An-Nahl 16:1
The Bee · Juz 14 · Page 267
أَتَىٰٓ أَمۡرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوهُۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ١
The command of Allāh is coming,1 so be not impatient for it. Exalted is He and high above what they associate with Him.
1 translator’s note
- Literally, "has come," indicating the certainty and nearness of the Last Hour. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 16:1–2
آپہنچا حکم اللہ کا سو نہ جلدی طلب کرو تم اسے، پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (1) وہی نازل کرتا ہے فرشتوں (جبریل) کو ساتھ روح (وحی) کے، اپنے حکم سے، اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، یہ کہ ڈراؤ تم (لوگوں کو) کہ بے شک نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم ڈرو مجھ ہی سے (2)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدے کو قریب بتلاتے ہوئے اور اس کے وقوع کو متحقق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَتٰۤى اَمۡرُ اللّٰهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡهُ۠﴾ ’’اللہ کا حکم آپہنچا، پس آپ اس میں جلدی نہ کریں ‘‘ کیونکہ یہ وعدہ ضرور آئے گا اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ﴾ ’’وہ پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک بناتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ شریک، بیٹے، بیوی اور ہمسر وغیرہ کی نسبت سے بالکل پاک ہے جن کو یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، یہ نسبت اللہ تعالیٰ کے جلال کے لائق نہیں اور اس کے کمال کے منافی ہے۔
[2] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کو اس کے دشمنوں نے متصف کیا ہے۔ اس لیے اس وحی کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین پر نازل فرمائی جس کی اتباع کو وہ پسند فرماتا ہے۔ اس وحی میں ان صفات کمال کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا چاہیے۔ فرمایا: ﴿ يُنَزِّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ﴾ ’’وہ اتارتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے‘‘ یعنی اس وحی کے ساتھ، جس پر روح کی زندگی کا دارومدار ہے ﴿ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ ﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے‘‘ یعنی ان بندوں پر وحی نازل فرماتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت کا لب لباب اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ہے: ﴿ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾ ’’انھیں خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور صفات عظمت میں اس کی وحدانیت کے بارے میں ڈراؤ، جو کہ درحقیقت صفات الوہیت ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے رسول مبعوث کیے۔ تمام شرائع اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر زور دیتی ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی مخالفت کرتا اور اس کے متضاد کام کرتا ہے یہ شرائع اس کے خلاف جہاد کرتی ہیں ۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے دلائل و براہین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۃ النعم‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کیے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کیے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں ۔
Page 267
15:91
ٱلَّذِينَ جَعَلُواْ ٱلۡقُرۡءَانَ عِضِينَ ٩١
Who have made the Qur’ān into portions.1
1 translator’s note
- Accepting part and rejecting part according to their own inclinations. ↩
15:92
فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔلَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٩٢
So by your Lord, We will surely question them all
15:93
عَمَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٩٣
About what they used to do.
15:94
فَٱصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٩٤
Then declare what you are commanded1 and turn away from the polytheists.2
15:95
إِنَّا كَفَيۡنَٰكَ ٱلۡمُسۡتَهۡزِءِينَ ٩٥
Indeed, We are sufficient for you against the mockers
15:96
ٱلَّذِينَ يَجۡعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ ٩٦
Who make [equal] with Allāh another deity. But they are going to know.
15:97
وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ٩٧
And We already know that your breast is constrained by what they say.
15:98
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ ٩٨
So exalt [Allāh] with praise of your Lord and be of those who prostrate [to Him].
15:99
وَٱعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأۡتِيَكَ ٱلۡيَقِينُ ٩٩
And worship your Lord until there comes to you the certainty [i.e., death].
سورة النحل
An-Nahl
The Bee · Meccan · 128 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
16:1
أَتَىٰٓ أَمۡرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوهُۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ١
The command of Allāh is coming,1 so be not impatient for it. Exalted is He and high above what they associate with Him.
1 translator’s note
- Literally, "has come," indicating the certainty and nearness of the Last Hour. ↩
16:2
يُنَزِّلُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦٓ أَنۡ أَنذِرُوٓاْ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱتَّقُونِ ٢
He sends down the angels, with the inspiration [i.e., revelation] of His command, upon whom He wills of His servants, [telling them], "Warn that there is no deity except Me; so fear Me."
16:3
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۚ تَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٣
He created the heavens and earth in truth. High is He above what they associate with Him.
16:4
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٖ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٞ مُّبِينٞ ٤
He created man from a sperm-drop; then at once1 he is a clear adversary.
1 translator’s note
- As soon as he becomes strong and independent. ↩
16:5
وَٱلۡأَنۡعَٰمَ خَلَقَهَاۖ لَكُمۡ فِيهَا دِفۡءٞ وَمَنَٰفِعُ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ ٥
And the grazing livestock He has created for you; in them is warmth1 and [numerous] benefits, and from them you eat.
1 translator’s note
- i.e., in clothing, tents, furnishings, etc. ↩
16:6
وَلَكُمۡ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسۡرَحُونَ ٦
And for you in them is [the enjoyment of] beauty when you bring them in [for the evening] and when you send them out [to pasture].