Al-KahfJuz 15 · Page 298

Al-Kahf 18:36

The Cave · Juz 15 · Page 298

وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهَا مُنقَلَبٗا ٣٦

And I do not think the Hour will occur. And even if I should be brought back to my Lord, I will surely find better than this as a return."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 18:34–36

پس کہا اس نے اپنے ساتھی سے جبکہ وہ گفتگو کر رہا تھا اس سے، میں زیادہ ہوں تجھ سے مال میں اور زیادہ باعزت ہوں تجھ سے باعتبار جتھے کے (34) اور وہ داخل ہوا اپنے باغ میں جبکہ وہ ظلم کرنے والا تھا اپنے آپ پر، اس نے کہا، نہیں گمان کرتا میں یہ کہ تباہ ہو گا یہ، یہ (باغ) کبھی بھی (35) اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر (بالفرض) لوٹایا گیا میں اپنے رب کی طرف تو ضرور پاؤں گا میں بہتر ان باغوں سے بھی، لوٹ کر جانے کی جگہ (36)

[34]﴿وَّكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ﴾ اور اس شخص کا باغ بہت پھل لایا تھا جیسا کہ لفظ (ثمر) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہوتا ہے۔ اس کے باغوں کا پھل پوری طرح پک گیا تھا ان کے درخت پھل کے بوجھ سے جھک رہے تھے۔ ان پر کوئی آفت نازل نہیں ہوئی تھی۔ پس یہ کھیتی باڑی کے پہلو سے دنیا کی زیب و زینت کی انتہا ہے، اس وجہ سے وہ شخص دھوکے میں پڑ گیا، تکبر کرنے اور اترانے لگا اور اپنی آخرت کو فراموش کر بیٹھا۔ ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے: ﴿اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا﴾ ’’میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ‘‘ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار، یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوؤں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

[36,35] پھر اس نے صرف اپنے ساتھی پر فخر کے اظہار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر حکم لگایا اور جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا تو اس نے اپنے گمان کو الفاظ کا پیرایہ دیا: ﴿قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰؔذِهٖۤ اَبَدًا﴾ ’’اس نے کہا، میں نہیں خیال کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو۔‘‘ یعنی یہ باغ کبھی ختم اور مضمحل نہ ہو گا۔ وہ اس دنیا پر مطمئن ہو کر اسی پر راضی ہو گیا اور اس نے آخرت کا انکار کر دیا، کہنے لگا:﴿ وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّلَىِٕنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰى رَبِّيۡ﴾ ’’اور نہیں خیال کرتا میں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا‘‘ یعنی فرض کیا قیامت قائم ہوتی ہے ﴿ لَاَجِدَنَّ خَيۡرًا مِّؔنۡهَا مُنۡقَلَبًا ﴾ ’’تو پاؤں گا اس سے بہتر وہاں پہنچ کر‘‘ یعنی اللہ مجھے ان باغوں سے بہتر ٹھکانا عطا کرے گا، اس کی یہ بات دو امور سے خالی نہیں :(۱) یا تو وہ حقیقت حال کا علم رکھتا ہے تب اس کا یہ کلام ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر ہے یہ اس کے کفر میں اضافے کا باعث ہے۔ (۲) یا وہ حقیقت میں یہی سمجھتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا تب وہ دنیا کا جاہل ترین شخص اور عقل سے بے بہرہ ہے۔ دنیا کی عطا اور آخرت کی عطا میں کون سا تلازم ہے کہ کوئی جاہل شخص اپنی جہالت کی بنا پر یہ سمجھے کہ جسے اس دنیا میں عطا کر دیا گیا ہے اسے آخرت میں بھی عطا کیا جائے گا بلکہ غالب طور پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور خاص بندوں سے دنیا کو دور ہٹا دیتا اور اپنے دشمنوں کو دنیا عطا کرتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو حقیقت کا علم تھا مگر اس نے بات محض ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر کہی تھی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’اور وہ اپنے باغ میں گیا، جبکہ وہ اپنے ساتھ ظلم کر رہا تھا‘‘ پس باغ میں داخل ہوتے وقت اس سے صادر ہونے والے کلمات سے اس کے وصف ظلم کا اثبات، اس کے تمرد اور عناد پر دلالت کرتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 298

Al-KahfJuz 15 · Page 298

18:35

وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدٗا ٣٥

And he entered his garden while he was unjust to himself.1 He said, "I do not think that this will perish - ever.

1 translator’s note
  1. i.e., proud and ungrateful to Allāh. ↩

18:36

وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهَا مُنقَلَبٗا ٣٦

And I do not think the Hour will occur. And even if I should be brought back to my Lord, I will surely find better than this as a return."

18:37

قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرۡتَ بِٱلَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلٗا ٣٧

His companion said to him while he was conversing with him, "Have you disbelieved in He who created you from dust and then from a sperm-drop and then proportioned you [as] a man?

18:38

لَّٰكِنَّا۠ هُوَ ٱللَّهُ رَبِّي وَلَآ أُشۡرِكُ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا ٣٨

But as for me, He is Allāh, my Lord, and I do not associate with my Lord anyone.

18:39

وَلَوۡلَآ إِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ إِن تَرَنِ أَنَا۠ أَقَلَّ مِنكَ مَالٗا وَوَلَدٗا ٣٩

And why did you, when you entered your garden, not say, 'What Allāh willed [has occurred]; there is no power except in Allāh'? Although you see me less than you in wealth and children,

18:40

فَعَسَىٰ رَبِّيٓ أَن يُؤۡتِيَنِ خَيۡرٗا مِّن جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا حُسۡبَانٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيدٗا زَلَقًا ٤٠

It may be that my Lord will give me [something] better than your garden and will send upon it a [disastrous] penalty from the sky, and it will become a smooth, dusty ground,

18:41

أَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرٗا فَلَن تَسۡتَطِيعَ لَهُۥ طَلَبٗا ٤١

Or its water will become sunken [into the earth], so you would never be able to seek it."

18:42

وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُشۡرِكۡ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا ٤٢

And his fruits were encompassed [by ruin], so he began to turn his hands about [in dismay] over what he had spent on it, while it had collapsed upon its trellises, and said, "Oh, I wish I had not associated with my Lord anyone."1

1 translator’s note
  1. He attributed his prosperity to himself rather than to Allāh and disbelieved in the account of the Hereafter. ↩

18:43

وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ فِئَةٞ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا ٤٣

And there was for him no company to aid him other than Allāh, nor could he defend himself.

18:44

هُنَالِكَ ٱلۡوَلَٰيَةُ لِلَّهِ ٱلۡحَقِّۚ هُوَ خَيۡرٞ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ عُقۡبٗا ٤٤

There1 the authority is [completely] for Allāh, the Truth. He is best in reward and best in outcome.

1 translator’s note
  1. i.e., at such a time or on the Day of Judgement. ↩

18:45

وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمٗا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقۡتَدِرًا ٤٥

And present to them the example of the life of this world, [its being] like rain which We send down from the sky, and the vegetation of the earth mingles with it1 and [then] it becomes dry remnants, scattered by the winds. And Allāh is ever, over all things, Perfect in Ability.

1 translator’s note
  1. Absorbs it, growing lush and thick. ↩
As-Sa'diTafsir · 18:36

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском