Al-Kahf 18:76
The Cave · Juz 16 · Page 302
قَالَ إِن سَأَلۡتُكَ عَن شَيۡءِۭ بَعۡدَهَا فَلَا تُصَٰحِبۡنِيۖ قَدۡ بَلَغۡتَ مِن لَّدُنِّي عُذۡرٗا ٧٦
[Moses] said, "If I should ask you about anything after this, then do not keep me as a companion. You have obtained from me an excuse."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 18:60–82
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
Page 302
18:75
۞ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا ٧٥
[Al-Khiḍr] said, "Did I not tell you that with me you would never be able to have patience?"
18:76
قَالَ إِن سَأَلۡتُكَ عَن شَيۡءِۭ بَعۡدَهَا فَلَا تُصَٰحِبۡنِيۖ قَدۡ بَلَغۡتَ مِن لَّدُنِّي عُذۡرٗا ٧٦
[Moses] said, "If I should ask you about anything after this, then do not keep me as a companion. You have obtained from me an excuse."
18:77
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهۡلَ قَرۡيَةٍ ٱسۡتَطۡعَمَآ أَهۡلَهَا فَأَبَوۡاْ أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارٗا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُۥۖ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَيۡهِ أَجۡرٗا ٧٧
So they set out, until when they came to the people of a town, they asked its people for food, but they refused to offer them hospitality. And they found therein a wall about to collapse, so he [i.e., al-Khiḍr] restored it. [Moses] said, "If you wished, you could have taken for it a payment."
18:78
قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيۡنِي وَبَيۡنِكَۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأۡوِيلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ٧٨
[Al-Khiḍr] said, "This is parting between me and you. I will inform you of the interpretation of that about which you could not have patience.
18:79
أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتۡ لِمَسَٰكِينَ يَعۡمَلُونَ فِي ٱلۡبَحۡرِ فَأَرَدتُّ أَنۡ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٞ يَأۡخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصۡبٗا ٧٩
As for the ship, it belonged to poor people working at sea. So I intended to cause defect in it as there was after them a king who seized every [good] ship by force.
18:80
وَأَمَّا ٱلۡغُلَٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِينَآ أَن يُرۡهِقَهُمَا طُغۡيَٰنٗا وَكُفۡرٗا ٨٠
And as for the boy, his parents were believers, and we feared that he would overburden them by transgression and disbelief.
18:81
فَأَرَدۡنَآ أَن يُبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرٗا مِّنۡهُ زَكَوٰةٗ وَأَقۡرَبَ رُحۡمٗا ٨١
So we intended that their Lord should substitute for them one better than him in purity and nearer to mercy.
18:82
وَأَمَّا ٱلۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَٰمَيۡنِ يَتِيمَيۡنِ فِي ٱلۡمَدِينَةِ وَكَانَ تَحۡتَهُۥ كَنزٞ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَٰلِحٗا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبۡلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنزَهُمَا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ وَمَا فَعَلۡتُهُۥ عَنۡ أَمۡرِيۚ ذَٰلِكَ تَأۡوِيلُ مَا لَمۡ تَسۡطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرٗا ٨٢
And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure for them, and their father had been righteous. So your Lord intended that they reach maturity and extract their treasure, as a mercy from your Lord. And I did it not of my own accord. That is the interpretation of that about which you could not have patience."
18:83
وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَن ذِي ٱلۡقَرۡنَيۡنِۖ قُلۡ سَأَتۡلُواْ عَلَيۡكُم مِّنۡهُ ذِكۡرًا ٨٣
And they ask you, [O Muḥammad], about Dhul-Qarnayn. Say, "I will recite to you about him a report."