An-Nahl 16:31
The Bee · Juz 14 · Page 270
جَنَّٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ لَهُمۡ فِيهَا مَا يَشَآءُونَۚ كَذَٰلِكَ يَجۡزِي ٱللَّهُ ٱلۡمُتَّقِينَ ٣١
Gardens of perpetual residence, which they will enter, beneath which rivers flow. They will have therein whatever they wish. Thus does Allāh reward the righteous -
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 16:30–32
اور (جب) کہا جاتا ہے ان لوگوں سے جو پرہیز گار ہوئے، کیا چیز ہے جو نازل کی تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، خیر، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اس دنیا میں ، (بدلہ ہے) اچھااور البتہ گھر آخرت کا بہترین ہےاور یقینا بہت ہی اچھا ہے گھر پرہیز گاروں کا (30)(، یعنی ) باغات ہمیشہ کے، وہ داخل ہوں گے ان میں ، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، واسطے ان کے ہو گا ان میں جو کچھ وہ چاہیں گے، اس طرح ہی جزاء دیتا ہے اللہ متقی لوگوں کو (31) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، درآنحالیکہ وہ پاک ہوتے ہیں (کفر وشرک سے) تو کہتے ہیں (فرشتے) سلام ہو تم پر، داخل ہو جاؤ تم جنت میں بوجہ ان کے جو تھے تم عمل کرتے (32)
[30] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھٹلایا، ان کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے قول کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے، وہ ایک عظیم نعمت اور بڑی بھلائی ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے بندوں پر احسان فرمایا۔ (ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے) پس انھوں نے اس نعمت کا قبولیت اور اطاعت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پس انھوں نے اسے جانا اور اس پر عمل کیا۔ ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا ﴾ ’’ان کے لیے جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر فائز ہوئے اور انھوں نے اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کی ﴿ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ﴾ ’’اس دنیا میں بھلائی ہے‘‘ یعنی اس دنیا میں ان کے لیے وسیع رزق، بہترین زندگی، اطمینان قلب اور امن و سرور ہے۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہت ہی اچھا ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا گھر دنیا کے گھر اور اس میں موجود لذات و شہوات سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی نعمتیں بہت کم، مختلف قسم کی آفات سے گھری ہوئی اور آخر کار ختم ہو جانے والی ہیں ۔ اس کے برعکس آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اس لیے فرمایا:﴿ وَلَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’ اور کیا خوب گھر ہے پرہیز گاروں کا ‘‘
[32,31]﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ لَهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ﴾ ’’ باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، جن میں وہ داخل ہوں گے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ان کے لیے وہاں وہ ہے جو وہ چاہیں گے‘‘ یعنی جب بھی ان کے دل کسی چیز کی آرزو اور اس کا ارادہ کریں گے تو وہ چیز انھیں اپنی کامل ترین شکل میں حاصل ہو جائے گی، یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ کوئی ایسی نعمت طلب کریں جس میں ان کے دلوں کی لذت اور روح کا سرور ہو اور وہ حاضر نہ ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ اہل جنت کو ہر وہ چیز عطا کرے گا جس کی وہ تمنا کریں گے حتیٰ کہ وہ ان کو ایسی ایسی نعمتیں یاد دلائے گا جو کبھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی ہوں گی۔نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس کے کرم کی کوئی انتہا اور اس کی سخاوت کی کوئی حد نہیں ۔ اس کی صفات ذات، صفات افعال، ان صفات کے آثار اور اس کے اقتدار اور بادشاہی کی عظمت و جلالت میں ، کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے ﴿ كَذٰلِكَ يَجۡزِي اللّٰهُ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’اللہ پرہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے‘‘ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ان فرائض کو ادا کرتے ہیں جو ان کے ذمے عائد ہیں ، یعنی وہ فرائض و واجبات جو قلب، بدن، زبان اور حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں اور ان تمام امور کو ترک کر دینا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔﴿الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’وہ لوگ، فرشتے جن کی جان قبض کرتے ہیں ‘‘ اس حالت میں کہ وہ دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿طَيِّبِيۡنَ﴾ ’’وہ پاکیزہ ہیں ‘‘ یعنی وہ ہر نقص اور گندگی سے پاک صاف رہتے ہیں جو ایمان میں خلل انداز ہوتی ہے۔ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت سے، ان کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر و ثنا سے اور ان کے جوارح اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے شاد کام ہوتے ہیں ۔ ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمُ﴾ ’’فرشتے کہتے ہیں ، تم پر سلامتی ہو‘‘ تمھارے لیے خاص طور پر کامل سلام اور ہر آفت سے سلامتی اور تم ہر ناپسندیدہ چیز سے محفوظ ہو۔ ﴿ ادۡخُلُوا الۡجَنَّةَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے حکم کی تعمیل کے بدلے جنت میں داخل ہو جاؤ۔ کیونکہ عمل ہی دراصل جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات کا سبب ہے اور اس عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ انسانوں کی قوت و اختیار سے۔
Page 270
16:27
ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يُخۡزِيهِمۡ وَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تُشَٰٓقُّونَ فِيهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ إِنَّ ٱلۡخِزۡيَ ٱلۡيَوۡمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٢٧
Then on the Day of Resurrection He will disgrace them and say, "Where are My 'partners' for whom you used to oppose [the believers]?" Those who were given knowledge will say, "Indeed disgrace, this Day, and evil are upon the disbelievers" -
16:28
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡۖ فَأَلۡقَوُاْ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعۡمَلُ مِن سُوٓءِۭۚ بَلَىٰٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٢٨
The ones whom the angels take in death [while] wronging themselves,1 and [who] then offer submission, [saying], "We were not doing any evil." But, yes! Indeed, Allāh is Knowing of what you used to do.
1 translator’s note
- i.e., having made punishment due to them for their numerous sins and crimes. ↩
16:29
فَٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ ٢٩
So enter the gates of Hell to abide eternally therein, and how wretched is the residence of the arrogant.
16:30
۞ وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡۚ قَالُواْ خَيۡرٗاۗ لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۚ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞۚ وَلَنِعۡمَ دَارُ ٱلۡمُتَّقِينَ ٣٠
And it will be said to those who feared Allāh, "What did your Lord send down?" They will say, "[That which is] good." For those who do good in this world is good; and the home of the Hereafter is better. And how excellent is the home of the righteous -
16:31
جَنَّٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ لَهُمۡ فِيهَا مَا يَشَآءُونَۚ كَذَٰلِكَ يَجۡزِي ٱللَّهُ ٱلۡمُتَّقِينَ ٣١
Gardens of perpetual residence, which they will enter, beneath which rivers flow. They will have therein whatever they wish. Thus does Allāh reward the righteous -
16:32
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمُ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٣٢
The ones whom the angels take in death, [being] good and pure; [the angels] will say, "Peace be upon you. Enter Paradise for what you used to do."
16:33
هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ أَوۡ يَأۡتِيَ أَمۡرُ رَبِّكَۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٣٣
Do they [i.e., the disbelievers] await except that the angels should come to them or there comes the command of your Lord? Thus did those do before them. And Allāh wronged them not, but they had been wronging themselves.
16:34
فَأَصَابَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٣٤
So they were struck by the evil consequences of what they did and were enveloped by what they used to ridicule.