An-Nahl 16:44
The Bee · Juz 14 · Page 272
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ٤٤
[We sent them] with clear proofs and written ordinances. And We revealed to you the message [i.e., the Qur’ān] that you may make clear to the people what was sent down to them and that they might give thought.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 16:43–44
اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے آپ سے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف ، پس پوچھو تم اہل کتاب سے اگر ہو تم نہیں جانتے (43)(ہم نے بھیجا تھا انھیں ) ساتھ دلیلوں اور کتابوں کےاور نازل کیا ہم نے آپ کی طرف ذکر (قرآن) تاکہ بیان کریں آپ لوگوں کے لیے جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف اور تاکہ وہ بھی غوروفکر کریں (44)
[43] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا ﴾ ’’نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو‘‘ یعنی آپﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں ۔ پس آپ سے پہلے ہم نے فرشتوں کو رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ کامل ترین انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور اسی طرح عورتوں میں سے بھی کسی عورت کو رسول نہیں بنایا۔ ﴿ نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾’’وحی کرتے تھے ہم ان کی طرف‘‘ ہم ان رسولوں کی طرف شریعت اور احکام وحی کرتے تھے جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’پس پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے‘‘ یعنی اہل کتاب سے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اگر تم نہیں جانتے۔‘‘ یعنی اگر تمھیں گزشتہ امتوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں اور تمھیں شک ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رسول بنایا ہے یا نہیں تو تم ان لوگوں سے پوچھ لو جو اس کا علم رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور معجزات نازل ہوئے جنھوں نے ان کتابوں کو پڑھا اور سمجھا۔ ان سب کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بستیوں میں سے صرف انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس آیت کریمہ کا عموم اہل علم کی مدح پر دلالت کرتا ہے، نیز علم کی تمام انواع میں کتاب اللہ کا علم بلند ترین علم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو علم نہیں رکھتا حکم دیا ہے کہ وہ تمام حوادث میں اہل علم کی طرف رجوع کرے۔ یہ آیت کریمہ اہل علم کی تعدیل اور ان کے تزکیہ کو بھی متضمن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کرنے کا حکم دیا ہے، نیز جاہل آدمی اہل علم سے سوال کرنے پر گرفت سے نکل جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو اپنی وحی اور تنزیل کا امین بنایا ہے اور وہ تزکیہ اور صفات کمال سے متصف ہونے پر مامور ہیں۔
[44] اور اہل ذکر میں بہترین لوگ اہل قرآن ہیں کیونکہ وہی درحقیقت اہل ذکر ہیں اور دوسروں کی نسبت زیادہ اس نام کے مستحق ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ﴾ ’’اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر وہ چیز مذکور ہے، جس کی بندوں کو ظاہری اور باطنی طور پر اپنے دینی اور دنیاوی امور میں سخت ضرورت ہے۔ ﴿لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ان باتوں کی وضاحت کریں جو ان کی طرف نازل کی گئیں ‘‘ اور یہ تبیین، الفاظ اور معانی دونوں کو شامل ہے۔ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ پس وہ اس میں غوروفکر کر کے اپنی استعداد اور اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ کے مطابق، اس کے علوم میں سے معانی کے خزانوں کا استخراج کریں ۔
Page 272
16:43
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٤٣
And We sent not before you except men to whom We revealed [Our message]. So ask the people of the message [i.e., former scriptures] if you do not know.
16:44
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ٤٤
[We sent them] with clear proofs and written ordinances. And We revealed to you the message [i.e., the Qur’ān] that you may make clear to the people what was sent down to them and that they might give thought.
16:45
أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخۡسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ ٤٥
Then, do those who have planned evil deeds feel secure that Allāh will not cause the earth to swallow them or that the punishment will not come upon them from where they do not perceive?
16:46
أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ فِي تَقَلُّبِهِمۡ فَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ ٤٦
Or that He would not seize them during their [usual] activity, and they could not cause failure [i.e., escape from Him]?
16:47
أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ عَلَىٰ تَخَوُّفٖ فَإِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٌ ٤٧
Or that He would not seize them gradually [in a state of dread]?1 But indeed, your Lord is Kind and Merciful.2
16:48
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ يَتَفَيَّؤُاْ ظِلَٰلُهُۥ عَنِ ٱلۡيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدٗا لِّلَّهِ وَهُمۡ دَٰخِرُونَ ٤٨
Have they not considered what things Allāh has created? Their shadows incline to the right and to the left, prostrating to Allāh, while they [i.e., those creations] are humble.
16:49
وَلِلَّهِۤ يَسۡجُدُۤ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن دَآبَّةٖ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ ٤٩
And to Allāh prostrates whatever is in the heavens and whatever is on the earth of creatures, and the angels [as well], and they are not arrogant.
16:50
يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوۡقِهِمۡ وَيَفۡعَلُونَ مَا يُؤۡمَرُونَ۩ ٥٠
They fear their Lord above them, and they do what they are commanded.
16:51
۞ وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓاْ إِلَٰهَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَإِيَّٰيَ فَٱرۡهَبُونِ ٥١
And Allāh has said, "Do not take for yourselves two1 deities. He [i.e., Allāh] is but one God, so fear only Me."
1 translator’s note
- Meaning more than one. ↩
16:52
وَلَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًاۚ أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ ٥٢
And to Him belongs whatever is in the heavens and the earth, and to Him is [due] worship constantly. Then is it other than Allāh that you fear?
16:53
وَمَا بِكُم مِّن نِّعۡمَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيۡهِ تَجۡـَٔرُونَ ٥٣
And whatever you have of favor - it is from Allāh. Then when adversity touches you, to Him you cry for help.
16:54
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمۡ إِذَا فَرِيقٞ مِّنكُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ ٥٤
Then when He removes the adversity from you, at once a party of you associates others with their Lord