Al-Kahf 18:59
The Cave · Juz 15 · Page 300
وَتِلۡكَ ٱلۡقُرَىٰٓ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِم مَّوۡعِدٗا ٥٩
And those cities - We destroyed them when they wronged, and We made for their destruction an appointed time.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 18:57–59
اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے کہ وہ نصیحت کیا گیا ساتھ آیات کے اپنے رب کی تو اعراض کیا اس نے ان سےاور بھول گیا وہ، جو کچھ کہ آگے بھیجا تھااس کے دونوں ہاتھوں نے، بلاشبہ ہم نے کردیے اوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس (قرآن) کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ اور اگر آپ بلائیں ان کو ہدایت کی طرف تو ہرگز نہ ہدایت پائیں گے وہ اس وقت کبھی بھی (57) اور آپ کا رب تو بہت بخشنے والا، رحمت والا ہے، اگر وہ پکڑے ان کو بسبب ان کے جو (عمل) کمائے انھوں نے تو یقینا جلدی لے آئے ان پر عذاب بلکہ ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے، ہرگز نہیں پائیں گے وہ سوائے اس کے کوئی جائے پناہ (58) اور یہ بستیاں ، ہلاک کیا ہم نے ان (کے باشندوں ) کو، جب انھوں نے ظلم کیااور کر دیا ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کر دیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو… اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے اور ان گناہوں کو فراموش نہ کرے جن کا اس نے ارتکاب کیا ہے اور علام الغیوب ہستی پر نظر نہ رکھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی… یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ پہلا شخص اس سے زیادہ بڑا ظالم ہے کیونکہ علم اور بصیرت رکھتے ہوئے گناہ کرنے والا لاعلمی سے گناہ کرنے والے سے زیادہ بڑا گناہ گار ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے، آیات الٰہی سے اس کے اعراض، اپنے گناہوں کو بھول جانے اور حالت شر پر راضی رہنے کے سبب سے اس کو سزا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے علم ہے کہ ہدایت کے دروازے اس پر بند ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قلب پر پردے ڈال دیے ہیں یعنی مضبوط پردوں نے اس کو آیات الٰہی کے تفقہ سے محروم کر رکھا ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے مگر ان میں ایسا تفقہ حاصل کرنا جو قلب کی گہرائی میں اتر جائے اس کے بس کی بات نہیں ۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کانوں میں گرانی ہے جو ان کو آیات الٰہی کے فائدہ مند سماع سے محروم کر دیتی ہے اور اگر وہ اسی حالت میں رہیں تو ان کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰؔى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ ’’اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو ہرگز ہدایت پر نہ آئیں اس وقت کبھی‘‘ کیونکہ داعئ ہدایت کی دعوت پر اسی شخص کے لبیک کہنے کی امید ہوتی ہے جو علم نہیں رکھتا۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے آیات الٰہی کو خوب دیکھا، بھالا پھر اندھے پن کا مظاہرہ کیا، انھوں نے راہ حق کو پہچان لیا مگر اسے چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہ پر گامزن ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر تالے ڈال دیے اور ان پر مہر لگا دی… تو ان لوگوں کی ہدایت کا کوئی راستہ اور کوئی حیلہ نہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تخویف و ترہیب ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اسے ترک کر دے اور یہ کہ اس کے اور حق کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اس کے بعد اس کے لیے کوئی چیز ایسی نہ رہے جو اس کے حق میں اس سے بڑھ کر ڈرانے والی اور اس غلط روی سے اسے روکنے والی ہو۔
[58] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بے پایاں مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے اور اسے اپنے احسان میں شامل کر لیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ان کے گناہوں پر گرفت کرے تو ان پر فوراً عذاب بھیج دے مگر وہ حلم والا ہے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا… گناہوں کے آثار کا واقع ہونا ضروری امر ہے اگرچہ اس میں طویل مدت تک تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ لَّهُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ يَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖ مَوۡىِٕلًا﴾ ’’بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ ہے، ہرگز نہیں پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ‘‘ یعنی ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس میں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی۔ یہ جزا انھیں ضرور ملے گی اور اس جزا و سزا سے بچنے کی ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ کوئی جائے فرار…
[59] اولین و آخرین میں یہی سنت الٰہی ہے کہ وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انھیں توبہ اور انابت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے کر ان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ظلم اور عناد پر جمے رہیں اور وقت مقررہ آ جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَتِلۡكَ الۡقُرٰۤى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور یہ بستیاں ، ہم نے ان کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان کے ظلم کی بنا پر ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ‘‘ یعنی ایک وقت مقرر جس سے وہ آگے ہوئے نہ پیچھے۔
Page 300
18:54
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَكۡثَرَ شَيۡءٖ جَدَلٗا ٥٤
And We have certainly diversified in this Qur’ān for the people from every [kind of] example; but man has ever been, most of anything, [prone to] dispute.
18:55
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّهُمۡ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ قُبُلٗا ٥٥
And nothing has prevented the people from believing when guidance came to them and from asking forgiveness of their Lord except that there [must] befall them the [accustomed] precedent of the former peoples1 or that the punishment should come [directly] before them.
1 translator’s note
- Who denied the truth brought by Allāh's messengers. ↩
18:56
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۚ وَيُجَٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّۖ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَمَآ أُنذِرُواْ هُزُوٗا ٥٦
And We send not the messengers except as bringers of good tidings and warners. And those who disbelieve dispute by [using] falsehood to [attempt to] invalidate thereby the truth and have taken My verses, and that of which they are warned, in ridicule.
18:57
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُۚ إِنَّا جَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۖ وَإِن تَدۡعُهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ فَلَن يَهۡتَدُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا ٥٧
And who is more unjust than one who is reminded of the verses of his Lord but turns away from them and forgets what his hands have put forth? Indeed, We have placed over their hearts coverings, lest they understand it, and in their ears deafness. And if you invite them to guidance - they will never be guided, then - ever.
18:58
وَرَبُّكَ ٱلۡغَفُورُ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۖ لَوۡ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُواْ لَعَجَّلَ لَهُمُ ٱلۡعَذَابَۚ بَل لَّهُم مَّوۡعِدٞ لَّن يَجِدُواْ مِن دُونِهِۦ مَوۡئِلٗا ٥٨
And your Lord is the Forgiving, the possessor of mercy. If He were to impose blame upon them for what they earned, He would have hastened for them the punishment. Rather, for them is an appointment from which they will never find an escape.
18:59
وَتِلۡكَ ٱلۡقُرَىٰٓ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِم مَّوۡعِدٗا ٥٩
And those cities - We destroyed them when they wronged, and We made for their destruction an appointed time.
18:60
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ لَآ أَبۡرَحُ حَتَّىٰٓ أَبۡلُغَ مَجۡمَعَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ أَوۡ أَمۡضِيَ حُقُبٗا ٦٠
And [mention] when Moses said to his boy [i.e., servant], "I will not cease [traveling] until I reach the junction of the two seas or continue for a long period."
18:61
فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ سَرَبٗا ٦١
But when they reached the junction between them, they forgot their fish, and it took its course into the sea, slipping away.