An-NahlJuz 14 · Page 269

An-Nahl 16:26

The Bee · Juz 14 · Page 269

قَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنۡيَٰنَهُم مِّنَ ٱلۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّقۡفُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَأَتَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ ٢٦

Those before them had already plotted, but Allāh came at [i.e., uprooted] their building from the foundations, so the roof fell upon them from above them,1 and the punishment came to them from where they did not perceive.

1 translator’s note
  1. i.e., Allāh caused their plan to fail and exposed their plot. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 16:24–29

اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ کیا ہے جو نازل کیا تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی (24) تا کہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے، دن قیامت کےاور بوجھ ان لوگوں کے بھی جنھیں وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ اٹھا رہے ہیں (25)تحقیق مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس آیا اللہ (کا عذاب) ان کی عمارت کو (تباہ کرنے) بنیادوں سے، پس گر پڑی ان پرچھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان کے پاس عذاب جہاں سے نہیں شعور رکھتے تھے وہ (26) ، پھر دن قیامت کے اللہ رسوا کرے گا انھیں اور کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جو تھے تم جھگڑا کرتے ان کی بابت (مومنوں سے)؟ کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم، بلاشبہ رسوائی آج کے دن اور برائی (عذاب) ہے اوپر کافروں کے (27) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے اپنی جانوں پر، پس پیش کریں گے وہ صلح (موت کے وقت یہ کہتے ہوئے )، کہ نہیں تھے ہم عمل کرتے کوئی بھی برا، (کہتے ہیں فرشتے) کیوں نہیں ؟ بے شک اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم عمل کرتے (28)(انھیں کہا جائے گا) پس داخل ہو جاؤ تم دروازوں میں جہنم کے، ہمیشہ رہو گے اس میں ، پس ، البتہ بہت ہی برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (29)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے، تمھارے رب نے کیا اتارا ہے؟‘‘ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے… کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے… کہ تمھارا اس کی بابت کیا جواب ہے؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو؟ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ) نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنھیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں ۔

[25] یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ﴾ ’’اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے‘‘ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں ۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں ۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں ، برے ہیں ۔‘‘ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔

[27,26]﴿ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کیے اور اپنے مکروفریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کیے۔ ﴿ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ﴾یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکر و فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ﴿ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ﴾ ’’پس گر پڑی ان پر چھت‘‘ سازشوں کا تانا بانا بن کر انھوں نے مکرو فریب کی جو عمارت کھڑی کی تھی ان کے لیے عذاب بن گئی جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا۔ ﴿وَاَتٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور آیا ان کے پاس عذاب، جہاں سے ان کو خبر نہ تھی‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ یہ عمارت ان کو فائدہ دے گی اور ان کو عذاب سے بچا لے گی مگر اس کے برعکس انھوں نے جو بنیاد رکھی تھی وہ ان کے لیے عذاب بن گئی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے مکروفریب کے ابطال میں بہترین مثال دی ہے کیونکہ جب انھوں نے رسولوں کی دعوت کی تکذیب کی تو انھوں نے خوب سوچ سمجھ کر ان کی تکذیب کی انھوں نے کچھ باطل اصول و قواعد وضع کیے جن کی طرف یہ رجوع کرتے تھے اور ان خود ساختہ اصولوں کی بنا پر رسولوں کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، نیز انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کو نقصان اور تکالیف پہنچانے کے لیے حیلے وضع کرتے تھے۔ پس ان کا مکروفریب ان کے لیے وبال بن گیا اور ان کی تدبیریں خود ان کی تباہی کا باعث بن گئیں ۔ کیونکہ ان کا مکروفریب انتہائی برا کام تھا ﴿ وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر:35؍43) ’’اورمکروفریب کا وبال انھی پر پڑتا ہے جومکروفریب کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تو ہے دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے زیادہ رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ ثُمَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُخۡزِيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر قیامت کے دن رسوا کرے گا ان کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ برسرعام خلائق کے سامنے ان کو رسوا کرے گا، ان کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کو آشکارا کرے گا۔ ﴿ وَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تُشَآقُّوۡنَ فِيۡهِمۡ﴾ ’’اور کہے گا، کہاں ہیں میرے وہ شریک جن پر تم کو بڑی ضدتھی‘‘ یعنی جن کی خاطر تم اللہ تعالیٰ اور حزب اللہ سے عداوت اور ان سے جنگ کرتے اور ان کے بارے میں یہ زعم باطل رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ ان سے یہ سوال کرے گا تو ان کے پاس اپنی گمراہی کے اقرار اور اپنے عناد کے اعتراف کے سوا کوئی جواب نہ ہو گا۔ پس وہ کہیں گے:﴿ ضَلُّوۡا عَنَّا وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاعراف7؍37) ’’وہ سب غائب ہو گئے اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ واقعی وہ حق کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’وہ لوگ کہیں گے جن کو علم دیا گیا تھا‘‘ یعنی علمائے ربانی ﴿ اِنَّ الۡخِزۡيَ الۡيَوۡمَ﴾ ’’بے شک رسوائی آج کے دن‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ وَالسُّوۡٓءَ ﴾ ’’اور برائی‘‘ یعنی بہت برا عذاب ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’کافروں پر ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں اہل علم کی فضیلت کا بیان ہے کہ وہ اس دنیا میں حق بولتے ہیں اور اس روز بھی حق بات کہیں گے جس روز گواہ کھڑے ہوں گے اور ان کی بات اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک قابل اعتبار ہو گی۔

[28] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی وفات کے وقت اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کیا سلوک کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں جبکہ وہ اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے اس حال میں ان کی جان قبض کر رہے ہوں گے کہ ان کا ظلم اور ان کی گمراہی اپنے عروج پر ہو گی اور ظالم لوگ جس طرح وہاں ، مختلف قسم کے عذاب، رسوائی اور اہانت سے دوچار ہوں گے، معلوم ہو جائے گا۔ ﴿ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ ﴾ ’’تب وہ ظاہر کریں گے فرماں برداری‘‘ یعنی اس وقت وہ بڑی فرماں برداری کا اظہار اور اپنے ان معبودوں کا انکار کریں گے جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اور کہیں گے: ﴿ مَا كُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ﴾ ’’ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔‘‘ ان سے کہا جائے گا: ﴿ بَلٰۤى ﴾ ’’کیوں نہیں ‘‘ تم برائی کیا کرتے تھے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یقینا اللہ، تم جو کچھ کرتے تھے، جانتا ہے‘‘ پس تمھارا انکار تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ ان کے یہ احوال قیامت کے بعض مقامات پر ہوں گے۔ وہ یہ گمان کرتے ہوئے، دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا انکار کر دیں گے کہ ان کا یہ انکار ان کو کچھ فائدہ دے گا۔ مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر جوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے اعمال لوگوں کے سامنے آشکارا ہو جائیں گے تو اپنے کرتوتوں کا اقرار اور اعتراف کر لیں گے، اس لیے وہ اس وقت تک جہنم میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کر لیں گے۔

[29] جب وہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوں گے تو تمام گناہ گار اپنے گناہ کے مطابق اور اپنے حسب حال دروازوں میں سے داخل ہوں گے۔ ﴿ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس کیا برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا‘‘ یعنی جہنم کی آگ کیونکہ یہ حسرت و ندامت کا ٹھکانا، الم و شقاوت کی منزل، رنج و غم کا مقام اور اللہ حیی و قیوم کی سخت ناراضی کا موقع ہو گا۔ جہنم کا عذاب ان سے دور نہ کیا جائے گا، جہنم کے عذاب کی المناکی کو ان سے ایک دن کے لیے بھی رفع نہ کیا جائے گا۔ رب رحیم ان سے منہ پھیر لے گا اور ان کو عذاب عظیم کا مزا چکھائے گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 269

An-NahlJuz 14 · Page 269

16:15

وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَأَنۡهَٰرٗا وَسُبُلٗا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ ١٥

And He has cast into the earth firmly set mountains, lest it shift with you, and [made] rivers and roads, that you may be guided,

16:16

وَعَلَٰمَٰتٖۚ وَبِٱلنَّجۡمِ هُمۡ يَهۡتَدُونَ ١٦

And landmarks. And by the stars they are [also] guided.1

1 translator’s note
  1. Through the desert or the sea at night. ↩

16:17

أَفَمَن يَخۡلُقُ كَمَن لَّا يَخۡلُقُۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ١٧

Then is He who creates like one who does not create? So will you not be reminded?

16:18

وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٨

And if you should count the favors of Allāh, you could not enumerate them. Indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

16:19

وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعۡلِنُونَ ١٩

And Allāh knows what you conceal and what you declare.

16:20

وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخۡلُقُونَ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ ٢٠

And those they invoke other than Allāh create nothing, and they [themselves] are created.

16:21

أَمۡوَٰتٌ غَيۡرُ أَحۡيَآءٖۖ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ ٢١

They are [in fact] dead,1 not alive, and they do not perceive when they will be resurrected.

1 translator’s note
  1. i.e., inanimate or without understanding. ↩

16:22

إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۚ فَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٞ وَهُم مُّسۡتَكۡبِرُونَ ٢٢

Your god is one God. But those who do not believe in the Hereafter - their hearts are disapproving, and they are arrogant.

16:23

لَا جَرَمَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡتَكۡبِرِينَ ٢٣

Assuredly, Allāh knows what they conceal and what they declare. Indeed, He does not like the arrogant.

16:24

وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡ قَالُوٓاْ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٢٤

And when it is said to them, "What has your Lord sent down?" they say, "Legends of the former peoples,"

16:25

لِيَحۡمِلُوٓاْ أَوۡزَارَهُمۡ كَامِلَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَمِنۡ أَوۡزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ ٢٥

That they may bear their own burdens [i.e., sins] in full on the Day of Resurrection and some of the burdens of those whom they misguide without [i.e., by lack of] knowledge. Unquestionably, evil is that which they bear.

16:26

قَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنۡيَٰنَهُم مِّنَ ٱلۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّقۡفُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَأَتَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ ٢٦

Those before them had already plotted, but Allāh came at [i.e., uprooted] their building from the foundations, so the roof fell upon them from above them,1 and the punishment came to them from where they did not perceive.

1 translator’s note
  1. i.e., Allāh caused their plan to fail and exposed their plot. ↩
As-Sa'diTafsir · 16:26

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском