Al-Kahf 18:45
The Cave · Juz 15 · Page 298
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمٗا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقۡتَدِرًا ٤٥
And present to them the example of the life of this world, [its being] like rain which We send down from the sky, and the vegetation of the earth mingles with it1 and [then] it becomes dry remnants, scattered by the winds. And Allāh is ever, over all things, Perfect in Ability.
1 translator’s note
- Absorbs it, growing lush and thick. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 18:45–46
اور بیان کیجیے ان کے لیے مثال زندگانیٔ دنیا کی، وہ مانند اس پانی کے ہے کہ اتارا ہم نے اسے آسمان سے، پس مل جل گئی ساتھ اس کے روئیدگی زمین کی، پھر ہوگئی وہ (روئیدگی) چورا چورا، اڑا لے جاتی ہیں اس کوہوائیں اور ہے اللہ اوپر ہرچیزکے قادر (45) یہ مال اور بیٹے تو زینت ہیں زندگانیٔ دنیا کی اور باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں آپ کے رب کے ہاں ثواب میں اور بہت بہتر ہیں باعتبار امید کے (46)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی سے اصلاً اور ان لوگوں سے تبعاً فرماتا ہے جو آپ کے بعد آپ کے قائم مقام ہیں کہ لوگوں کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کر دیجیے تاکہ وہ اس زندگی کا اچھی طرح تصور کر لیں اور اس کے ظاہر و باطن کی معرفت حاصل کر لیں ۔ پس وہ دنیاوی زندگی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے درمیان تقابل کریں اور ان میں جو ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے اسے ترجیح دیں ۔ اس دنیاوی زندگی کی مثال بارش کی سی ہے جو آسمان سے زمین پر برستی ہے جس سے زمین کی روئیدگی بہت گھنی ہو جاتی ہے اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگ آتی ہیں۔ پس اس وقت کہ جب اس کی خوب صورتی اور سجاوٹ دیکھنے والوں کو خوش کن لگتی ہے، لوگ اس سے فرحت حاصل کرتے ہیں اور زمین کا یہ حسن غافل لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے کہ اچانک نباتات بھس بن کر رہ جاتی ہیں اور ہوائیں اسے اڑائے لے جاتی ہیں ۔ پس وہ تروتازہ، خوبصورت اور خوش منظر روئیدگی ختم ہو جاتی ہے، زمین چٹیل میدان بن جاتی ہے جہاں خاک اڑتی ہے جس سے نظریں دور ہٹ جاتی ہیں اور دل وحشت محسوس کرتے ہیں ۔ دنیا کی زندگی کا بھی یہی حال ہے دنیا کی زندگی میں مگن شخص کواپنا شباب بہت اچھا لگتا ہے، وہ اس زندگی میں اپنے ساتھیوں اور ہم جولیوں سے آگے نکل جاتا ہے، اس کے درہم و دینار کے حصول میں لگا رہتا ہے، اس کی لذت سے خوب حظ اٹھاتا ہے، ہر وقت اس کی شہوات کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے اور وہ یہی سمجھتا ہے کہ زندگی بھر اس دنیا کی لذتیں اور شہوتیں زائل نہ ہوں گی کہ اچانک موت اسے آ لیتی ہے یا اس کا مال تلف ہو جاتا ہے۔ خوشیاں اس سے روٹھ جاتی ہیں ، اس کی لذتیں اس سے چھن جاتی ہیں ، اس کا قلب مصائب وآلام سے وحشت کھاتا ہے، اس کی جوانی، اس کی طاقت اور اس کا مال سب اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور وہ نیک یا برے اعمال کے ساتھ اکیلا باقی رہ جاتا ہے۔ یہی وہ حال ہے کہ جب ظالم کو اس کی حقیقت کا علم ہو گا تو اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا۔ وہ تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے، اس لیے نہیں کہ وہ ان شہوات کو پورا کرے جو نامکمل رہ گئی تھیں بلکہ اس لیے کہ اس سے غفلت میں جو کوتاہیاں صادر ہوئیں توبہ و استغفار اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تلافی کر سکے، لہٰذا عقل مند اور پختہ ارادے والا شخص، جسے توفیق سے نوازا گیا ہو، اپنے آپ پر یہی حالت طاری کرتا ہے اور اپنے آپ سے کہتا ہے: ’’فرض کر لو کہ تم مر چکے ہو‘‘ اور موت ایک یقینی امر ہے۔ پس مذکورہ دونوں حالتوں میں سے کون سی حالت کو تو اختیار کرتا ہے؟ اس دنیا کی زیب و زینت سے دھوکہ کھانا، اس سے اس طرح فائدہ اٹھانا جس طرح چراگاہ میں مویشی چرتے ہیں یا ایسی جنت کے حصول کی خاطر عمل کرنا جس کے پھل ہمیشہ رہنے والے، اس کے سائے بہت گھنے ہیں ۔ وہاں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہے گا اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔پس یہی وہ حالت ہے جس کے ذریعے سے یہ معرفت حاصل ہوتی کہ بندے کو توفیق الٰہی سے نوازا گیا ہے یا اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ اسے نفع حاصل ہوا ہے یا خسارہ؟
[46] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زیب و زینت ہیں اور اس سے آگے کچھ نہیں ۔ انسان کے لیے جو کچھ باقی رہ جاتا اور جو اسے فائدہ اور خوشی دیتا ہے وہ باقی رہنے والی نیکیاں ہیں اور وہ واجب اور مستحب نیکی کے تمام کاموں کو شامل ہیں ، مثلاً: حقوق اللہ، حقوق العباد، نماز، زکاۃ، صدقہ، حج، عمرہ، تسبیح، تحمید، تہلیل، قراء ت قرآن، طلب علم، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، صلہ رحمی، وا لدین کے ساتھ حسن سلوک، بیویوں کے حقوق پورے کرنا، غلاموں اور جانوروں کے حقوق کا احترام کرنا اور مخلوق کے ساتھ ہر لحاظ سے اچھا سلوک کرنا، یہ تمام باقی رہنے والی نیکیاں ہیں یہی وہ نیکیاں ہیں جن کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر ہے اور انھی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں ۔ ان کا اجروثواب باقی رہتا ہے اور ابد الآباد تک بڑھتا ہے۔ ان کے اجر و ثواب اور نفع کی ضرورت کے وقت امید کی جا سکتی ہے۔ پس یہی وہ کام ہیں کہ سبقت کرنے والوں کو ان کی طرف سبقت کرنی چاہیے، عمل کرنے والوں کو انھی کے لیے آگے بڑھنا چاہیے اور جدو جہد کرنے والوں کو ان کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کے حال اور اس کے اضمحلال کی مثال دی تو اس کی دو قسمیں بیان کیں :(۱) دنیاوی زندگی کی زیب وزینت، جس سے انسان بہت کم فائدہ اٹھاتا ہے، پھر بغیر کسی فائدے کے یہ دنیا زائل ہو جاتی ہے اور اس کا نقصان انسان کی طرف لوٹتا ہے بلکہ بسااوقات اس کا نقصان اس کے لیے لازم ہو جاتا ہے۔ یہ مال اور بیٹے ہیں ۔ (۲) دوسری قسم وہ ہے جو انسان کے لیے ہمیشہ باقی رہتی ہے اور وہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں ۔
Page 298
18:35
وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدٗا ٣٥
And he entered his garden while he was unjust to himself.1 He said, "I do not think that this will perish - ever.
1 translator’s note
- i.e., proud and ungrateful to Allāh. ↩
18:36
وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهَا مُنقَلَبٗا ٣٦
And I do not think the Hour will occur. And even if I should be brought back to my Lord, I will surely find better than this as a return."
18:37
قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرۡتَ بِٱلَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلٗا ٣٧
His companion said to him while he was conversing with him, "Have you disbelieved in He who created you from dust and then from a sperm-drop and then proportioned you [as] a man?
18:38
لَّٰكِنَّا۠ هُوَ ٱللَّهُ رَبِّي وَلَآ أُشۡرِكُ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا ٣٨
But as for me, He is Allāh, my Lord, and I do not associate with my Lord anyone.
18:39
وَلَوۡلَآ إِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ إِن تَرَنِ أَنَا۠ أَقَلَّ مِنكَ مَالٗا وَوَلَدٗا ٣٩
And why did you, when you entered your garden, not say, 'What Allāh willed [has occurred]; there is no power except in Allāh'? Although you see me less than you in wealth and children,
18:40
فَعَسَىٰ رَبِّيٓ أَن يُؤۡتِيَنِ خَيۡرٗا مِّن جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا حُسۡبَانٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيدٗا زَلَقًا ٤٠
It may be that my Lord will give me [something] better than your garden and will send upon it a [disastrous] penalty from the sky, and it will become a smooth, dusty ground,
18:41
أَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرٗا فَلَن تَسۡتَطِيعَ لَهُۥ طَلَبٗا ٤١
Or its water will become sunken [into the earth], so you would never be able to seek it."
18:42
وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُشۡرِكۡ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا ٤٢
And his fruits were encompassed [by ruin], so he began to turn his hands about [in dismay] over what he had spent on it, while it had collapsed upon its trellises, and said, "Oh, I wish I had not associated with my Lord anyone."1
1 translator’s note
- He attributed his prosperity to himself rather than to Allāh and disbelieved in the account of the Hereafter. ↩
18:43
وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ فِئَةٞ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا ٤٣
And there was for him no company to aid him other than Allāh, nor could he defend himself.
18:44
هُنَالِكَ ٱلۡوَلَٰيَةُ لِلَّهِ ٱلۡحَقِّۚ هُوَ خَيۡرٞ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ عُقۡبٗا ٤٤
There1 the authority is [completely] for Allāh, the Truth. He is best in reward and best in outcome.
1 translator’s note
- i.e., at such a time or on the Day of Judgement. ↩
18:45
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمٗا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقۡتَدِرًا ٤٥
And present to them the example of the life of this world, [its being] like rain which We send down from the sky, and the vegetation of the earth mingles with it1 and [then] it becomes dry remnants, scattered by the winds. And Allāh is ever, over all things, Perfect in Ability.
1 translator’s note
- Absorbs it, growing lush and thick. ↩