Al-Isra 17:1
The Night Journey · Juz 15 · Page 282
سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ إِلَى ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡأَقۡصَا ٱلَّذِي بَٰرَكۡنَا حَوۡلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنۡ ءَايَٰتِنَآۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ ١
Exalted1 is He who took His Servant [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] by night from al-Masjid al-Ḥarām to al-Masjid al-Aqṣā,2 whose surroundings We have blessed, to show him of Our signs. Indeed, He is the Hearing,3 the Seeing.4
4 translator’s notes
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 17:1
پاک ہے وہ (اللہ) جو لے گیا اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام (بیت اللہ) سے مسجد اقصی (بیت المقدس) تک، وہ جو برکت رکھی تھی ہم نے اس کے اردگردتاکہ ہم دکھائیں اس کو اپنی کچھ نشانیاں بلاشبہ وہی ہے خوب سننے والا ، دیکھنے والا (1)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات مقدس کی تنزیہ و تعظیم بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے افعال بہت عظیم اور اس کے احسانات بہت جسیم ہیں ۔ اس کے جملہ افعال و احسانات میں سے ایک یہ ہے ﴿اَسۡرٰؔى بِعَبۡدِهٖ لَيۡلًا ﴾ ’’وہ رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو لے گیا۔‘‘ یعنی وہ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو راتوں رات لے گیا ﴿ مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾’’مسجد حرام سے‘‘ جو علی الاطلاق تمام مساجد میں جلیل ترین مسجد ہے۔ ﴿ اِلَى الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا ﴾ ’’مسجد اقصیٰ تک‘‘ جو فضیلت والی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے اور وہ انبیاء کرام کی سرزمین ہے۔جناب نبی مجتبیٰﷺ کو ایک ہی رات میں بہت دور مسافت تک لے جایا گیا پھر اسی رات واپس لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانیاں دکھائیں جن سے ہدایت، بصیرت، ثبات اور قوت تفریق و امتیاز میں اضافہ ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی آپ پر عنایت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے تمام امور میں آپ کے لیے بھلائی کو آسان فرما دیا اور آپ کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا جن کی بنا پر آپ نے تمام اولین و آخرین پر فوقیت حاصل کی۔ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’اسراء‘‘ کا یہ واقعہ رات کے ابتدائی حصے میں پیش آیا اور سفر مسجد حرام سے شروع ہوا مگر صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپ کو حضرت ام ہانیr کے گھر سے رات کے اس سفر پر لے جایا گیا۔(تفسیر طبری:9؍5) اس سے ظاہر ہوا کہ مسجد حرام کو جو فضیلت حاصل ہے، وہ تمام حرم کے لیے ہے۔ حرم میں عبادات کا ثواب اسی طرح کئی گنا بڑھ جاتا ہے جس طرح مسجد حرام میں عبادت کا ثواب کئی گنا ہو جاتا ہے، نیز یہ ’’اسراء‘‘ (معراج) کا واقعہ آپ کو بیک وقت جسم اور روح کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اگر آپ کو معراج جسم اور روح کے ساتھ نہ ہوئی ہوتی تو اس میں ’’آیت کبریٰ‘‘ کا کوئی مفہوم ہے نہ کسی بڑی منقبت کا کوئی پہلو ہے۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب کان النبیﷺ تنام عینہ… الخ، حدیث:3570)معراج کے واقعہ میں نبی اکرمﷺ سے بہت سی صحیح احادیث منقول ہیں ان میں ان تمام امور کی تفاصیل مذکور ہیں جن کا آپ نے مشاہدہ کیا۔ آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا حتیٰ کہ آپ تمام آسمانوں کے اوپر چلے گئے۔ وہاں آپ نے جنت، جہنم اور تمام انبیاء کرام کو ان کے مراتب کے مطابق دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر پچاس نمازیں فرض کیں ، پھر آپ موسیٰu کے مشورے سے بار بار اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے رہے حتیٰ کہ وہ بالفعل پانچ ہو گئیں مگر ان کا ثواب، پچاس نمازوں کا ہے۔ اس رات آپ کو اور آپ کی امت کو بہت سے مفاخر عطا كيے گئے جن کی مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ، قرآن مجید کو نازل کرنے کے ذکر کے مقام پر (سورۂ فرقان میں ) اور جہاں قرآن کی بابت چیلنج کیا گیا (سورۂ بقرہ میں ) ،ان تینوں مقامات میں نبیﷺ کی صفت عبودیت (آپ کے بندے ہونے کی خوبی)کو بیان فرمایا، اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے یہ مقامات بلند اپنے رب کی عبودیت کی تکمیل کی وجہ ہی سے حاصل كيے ہیں ۔﴿ الَّذِيۡ بٰرَؔكۡنَا حَوۡلَهٗ ﴾ ’’وہ جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے‘‘ یعنی درختوں ، دریاؤں اور سدا بہار شادابی کے ذریعے سے برکت عطا کی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی برکت ہی ہے کہ مسجد اقصیٰ کو مسجد حرام اور مسجد نبوی کے سوا دیگر تمام مسجدوں پر فضیلت عطا کی گئی، نیز مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کے لیے دور سے سفر کر کے جانا مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو اپنے نبیوں اور چنے ہوئے بندوں کے رہنے کے لیے مختص فرمایا۔
Page 282
سورة الإسراء
Al-Isra
The Night Journey · Meccan · 111 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
17:1
سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ إِلَى ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡأَقۡصَا ٱلَّذِي بَٰرَكۡنَا حَوۡلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنۡ ءَايَٰتِنَآۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ ١
Exalted1 is He who took His Servant [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] by night from al-Masjid al-Ḥarām to al-Masjid al-Aqṣā,2 whose surroundings We have blessed, to show him of Our signs. Indeed, He is the Hearing,3 the Seeing.4
4 translator’s notes
17:2
وَءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلۡنَٰهُ هُدٗى لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُواْ مِن دُونِي وَكِيلٗا ٢
And We gave Moses the Scripture and made it a guidance for the Children of Israel that you not take other than Me as Disposer of affairs,1
1 translator’s note
- i.e., trust in Allāh, knowing that He (subḥānahu wa taʿālā) is responsible for every occurrence. ↩
17:3
ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٍۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَبۡدٗا شَكُورٗا ٣
O descendants of those We carried [in the ship] with Noah. Indeed, he was a grateful servant.
17:4
وَقَضَيۡنَآ إِلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَّتَيۡنِ وَلَتَعۡلُنَّ عُلُوّٗا كَبِيرٗا ٤
And We conveyed1 to the Children of Israel in the Scripture that, "You will surely cause corruption on the earth twice, and you will surely reach [a degree of] great haughtiness."
1 translator’s note
- Foretold out of divine knowledge of what they would do. ↩
17:5
فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ عِبَادٗا لَّنَآ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ فَجَاسُواْ خِلَٰلَ ٱلدِّيَارِۚ وَكَانَ وَعۡدٗا مَّفۡعُولٗا ٥
So when the [time of] promise came for the first of them,1 We sent against you servants of Ours - those of great military might, and they probed [even] into the homes,2 and it was a promise fulfilled.
17:6
ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ ٱلۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَمۡدَدۡنَٰكُم بِأَمۡوَٰلٖ وَبَنِينَ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ أَكۡثَرَ نَفِيرًا ٦
Then We gave back to you a return victory over them. And We reinforced you with wealth and sons and made you more numerous in manpower.
17:7
إِنۡ أَحۡسَنتُمۡ أَحۡسَنتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡۖ وَإِنۡ أَسَأۡتُمۡ فَلَهَاۚ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ ٱلۡأٓخِرَةِ لِيَسُـُٔواْ وُجُوهَكُمۡ وَلِيَدۡخُلُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوۡاْ تَتۡبِيرًا ٧
[And said], "If you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, [you do it] to them [i.e., yourselves]." Then when the final [i.e., second] promise came, [We sent your enemies] to sadden your faces and to enter the masjid [i.e., the temple in Jerusalem], as they entered it the first time, and to destroy what they had taken over with [total] destruction.