MaryamJuz 16 · Page 305

Maryam 19:1

Mary · Juz 16 · Page 305

كٓهيعٓصٓ ١

Kāf, Hā, Yā, ʿAyn, Ṣād.1

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 19:1–6

کٓھٰیٰعٓصٓ (1)(یہ) ذکر ہے رحمت کا آپ کے رب کی، اپنے بندے زکریا پر (2) جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو پکارنا آہستہ (13) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بلاشبہ میں ، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں میری اور بھڑک اٹھا ہے میر ا سر بڑھاپے سےاورنہیں ہوا میں (کبھی) تجھے پکار کر، اے میرے رب! محروم (4) اور بلاشبہ میں ڈرتا ہوں اپنے وارثوں سے، اپنے پیچھےاور ہے میری بیوی بانجھ، پس عطا کر تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث (5) کہ وہ وارث ہو میرااور وارث ہو آل یعقوب کااور تو بنا اسے، اے میرے رب! پسندیدہ (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[2]﴿ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهٗ زَكَرِيَّا﴾ ’’یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔‘‘ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریاu کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہو گی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریاu کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا اورانھیں اپنی وحی کے لیے مختص کر لیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انھیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیرخواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔

[4,3] جب انھوں نے اپنے آپ کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ وہ اس حال میں وفات پا جائیں گے کہ بندوں کو ان کے رب کی طرف دعوت دینے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کرنے میں ان کی نیابت کرنے والا کوئی نہ ہو گا … تو انھوں نے اپنے رب کے پاس اپنی ظاہری اور باطنی کمزوری کا شکوہ کیا اور اسے چپکے چپکے پکارا تاکہ یہ دعا اخلاص کے لحاظ سے اکمل و افضل ہو۔ انھوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ﴾ ’’اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ‘‘ اور جب ہڈیاں ، جو کہ بدن کا سہارا ہیں ، کمزور ہو جاتی ہیں تو دیگر تمام اعضاء بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا ﴾’’اور بھڑکا سر بڑھاپے سے‘‘ کیونکہ بڑھاپا ضعف اورکمزوری کی دلیل، موت کا ایلچی اور اس سے ڈرانے والا ہے۔ حضرت زکریاu نے اپنے ضعف اور عجز کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ محبوب ترین وسیلہ ہے کیونکہ یہ بندے کے اپنی قوت و اختیار سے براء ت اور دل کے اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار پر بھروسہ کرنے کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا ﴾ ’’اور تجھ سے مانگ کر اے رب، میں کبھی محروم نہیں رہا‘‘ یعنی اے میرے رب! تو نے کبھی بھی میری دعا کو قبولیت سے محروم کر کے مجھے خائب و خاسر نہیں کیا بلکہ تو مجھے ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازتا اور میری دعا کو قبول کرتا رہا ہے۔ تیرا لطف و کرم ہمیشہ مجھ پر سایہ فگن رہا اور تیرے احسانات مجھ تک پہنچتے رہے۔ یہ حضرت زکریا u نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی گزشتہ دعاؤں کی قبولیت کو بارگاہ الٰہی میں بطور وسیلہ پیش کیا۔ پس حضرت زکریا uنے اس ہستی سے سوال کیا جس نے ماضی میں ان کو احسانات سے نوازا کہ وہ آئندہ بھی انھیں اپنی عنایات سے نوازے۔

[5]﴿ وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے‘‘ یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہو گا؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کر سکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریاu کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریاu کی شفقت اور خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہو جائے اورآپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریاu کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور رسالت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لیے حضرت زکریاu نے دعا کی کہ وہ انھیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہو گئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انھوں نے عرض کی:﴿ فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ﴾ ’’سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون‘‘

[6] اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾ ’’جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ‘‘ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریاu نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 305

MaryamJuz 16 · Page 305

سورة مريم

Maryam

Mary · Meccan · 98 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

19:1

كٓهيعٓصٓ ١

Kāf, Hā, Yā, ʿAyn, Ṣād.1

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

19:2

ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهُۥ زَكَرِيَّآ ٢

[This is] a mention of the mercy of your Lord to His servant Zechariah

19:3

إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ نِدَآءً خَفِيّٗا ٣

When he called to his Lord a private call [i.e., supplication].

19:4

قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ ٱلۡعَظۡمُ مِنِّي وَٱشۡتَعَلَ ٱلرَّأۡسُ شَيۡبٗا وَلَمۡ أَكُنۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيّٗا ٤

He said, "My Lord, indeed my bones have weakened, and my head has filled1 with white, and never have I been in my supplication to You, my Lord, unhappy [i.e., disappointed].

1 translator’s note
  1. Literally, "ignited." The spread of white hair throughout the head is likened to that of fire in the bush. ↩

19:5

وَإِنِّي خِفۡتُ ٱلۡمَوَٰلِيَ مِن وَرَآءِي وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا فَهَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيّٗا ٥

And indeed, I fear the successors1 after me, and my wife has been barren, so give me from Yourself an heir

1 translator’s note
  1. Those relatives from the father's side who would inherit religious authority. ↩

19:6

يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنۡ ءَالِ يَعۡقُوبَۖ وَٱجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيّٗا ٦

Who will inherit me1 and inherit from the family of Jacob. And make him, my Lord, pleasing [to You]."

1 translator’s note
  1. Inherit from me religious knowledge and prophethood. ↩

19:7

يَٰزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ ٱسۡمُهُۥ يَحۡيَىٰ لَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ مِن قَبۡلُ سَمِيّٗا ٧

[He was told],1 "O Zechariah, indeed We give you good tidings of a boy whose name will be John. We have not assigned to any before [this] name."

1 translator’s note
  1. By Allāh (subḥānahu wa taʿālā) through the angels. ↩

19:8

قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا وَقَدۡ بَلَغۡتُ مِنَ ٱلۡكِبَرِ عِتِيّٗا ٨

He said, "My Lord, how will I have a boy when my wife has been barren and I have reached extreme old age?"

19:9

قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞ وَقَدۡ خَلَقۡتُكَ مِن قَبۡلُ وَلَمۡ تَكُ شَيۡـٔٗا ٩

[An angel] said, "Thus [it will be]; your Lord says, 'It is easy for Me, for I created you before, while you were nothing.'"

19:10

قَالَ رَبِّ ٱجۡعَل لِّيٓ ءَايَةٗۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَ لَيَالٖ سَوِيّٗا ١٠

[Zechariah] said, "My Lord, make for me a sign." He said, "Your sign is that you will not speak to the people for three nights, [being] sound."1

1 translator’s note
  1. i.e., without illness or defect. ↩

19:11

فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنَ ٱلۡمِحۡرَابِ فَأَوۡحَىٰٓ إِلَيۡهِمۡ أَن سَبِّحُواْ بُكۡرَةٗ وَعَشِيّٗا ١١

So he came out to his people from the prayer chamber and signaled to them to exalt [Allāh] in the morning and afternoon.

As-Sa'diTafsir · 19:1

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском