An-NahlJuz 14 · Page 273

An-Nahl 16:57

The Bee · Juz 14 · Page 273

وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ ٱلۡبَنَٰتِ سُبۡحَٰنَهُۥ وَلَهُم مَّا يَشۡتَهُونَ ٥٧

And they attribute to Allāh daughters1 - exalted is He - and for them is what they desire [i.e., sons].

1 translator’s note
  1. By claiming that the angels are His daughters. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 16:56–60

اور ٹھہراتے ہیں وہ واسطے ان (معبودوں ) کے جن کی بابت وہ نہیں جانتے، ایک حصہ اس میں سے جو ہم نے رزق دیا انکو، قسم اللہ کی! ، البتہ ضرور پوچھے جاؤ گے تم اس چیز کی بابت جو تھے تم (اللہ پر) افترا باندھتے (56) اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کے لیے بیٹیاں ، پاک ہے وہ (اولاد سے) اور ان کے لیے وہ ، جووہ چاہتے ہیں (یعنی بیٹے)(57) اور جب خوشخبری دی جاتی ہے ایک کو ان میں سے بیٹی کی (پیدائش کی) تو ہو جاتا ہے اس کاچہرہ سیاہ جبکہ وہ غم و غصہ سے بھرا ہوتا ہے (58) چھپتا پھرتا ہے لوگوں سے بوجہ اس عار کے کہ جو خوشخبری دیا گیا وہ ساتھ اس کے، کیا روک (باقی) رکھے اسے اوپر ذلت کے یا گاڑ (دبا) دے اس کو مٹی میں ؟ آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (59) ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے ، مثال ہے بری اور اللہ کے لیے ہے مثال سب سے اونچی اور وہی ہے بڑا غالب، خوب حکمت والا (60)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت، ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو… جو کوئی علم رکھتے ہیں ، نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں … اس رزق میں حصہ دار بناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لیے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا فَقَالُوۡا هٰؔذَا لِلّٰهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهٰؔذَا لِشُرَؔكَآىِٕنَا۠١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ … الآيۃ ﴾(الانعام: 6؍ 136) ’’ان مشرکین نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے اللہ کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ہمارے خود ساختہ شریکوں کے لیے ہے پھر جو حصہ ان کے شریکوں کے لیے ہے، وہ اللہ تک نہیں پہنچتا…‘‘ ﴿ تَاللّٰهِ لَتُسۡئَلُنَّ عَمَّا كُنۡتُمۡ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! تم جو افترا پردازی کرتے ہو اس کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔‘‘ فرمایا ﴿ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمۡ اَمۡ عَلَى اللّٰهِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾(یونس: 10؍59) ’’کیا اللہ نے تمھیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟‘‘ اور فرمایا:﴿ وَمَا ظَنُّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾(یونس: 10؍60) ’’اور ان لوگوں کا کیا خیال ہے، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟‘‘ اس افترا پردازی پر انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔

[59-57]﴿ وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾ ’’اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کے لیے بیٹیاں ، وہ اس سے پاک ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے فرشتوں کے بارے میں ، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں ، کہا تھا کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ﴿ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے وہ ہے جو وہ چاہتے ہیں ‘‘ یعنی خود اپنے لیے بیٹے چاہتے ہیں حتیٰ کہ بیٹیوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں ۔ پس ان کا یہ حال تھا کہ ﴿ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِالۡاُنۡثٰى ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا﴾ ’’جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری ملتی تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا‘‘ اس کرب و غم سے جو اس کو پہنچتا۔ ﴿ وَّهُوَؔ كَظِيۡمٌ﴾’’اور وہ جی میں گھٹتا‘‘ یعنی جب اسے بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو وہ حزن و غم کے مارے خاموش ہو جاتا حتیٰ کہ وہ اس خبر سے اپنے ابنائے جنس میں اپنی فضیحت محسوس کرتا اور اس خبر پر وہ عار کی وجہ سے منہ چھپاتا پھرتا، پھر وہ اپنی اس بیٹی کے بارے میں جس کی اس کو خوش خبری ملتی، اپنی فکر اور فاسد رائے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہو جاتا کہ وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرے؟﴿ اَيُمۡسِكُهٗ عَلٰى هُوۡنٍ ﴾ ’’کیا اسے رہنے دے، ذلت قبول کر کے‘‘ یعنی آیا اہانت اور ذلت برداشت کر کے اسے قتل نہ کرے اور زندہ چھوڑ دے۔ ﴿اَمۡ يَدُسُّهٗ فِي الـتُّرَابِ﴾ ’’یا اس کو داب دے مٹی میں ‘‘ یعنی اسے زندہ دفن کر دے۔ یہی وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی سخت مذمت کی ہے۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’خبردار، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے متصف کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھیں ، یعنی اس کی طرف اولاد کو منسوب کرنا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دونوں قسموں میں سے اس بدتر قسم کو اللہ کی طرف منسوب کیا جس کو خود اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے اسے منسوب کر دیتے تھے؟ پس بہت ہی برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے۔

[60] چونکہ یہ بری مثال تھی جس کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں ، مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوۡءِ﴾ ’’ان لوگوں کے واسطے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، بری مثال ہے‘‘ ناقص مثال اور کامل عیب ﴿ وَلِلّٰهِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’اور اللہ کے لیے مثال ہے سب سے بلند‘‘ اس سے مراد ہر وصف کمال ہے اور تمام کائنات میں جو بھی صفت کمال پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے اور کسی بھی پہلو سے کسی نقص کو مستلزم نہیں ہے اور اس کے اولیاء کے دلوں میں بھی مثل اعلیٰ یعنی اس کی تعظیم، اجلال، محبت، اس کی طرف انابت اور اس کی معرفت جاگزیں ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ زبردست ہے‘‘ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور تمام کائنات اس کی مطیع ہے ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ جو تمام اشیاء کو ان کے لائق محل و مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو بھی حکم دیتا ہے اور جو بھی فعل سرانجام دیتا ہے، اس پر اس کی ستائش کی جاتی ہے اور اس کے کمال پر اس کی ثنا بیان کی جاتی ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 273

An-NahlJuz 14 · Page 273

16:55

لِيَكۡفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡۚ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ٥٥

So they will deny what We have given them. Then enjoy yourselves, for you are going to know.

16:56

وَيَجۡعَلُونَ لِمَا لَا يَعۡلَمُونَ نَصِيبٗا مِّمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡۗ تَٱللَّهِ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَفۡتَرُونَ ٥٦

And they assign to what they do not know1 [i.e., false deities] a portion of that which We have provided them. By Allāh, you will surely be questioned about what you used to invent.

1 translator’s note
  1. i.e., that of which they have no knowledge; rather, they have mere assumption based upon tradition or the claims of misguided men. ↩

16:57

وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ ٱلۡبَنَٰتِ سُبۡحَٰنَهُۥ وَلَهُم مَّا يَشۡتَهُونَ ٥٧

And they attribute to Allāh daughters1 - exalted is He - and for them is what they desire [i.e., sons].

1 translator’s note
  1. By claiming that the angels are His daughters. ↩

16:58

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلۡأُنثَىٰ ظَلَّ وَجۡهُهُۥ مُسۡوَدّٗا وَهُوَ كَظِيمٞ ٥٨

And when one of them is informed of [the birth of] a female, his face becomes dark, and he suppresses grief.

16:59

يَتَوَٰرَىٰ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ مِن سُوٓءِ مَا بُشِّرَ بِهِۦٓۚ أَيُمۡسِكُهُۥ عَلَىٰ هُونٍ أَمۡ يَدُسُّهُۥ فِي ٱلتُّرَابِۗ أَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ ٥٩

He hides himself from the people because of the ill of which he has been informed. Should he keep it in humiliation or bury it in the ground? Unquestionably, evil is what they decide.

16:60

لِلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوۡءِۖ وَلِلَّهِ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٦٠

For those who do not believe in the Hereafter is the description [i.e., an attribute] of evil;1 and for Allāh is the highest attribute. And He is Exalted in Might, the Wise.

1 translator’s note
  1. Such as that described in the previous two verses. ↩

16:61

وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلۡمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيۡهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ٦١

And if Allāh were to impose blame on the people for their wrongdoing, He would not have left upon it [i.e., the earth] any creature, but He defers them for a specified term. And when their term has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].

16:62

وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكۡرَهُونَۚ وَتَصِفُ أَلۡسِنَتُهُمُ ٱلۡكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفۡرَطُونَ ٦٢

And they attribute to Allāh that which they dislike [i.e., daughters], and their tongues assert the lie that they will have the best [from Him]. Assuredly, they will have the Fire, and they will be [therein] neglected.1

1 translator’s note
  1. Another meaning is "...and they will be made to precede [all others thereto]." ↩

16:63

تَٱللَّهِ لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلۡيَوۡمَ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٦٣

By Allāh, We did certainly send [messengers] to nations before you, but Satan made their deeds attractive to them. And he is their [i.e., the disbelievers] ally today [as well], and they will have a painful punishment.

16:64

وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِي ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٦٤

And We have not revealed to you the Book, [O Muḥammad], except for you to make clear to them that wherein they have differed and as guidance and mercy for a people who believe.

As-Sa'diTafsir · 16:57

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском