین کو واضح کر دیتا ہے۔ قرآن کی حقانیت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی حفاظت یہ ہے کہ وہ اہل قرآن کو ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہیں کرتا جو ان کو ہلاک کر ڈالے۔
Page 262
سورة الحجر
Al-Hijr
The Rocky Tract · Meccan · 99 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
15:1
الٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ وَقُرۡءَانٖ مُّبِينٖ ١
Alif, Lām, Rā.1 These are the verses of the Book and a clear Qur’ān [i.e., recitation].
1 translator’s note
- See footnote to 2:1. ↩
15:2
رُّبَمَا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ كَانُواْ مُسۡلِمِينَ ٢
Perhaps those who disbelieve will wish1 that they had been Muslims.
1 translator’s note
- On the Day of Judgement or at the time of death. ↩
15:3
ذَرۡهُمۡ يَأۡكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ وَيُلۡهِهِمُ ٱلۡأَمَلُۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ ٣
Let them eat and enjoy themselves and be diverted by [false] hope, for they are going to know.
15:4
وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٞ مَّعۡلُومٞ ٤
And We did not destroy any city but that for it was a known decree.
15:5
مَّا تَسۡبِقُ مِنۡ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ ٥
No nation will precede its term, nor will they remain thereafter.
15:6
وَقَالُواْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِي نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلذِّكۡرُ إِنَّكَ لَمَجۡنُونٞ ٦
And they say, "O you upon whom the message has been sent down, indeed you are mad.1
1 translator’s note
- Literally, "possessed by jinn." ↩
15:7
لَّوۡمَا تَأۡتِينَا بِٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٧
Why do you not bring us the angels, if you should be among the truthful?"
15:8
مَا نُنَزِّلُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَمَا كَانُوٓاْ إِذٗا مُّنظَرِينَ ٨
We do not send down the angels except with truth;1 and they [i.e., the disbelievers] would not then be reprieved.
1 translator’s note
- i.e., with a message or, as the conclusion of the verse suggests, to carry out a promised punishment. ↩
15:9
إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ٩
Indeed, it is We who sent down the message [i.e., the Qur’ān], and indeed, We will be its guardian.
15:10
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ فِي شِيَعِ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٠
And We had certainly sent [messengers] before you, [O Muḥammad], among the sects of the former peoples.
15:11
وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ١١
And no messenger would come to them except that they ridiculed him.
15:12
كَذَٰلِكَ نَسۡلُكُهُۥ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ١٢
Thus do We insert it [i.e., denial] into the hearts of the criminals.
15:13
لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٣
They will not believe in it, while there has already occurred the precedent of the former peoples.
15:14
وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَابٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعۡرُجُونَ ١٤
And [even] if We opened to them a gate from the heaven and they continued therein to ascend,
15:15
لَقَالُوٓاْ إِنَّمَا سُكِّرَتۡ أَبۡصَٰرُنَا بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٞ مَّسۡحُورُونَ ١٥
They would say, "Our eyes have only been dazzled. Rather, we are a people affected by magic."