An-NahlJuz 14 · Page 277

An-Nahl 16:91

The Bee · Juz 14 · Page 277

وَأَوۡفُواْ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمۡ وَلَا تَنقُضُواْ ٱلۡأَيۡمَٰنَ بَعۡدَ تَوۡكِيدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ ٱللَّهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيلًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ ٩١

And fulfill the covenant of Allāh when you have taken it, [O believers], and do not break oaths after their confirmation while you have made Allāh, over you, a security [i.e., witness]. Indeed, Allāh knows what you do.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 16:91–92

اور پورا کرو تم عہد اللہ کا جب آپس میں عہدو پیماں کرو تم اور نہ توڑو تم قسمیں (اپنی) بعد پختہ کر لینے کے ان کو، جبکہ بنالیا تم نے اللہ کو اوپر اپنے (عہدو پیماں کے) ضامن، بے شک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو (91) اور نہ ہو تم مانند اس عورت کی جس نے توڑ ڈالا کاتا ہوا سوت اپنا بعد مضبوطی (سے کاتنے) کے، ٹکڑے ٹکڑے کر کے، کہ بناؤ تم اپنی قسموں کو دھوکا دینے کا ذریعہ آپس میں ، اس لیے کہ ہو ایک جماعت بڑھی ہوئی (مال و افراد میں ) دوسری جماعت سے، یقینا آزماتا ہے تمھیں اللہ ساتھ اس (عہد و پیماں ) کےاور البتہ ضرور بیان کرے گا وہ تمھارے لیے دن قیامت کے وہ چیز کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے (92)

[91] یہ آیت کریمہ ان تمام عہدوں کو شامل ہے جو بندے نے اپنے رب کے ساتھ کیے ہیں ، مثلاً:عبادات، نذریں اور قسمیں وغیرہ جن کو بندے نے اپنے آپ پر لازم کیا ہو جبکہ وہ صحیح اور جائز ہوں اور یہ اس معاہدے کو بھی شامل ہے جو دو بندوں کے درمیان ہو، مثلاً:لین دین کرنے والے دو اشخاص کے درمیان معاہدہ اور وہ وعدہ جو بندہ کسی اور کے ساتھ کرتا ہے اور اپنے آپ پر اس کو لازم قرار دے لیتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں قدرت رکھتے ہوئے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنا واجب ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے سے روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَيۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡؔكِيۡدِهَا﴾ ’’اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو۔‘‘ یعنی اللہ کے نام پر قسمیں کھانے کے بعد ان کو مت توڑو۔ ﴿ وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰهَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا‘‘ اے معاہدہ کرنے والو! ﴿كَفِيۡلًا﴾ ’’ضامن‘‘ اس لیے تمھارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ تم اس کے مطابق عمل نہ کرو جس پر تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن مقرر کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کو ترک کرنا اور اس کی استہانت ہے۔ حالانکہ دوسرا فریق تم سے حلف لینے اور اس تاکید پر راضی ہو گیا جس میں تم نے اللہ تعالیٰ کو ضامن بنایا۔ جس طرح اس نے تمھیں امین بنایا اور تم پر اپنے حسن ظن کا اظہار کیا ہے اسی طرح تم بھی اپنے الفاظ اور تاکید کی پاسداری کرو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ جانتا ہے‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کی نیت اور قصد کے مطابق جزا دے گا۔

[92]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا﴾ اپنے عہد توڑنے میں بدترین مثال نہ بنو جو بدعہدی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والوں کی صفت پر دلالت کرتی ہے ﴿ كَالَّتِيۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ اَنۡكَاثًا﴾’’اس عورت کی مانند، جس نے مضبوطی سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔‘‘ یعنی پہلے اس نے محنت سے سوت کاتا، جب وہ مضبوط اور اس کی خواہش کے مطابق ہوگیا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، گویا اس نے پہلے کاتنے کی محنت کی، پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں محنت کی۔ پس ناکامی، تھکاوٹ، حماقت اور عقل کی کمی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اسی طرح جو کوئی عہد کو توڑتا ہے وہ ظالم، جاہل اور احمق ہے، اس کے دین اور مروت میں نقص ہے۔﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًۢا بَيۡنَكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ اُمَّةٌ هِيَ اَرۡبٰى مِنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ آپس میں ، اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے‘‘ یعنی تمھاری یہ حالت نہیں ہونی چاہیے کہ موکد اور پختہ قسمیں اٹھاؤ، پھر موقع اور حالات کی تلاش میں رہو۔ پس ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اگر معاہدہ کرنے والا کمزور ہو اور مخالف فریق پر قدرت نہ رکھتا ہو تو معاہدے کو پورا کرے مگر قسم اور معاہدے کی حرمت اور تعظیم کی خاطر نہیں بلکہ اپنی بے بسی کی بنا پر اور اگر معاہدہ کرنے والا طاقتور ہو اور معاہدہ توڑنے میں اسے کوئی دنیاوی مصلحت نظر آتی ہو تو اسے توڑ ڈالے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے عہد کی پروا نہ کرے۔ یہ سب کچھ خواہشات نفس کے تابع ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کی مراد، مروت انسانی اور اخلاق فاضلہ پر مقدم رکھا گیا ہو اور یہ اس لیے کہ ایک قوم عدد اور طاقت کے لحاظ سے دوسری قوم سے بڑی ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَبۡلُوۡؔكُمُ اللّٰهُ بِهٖ﴾ ’’یہ تو اللہ پرکھتا ہے تم کو اس کے ذریعے سے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھارا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے مصیبتوں کے اسباب مقرر کرتا ہے جس سے سچا اور وفادار شخص بدعہد اور بدبخت شخص سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’اور آئندہ کھول دے گا اللہ تمھارے لیے قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑتے تھے‘‘ پس وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا دے گا اور بدعہدی کرنے والے کو رسوا کرے گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 277

An-NahlJuz 14 · Page 277

16:88

ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدۡنَٰهُمۡ عَذَابٗا فَوۡقَ ٱلۡعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفۡسِدُونَ ٨٨

Those who disbelieved and averted [others] from the way of Allāh - We will increase them in punishment over [their] punishment for what corruption they were causing.

16:89

وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدًا عَلَيۡهِم مِّنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِۚ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ ٨٩

And [mention] the Day when We will resurrect among every nation a witness over them from themselves [i.e., their prophet]. And We will bring you, [O Muḥammad], as a witness over these [i.e., your nation]. And We have sent down to you the Book as clarification for all things and as guidance and mercy and good tidings for the Muslims.1

1 translator’s note
  1. Those who have submitted themselves to Allāh. ↩

16:90

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ٩٠

Indeed, Allāh orders justice and good conduct and giving [help] to relatives and forbids immorality and bad conduct and oppression. He admonishes you that perhaps you will be reminded.

16:91

وَأَوۡفُواْ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمۡ وَلَا تَنقُضُواْ ٱلۡأَيۡمَٰنَ بَعۡدَ تَوۡكِيدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ ٱللَّهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيلًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ ٩١

And fulfill the covenant of Allāh when you have taken it, [O believers], and do not break oaths after their confirmation while you have made Allāh, over you, a security [i.e., witness]. Indeed, Allāh knows what you do.

16:92

وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّتِي نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ أَنكَٰثٗا تَتَّخِذُونَ أَيۡمَٰنَكُمۡ دَخَلَۢا بَيۡنَكُمۡ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرۡبَىٰ مِنۡ أُمَّةٍۚ إِنَّمَا يَبۡلُوكُمُ ٱللَّهُ بِهِۦۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ ٩٢

And do not be like she who untwisted her spun thread after it was strong [by] taking your oaths as [means of] deceit between you because one community is more plentiful [in number or wealth] than another community.1 Allāh only tries you thereby. And He will surely make clear to you on the Day of Resurrection that over which you used to differ.

1 translator’s note
  1. i.e., do not swear falsely or break a treaty or contract merely for a worldly advantage. ↩

16:93

وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَلَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٩٣

And if Allāh had willed, He could have made you [of] one religion, but He sends astray whom He wills and guides whom He wills.1 And you will surely be questioned about what you used to do.

1 translator’s note
  1. According to His knowledge of each soul's preference. ↩
As-Sa'diTafsir · 16:91

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском