Al-IsraJuz 15 · Page 290

Al-Isra 17:76

The Night Journey · Juz 15 · Page 290

وَإِن كَادُواْ لَيَسۡتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ لِيُخۡرِجُوكَ مِنۡهَاۖ وَإِذٗا لَّا يَلۡبَثُونَ خِلَٰفَكَ إِلَّا قَلِيلٗا ٧٦

And indeed, they were about to provoke [i.e., drive] you from the land [i.e., Makkah] to evict you therefrom. And then [when they do], they will not remain [there] after you, except for a little.1

1 translator’s note
  1. Only ten years after the Prophet's emigration, Makkah was completely cleared of his enemies. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 17:73–77

اور بلاشبہ قریب تھا کہ وہ البتہ پھسلا دیتے آپ کو اس چیز سے جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف تاکہ گھڑ لیں آپ ہم پر (باتیں ) سوائے اس (وحی) کے اور اس وقت ضرور بنا لیتے وہ آپ کو دوست (73) اور اگر نہ ثابت (قدم) رکھتے ہم آپ کو تو البتہ تحقیق قریب تھے آپ کہ جھک جاتے ان کی طرف کچھ تھوڑا سا (74)اس وقت ضرور چکھاتے ہم آپ کو دگنا عذاب زندگی میں اور دگنا عذاب موت پر، پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مدد گار (75) اور بلاشبہ قریب تھے وہ کہ اکھاڑ دیں وہ آپ (کے قدموں ) کو اس زمین (مکہ) سےتاکہ نکال دیں وہ آپ کو اس سےاور اس وقت نہ ٹھہرتے وہ (خود بھی) بعد آپ کے مگر تھوڑی ہی دیر (76)(مانند) طریقے ان کے جنھیں بھیجا ہم نے پہلے آپ سے اپنے رسولوں میں سےاور نہیں پائیں گے آپ ہمارے طریقے (قانون) میں کوئی تبدیلی (77)

[73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَفۡتِنُوۡنَكَ۠ عَنِ الَّذِيۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِيَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ﴾’’یقینا قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا‘‘ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کر چکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے انھوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ، اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ اس چیز کو چھوڑ دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے۔﴿ وَاِذًا ﴾ ’’اور تب‘‘ یعنی اگر آپ وہ کچھ کرتے جو وہ چاہتے ہیں تو ﴿ لَّاتَّؔخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا ﴾ ’’وہ بنا لیتے آپ کو دوست‘‘ یعنی خاص دوست، جو ان کو ان کے دوستوں سے زیادہ عزیز ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن آداب سے نوازا ہے جو قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کو پسند ہیں ۔ مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے ساتھ صرف اس حق کی وجہ سے عداوت رکھتے ہیں جسے آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، ان کو آپﷺ کی ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ﴾(الانعام:6؍33) ’’ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ یہ باتیں بناتے ہیں ان سے آپ کو دکھ ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔‘‘

[74]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ ﴾ ’’اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے آپ کو سنبھالے رکھا‘‘ بایں ہمہ اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور آپ کو گمراہی کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کر کے آپ پر احسان نہ کیا ہوتا ﴿ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا﴾ ’’تو قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف تھوڑا سا‘‘ یعنی ان کی ہدایت کی کوشش اور چاہت میں۔

[75]﴿ اِذًا ﴾ ’’تب‘‘ یعنی اگر آپ ان کی خواہشات کی طرف مائل ہو جاتے ﴿ لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ﴾ ’’ہم ضرور چکھاتے آپ کو دگنا (عذاب)زندگی میں اور دگنا مرنے میں ‘‘ یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں کئی گنا عذاب دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین نعمتوں سے نوازا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہے۔﴿ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہم پر مدد کرنے والا‘‘ جو آپ کو نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو شر اور تمام اسباب شر سے محفوظ رکھا، آپ کو ثابت قدمی عطا کی اور صراط مستقیم کی طرف آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کسی طرح بھی مشرکین کی طرف مائل نہ ہوئے۔ پس آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔

[77,76]﴿ وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَسۡتَفِزُّوۡنَكَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِيُخۡرِجُوۡكَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور یقینا قریب تھا کہ وہ پھسلا دیں آپ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں وہ آپ کو یہاں سے‘‘ یعنی آپ کے ساتھ ان کے درمیان رہنے پر بغض کے سبب سے آپ کو سرزمین مکہ سے نکالنے اور آپ کو جلا وطن کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں ۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو آپ کے بعد بہت تھوڑا عرصہ یہاں ٹھہر سکیں گے یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہو جائے جیسا کہ سنت الٰہی ہے اور تمام قوموں کے بارے میں سنت الٰہی میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوتا۔ جس قوم نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس کو نکال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں اس پر عذاب نازل کر دیا۔ جب کفار مکہ نے آپ کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تو وہ کچھ زیادہ عرصہ مکہ میں نہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر میدان بدر میں عذاب نازل کر دیا، ان کے تمام بڑے بڑے اور سرکردہ سردار قتل کر دیے گئے اور ان کی کمر توڑ دی گئی۔ فلہ الحمد۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے اور یہ کہ بندہ گڑگڑا کر اپنے رب سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ایمان پر ثابت قدمی عطا کرے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اسباب اختیار کرنے میں کوشاں رہے۔ نبی مصطفیﷺ مخلوق میں سب سے کامل ہستی تھے بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدۡتَّ تَرۡؔكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡـًٔؔا قَلِيۡلًا ﴾ اور نبی اکرمﷺ کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے تو دوسروں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ان آیات کریمہ میں اللہ کی طرف سے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس نے اپنے رسول پر احسان فرمایا اور اس کو شر سے محفوظ رکھا۔ پس یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے یہ امر پسند کرتا ہے کہ وہ اسباب شر کے وجود کے وقت اس کی نعمتوں کا ادراک کریں کہ اس نے ان کو شر سے بچایا اور ایمان پر ثبات عطا کیا۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بندے کے بلند مرتبے کے مطابق اس کو پے در پے نعمتیں عطا ہوتی ہیں ۔ اسی طرح جب وہ قابل ملامت فعل سرانجام دیتاہے تو اس کا گناہ بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کا جرم کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس ارشاد کے ذریعے سے نصیحت فرمائی حالانکہ آپ ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں ۔ ﴿ اِذًا لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے جرائم بڑھ کر کئی گنا ہو جاتے ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ثابت ہو جاتا ہے، تب اللہ ان پر عذاب واقع کر دیتا ہے جیسا کہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جب وہ اپنے رسول کو اس کے وطن سے نکال دیتی ہیں۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 290

Al-IsraJuz 15 · Page 290

17:76

وَإِن كَادُواْ لَيَسۡتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ لِيُخۡرِجُوكَ مِنۡهَاۖ وَإِذٗا لَّا يَلۡبَثُونَ خِلَٰفَكَ إِلَّا قَلِيلٗا ٧٦

And indeed, they were about to provoke [i.e., drive] you from the land [i.e., Makkah] to evict you therefrom. And then [when they do], they will not remain [there] after you, except for a little.1

1 translator’s note
  1. Only ten years after the Prophet's emigration, Makkah was completely cleared of his enemies. ↩

17:77

سُنَّةَ مَن قَدۡ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِن رُّسُلِنَاۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِيلًا ٧٧

[That is Our] established way for those We had sent before you of Our messengers; and you will not find in Our way any alteration.

17:78

أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمۡسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّيۡلِ وَقُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِۖ إِنَّ قُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُودٗا ٧٨

Establish prayer at the decline of the sun [from its meridian] until the darkness of the night1 and [also] the Qur’ān [i.e., recitation] of dawn.2 Indeed, the recitation of dawn is ever witnessed.

2 translator’s notes
  1. i.e., the period which includes the ẓuhr, aṣr, maghrib, and ʿishā’ prayers.

    [768] i.e., the fajr prayer, in which the recitation of the Qur’ān is prolonged.

    ↩
  2. ↩

17:79

وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةٗ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا ٧٩

And from [part of] the night, pray1 with it [i.e., recitation of the Qur’ān] as additional [worship] for you; it is expected that2 your Lord will resurrect you to a praised station.3

3 translator’s notes
  1. Literally, "arise from sleep for prayer."

    [770] This is a promise from Allāh (subḥānahu wa taʿālā) to Prophet Muḥammad (ﷺ).

    [771] The position of intercession by permission of Allāh and the highest degree in Paradise.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩

17:80

وَقُل رَّبِّ أَدۡخِلۡنِي مُدۡخَلَ صِدۡقٖ وَأَخۡرِجۡنِي مُخۡرَجَ صِدۡقٖ وَٱجۡعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلۡطَٰنٗا نَّصِيرٗا ٨٠

And say, "My Lord, cause me to enter a sound entrance1 and to exit a sound exit2 and grant me from Yourself a supporting authority."

2 translator’s notes
  1. Into Madīnah at the time of emigration, or into the grave.

    [773] From Makkah, or from the grave at the time of resurrection.

    ↩
  2. ↩

17:81

وَقُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَزَهَقَ ٱلۡبَٰطِلُۚ إِنَّ ٱلۡبَٰطِلَ كَانَ زَهُوقٗا ٨١

And say, "Truth has come, and falsehood has departed. Indeed is falsehood, [by nature], ever bound to depart."

17:82

وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٞ وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارٗا ٨٢

And We send down of the Qur’ān that which is healing and mercy for the believers, but it does not increase the wrongdoers except in loss.

17:83

وَإِذَآ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ كَانَ يَـُٔوسٗا ٨٣

And when We bestow favor upon man [i.e., the disbeliever], he turns away and distances himself; and when evil touches him, he is ever despairing.

17:84

قُلۡ كُلّٞ يَعۡمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ أَهۡدَىٰ سَبِيلٗا ٨٤

Say, "Each works according to his manner, but your Lord is most knowing of who is best guided in way."

17:85

وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنۡ أَمۡرِ رَبِّي وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِيلٗا ٨٥

And they ask you, [O Muḥammad], about the soul. Say, "The soul is of the affair [i.e., concern] of my Lord. And you [i.e., mankind] have not been given of knowledge except a little."

17:86

وَلَئِن شِئۡنَا لَنَذۡهَبَنَّ بِٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَيۡنَا وَكِيلًا ٨٦

And if We willed, We could surely do away with that which We revealed to you. Then you would not find for yourself concerning it an advocate against Us.

As-Sa'diTafsir · 17:76

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском