Al-Isra 17:27
The Night Journey · Juz 15 · Page 284
إِنَّ ٱلۡمُبَذِّرِينَ كَانُوٓاْ إِخۡوَٰنَ ٱلشَّيَٰطِينِۖ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورٗا ٢٧
Indeed, the wasteful are brothers of the devils, and ever has Satan been to his Lord ungrateful.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 17:26–30
اور دے تو قرابت دار کو اس کا حق اورمسکین اور مسافر کو بھی اور نہ فضول خرچی کر فضول خرچی کرنا (26)یقینا فضول خرچی کرنے والے ہیں بھائی شیطانوں کےاور ہے شیطان اپنے رب کا نہایت ناشکرا(27) اور اگر اعراض کرے تو ان سے، انتظار میں رحمت کے اپنے رب کی کہ امید رکھتا ہے تو اس کی، تو کہہ تو واسطے ان کے بات آسان نرم (28)اور نہ کر تو اپنا ہاتھ بندھا ہوا گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اسے بالکل کھول دینا، کہ بیٹھ رہے تو ملامت کیا ہوا، تھکا ماندہ (29) بے شک آپ کا رب ہی فراخ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہے اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا، (ان کو) دیکھنے والا (30)
[27,26]﴿ وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ﴾ ’’اور دے رشتے دار کو اس کا حق‘‘ یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زمان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ ﴿ وَالۡمِسۡكِيۡنَ ﴾ ’’اور مسکین کو‘‘ یعنی زکٰوۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہو جائے۔ ﴿ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور مسافر کو‘‘ اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ ﴿ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا﴾ ’’اور بے جا مت اڑا‘‘ پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زائد ہو جو دی جانی چاہیے ورنہ یہ اسراف و تبذیر کے زمرے میں آئے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ﴿ اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ۠ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰؔطِيۡنِ﴾ ’’بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘ کیونکہ شیطان ہمیشہ ہر قسم کی مذموم خصلت ہی کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ انسان کو بخل اور مال روک رکھنے کی طرف دعوت دیتا ہے اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو وہ اسے اسراف اور تبذیر کی راہ پر لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ معتدل اور مبنی برعدل رویے کا حکم دیتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرماتا ہے:﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا وَكَانَ بَيۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾(الفرقان : 25؍67) ’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔‘‘
[29] اور یہاں فرمایا: ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ ﴾ ’’اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ‘‘ یہ بخل اور خرچ نہ کرنے کے لیے کنایہ ہے۔ ﴿ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ ﴾ ’’اور نہ کھول اسے بالکل کھول دینا‘‘ ایسا نہ ہو کہ تم ان معاملات میں خرچ کرنے لگو جہاں خرچ کرنا مناسب نہیں یا جتنا خرچ کرنا ہو اس سے زیادہ خرچ کرنے لگو۔ ﴿ فَتَقۡعُدَ ﴾ ’’پس تو بیٹھ رہے گا‘‘ اگر تو نے یہ کام کیا ﴿ مَلُوۡمًا﴾ ’’الزام کھایا ہوا‘‘ یعنی اپنے كيے پر ملامت زدہ ہو کر ﴿مَّحۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’ہارا ہوا‘‘ یعنی تم خالی ہاتھ ہوکر رہ جاؤ گے، تمھارے ہاتھ میں مال باقی بچے گا نہ اس کے پیچھے مدح و ثنا…
[28] اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا یہ حکم صرف قدرت اور غنا کی صورت میں ہے۔ رہی تنگدستی اور اخراجات میں عدم گنجائش تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو نہایت اچھے طریقے سے جواب دیا جائے، پس فرمایا:﴿ وَاِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ تَرۡجُوۡهَا ﴾ ’’اگر تو اعراض کرے ان سے اپنے رب کی مہربانی کے انتظار میں جس کی تجھ کو امید ہے‘‘ یعنی اگر تم ان کو عطا نہیں کرتے اور تم اس کو کسی ایسے وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہو جب اللہ تمھیں خوشحالی عطا کرے۔ ﴿ فَقُلۡ لَّهُمۡ قَوۡلًا مَّيۡسُوۡرًؔا ﴾ ’’تو کہہ ان کو نرم بات‘‘ یعنی ان سے نرم لہجے میں بات کرو اور اچھا وعدہ کہ جب بھی گنجائش ہوئی تو ان کو عطا کیا جائے گا اور اس وقت عطا کرنا ممکن نہ ہونے پر ان سے معذرت کرے تاکہ جب وہ تمھارے پاس سے واپس جائیں تو ان کے دل مطمئن ہوں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ صَدَقَةٍ يَّتۡبَعُهَاۤ اَذًى ﴾(البقرۃ:2؍263) ’’صدقہ دینے کے بعد ایذا پہنچانے سے تو یہ بہتر ہے کہ نرم بات کہہ دی جائے اور کسی ناگوار بات پر چشم پوشی کی جائے۔‘‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو رحمت اور رزق کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ انتظار عبادت ہے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کے ساتھ گنجائش اور فراخدستی کے وقت عطا کرنے کا وعدہ کرنا بھی عبادت ہے کیونکہ نیک کام کا ارادہ بھی نیکی ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ مقدور بھر نیکی کرتا رہے اور جس نیک کام پر اسے قدرت نہیں اسے کرنے کی نیت رکھے تاکہ اسے ثواب ملتا رہے اور شاید اللہ تعالیٰ اس کی امید کے سبب سے اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔
[30] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے‘‘ ﴿ وَيَقۡدِرُؔ﴾ اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘ پس جو اس کے علم کے مطابق ان کے لیے درست ہے، اس پر انھیں جزا دے گا اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کرے گا۔
Page 284
17:18
مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصۡلَىٰهَا مَذۡمُومٗا مَّدۡحُورٗا ١٨
Whoever should desire the immediate1 - We hasten for him from it what We will to whom We intend. Then We have made for him Hell, which he will [enter to] burn, censured and banished.
1 translator’s note
- i.e., worldly gratifications. ↩
17:19
وَمَنۡ أَرَادَ ٱلۡأٓخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَٰٓئِكَ كَانَ سَعۡيُهُم مَّشۡكُورٗا ١٩
But whoever desires the Hereafter and exerts the effort due to it while he is a believer - it is those whose effort is ever appreciated [by Allāh].
17:20
كُلّٗا نُّمِدُّ هَٰٓؤُلَآءِ وَهَٰٓؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَۚ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُورًا ٢٠
To each [category] We extend - to these and to those - from the gift of your Lord. And never has the gift of your Lord been restricted.
17:21
ٱنظُرۡ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ وَلَلۡأٓخِرَةُ أَكۡبَرُ دَرَجَٰتٖ وَأَكۡبَرُ تَفۡضِيلٗا ٢١
Look how We have favored [in provision] some of them over others. But the Hereafter is greater in degrees [of difference] and greater in distinction.
17:22
لَّا تَجۡعَلۡ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُومٗا مَّخۡذُولٗا ٢٢
Do not make [as equal] with Allāh another deity and [thereby] become censured and forsaken.
17:23
۞ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا ٢٣
And your Lord has decreed that you worship not except Him, and to parents, good treatment. Whether one or both of them reach old age [while] with you, say not to them [so much as], "uff,"1 and do not repel them but speak to them a noble word.
1 translator’s note
- An expression of disapproval or irritation. ↩
17:24
وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا ٢٤
And lower to them the wing of humility out of mercy and say, "My Lord, have mercy upon them as they brought me up [when I was] small."
17:25
رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمۡۚ إِن تَكُونُواْ صَٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلۡأَوَّٰبِينَ غَفُورٗا ٢٥
Your Lord is most knowing of what is within yourselves. If you should be righteous [in intention] - then indeed He is ever, to the often returning [to Him], Forgiving.1
1 translator’s note
- For those who intend righteousness, hastening to repent from sins and errors committed through human weakness, Allāh (subḥānahu wa taʿālā) promises forgiveness. ↩
17:26
وَءَاتِ ذَا ٱلۡقُرۡبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلۡمِسۡكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيرًا ٢٦
And give the relative his right, and [also] the poor and the traveler, and do not spend wastefully.1
1 translator’s note
- i.e., on that which is unlawful or in disobedience to Allāh. ↩
17:27
إِنَّ ٱلۡمُبَذِّرِينَ كَانُوٓاْ إِخۡوَٰنَ ٱلشَّيَٰطِينِۖ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورٗا ٢٧
Indeed, the wasteful are brothers of the devils, and ever has Satan been to his Lord ungrateful.