Maryam 19:21
Mary · Juz 16 · Page 306
قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞۖ وَلِنَجۡعَلَهُۥٓ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَةٗ مِّنَّاۚ وَكَانَ أَمۡرٗا مَّقۡضِيّٗا ٢١
He said, "Thus [it will be]; your Lord says, 'It is easy for Me, and We will make him a sign to the people and a mercy from Us. And it is a matter [already] decreed.'"
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 19:16–21
اور ذکر کیجیے کتاب میں مریم کا، جب علیحدہ ہوئی وہ اپنے گھر والوں سے ایسے مکان میں جو مشرقی جانب تھا(16) پھر بنا لیا مریم نے ان کے آگے سے ایک پردہ، پس بھیجا ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو، سو شکل اختیار کی اس نے مریم کے سامنے ایک آدمی کامل کی (17) کہا مریم نے، بلاشبہ میں پناہ پکڑتی ہوں رحمٰن کے ساتھ، تجھ سے، اگر ہے تو ڈرنے والا (18) اس نے کہا، یقینا میں بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کاتاکہ عطا کروں تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک لڑکا پاکیزہ (19) مریم نے کہا، کیسے ہو گا میرے لیے لڑکا حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے ، اور نہیں ہوں میں بدکار (20)فرشتے نے کہا، اسی طرح ہے (تو بچہ جنے گی) کہا ہے تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہےاور تاکہ بنائیں ہم اسے ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور ہے (یہ) معاملہ طے شدہ (21)
[16] اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکریا اور یحییٰi کا واقعہ بیان کرنے کے بعد … کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے … ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ ﴿ وَاذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور ذکر کر کتاب میں ‘‘ یعنی قرآن کریم میں ﴿ مَرۡيَمَ﴾ مریم[ کا۔ یہ مریم[ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں ۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنابیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں ، حضرت مریم[ کے بہترین حال کا ذکر کیجیے۔ جب ﴿ اِذِ انۡتَبَذَتۡ ﴾ ’’وہ جدا ہوئی‘‘ یعنی جب مریم[ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ﴿ مَكَانًا شَرۡقِيًّا ﴾ مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہو گئی تھیں ۔
[17]﴿ فَاتَّؔخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا﴾ ’’پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ‘‘ یعنی ایک پردہ ڈال لیا تھا جو لوگوں کی ملاقات سے مانع تھا۔حضرت مریم[ کا گوشہ نشیں ہونا، پردہ لٹکا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے الگ تھلگ ہو جانا، اخلاص، خشوع و خضوع اور اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت دراصل اس ارشاد الٰہی کی تعمیل ہے۔ ﴿ وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾(آل عمران:3؍42-43) ’’جب فرشتوں نے (جناب مریم سے)کہا اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام جہانوں کی عورتوں پر ترجیح دے کر چن لیا۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کر، اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور جھکنے والوں کے ساتھ تو بھی جھک۔‘‘﴿ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا﴾ ’’پس بھیجی ہم نے ان کی طرف اپنی روح‘‘ یہاں روح سے مراد جبریلu ہیں ۔ ﴿ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ ’’پس وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن کر آیا‘‘ یعنی ایک خوبصورت اور حسین و جمیل مرد کی شکل میں ظاہر ہوئے، جس میں کوئی عیب تھا نہ نقص کیونکہ حضرت مریم جبریلu کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی متحمل نہ تھیں ۔
[18] جب مریم[ نے جبریلu کو اس حال میں دیکھا، جبکہ وہ اپنے گھر سے علیحدہ اور لوگوں سے الگ ہو کر گوشہ نشیں ہو گئی تھیں اور عزیز ترین لوگوں ، یعنی اپنے گھر والوں سے بھی پردہ کر لیا تھا… تو ڈر گئیں کہ وہ مرد ہے کہیں وہ ان کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہ رکھتا ہو اور کہیں وہ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئے تو انھوں نے اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس سے کہنے لگیں :﴿ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ﴾ ’’میں رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں اور اس کی رحمت کے سائے میں آتی ہوں کہ کہیں تو مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾ ’’اگر تم متقی ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور اس کے تقویٰ کے مطابق عمل کرتے ہو تو مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔حضرت مریم[ نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور ساتھ ساتھ اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور اسے التزام تقویٰ کا حکم دیا اور وہ تنہائی کی حالت میں تھیں ، جوان تھیں اور لوگوں سے الگ تھلگ تھیں ۔ حضرت جبریلu بھی بشریت کے کامل روپ اور حیران کن حسن و جمال میں ظاہر ہوئے انھوں نے حضرت مریم[ سے کوئی تعرض کیا نہ کوئی ان سے بری بات کہی … یہ تو حضرت مریم[ سے خوف تھا اور یہ عفت کے بلند ترین درجے، شر اور اس کے اسباب سے بعد کی دلیل ہے۔ یہ عفت … خاص طور پر جبکہ تمام اسباب جمع ہوں اور گناہ سے کوئی مانع بھی موجود نہ ہو… بہترین عمل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ستائش کی۔ فرمایا:﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا ﴾(التحریم:66؍12) ’’اور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی،ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ اور فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍91) ’’اور وہ (مریم[) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، پھر اسے اور اس کے بیٹے کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مریم[ کی عفت کے عوض انھیں ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے رسولوں میں سے ایک رسول تھا۔
[19] جب جبریلu نے حضرت مریم[ کی گھبراہٹ اور ان کا خوف دیکھا تو انھوں نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّكِ﴾ ’’میں تو آپ کے رب کا قاصد ہوں ‘‘ یعنی میرا کام اور میرا شغل تو آپ کے بارے میں اپنے رب کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ ﴿ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَؔكِيًّا ﴾ ’’تاکہ دے جاؤں میں آپ کو ایک لڑکا ستھرا‘‘ یہ بیٹے اور اس کی پاکیزگی کی بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ پاکیزگی، تمام خصائل مذمومہ سے تطہیر اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کو مستلزم ہے۔
[20] پس حضرت مریم[ باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں : ﴿ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا ﴾ ’’کہاں سے ہو گا میرے لیے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ‘‘ اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
[21]﴿ قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ١ۚ وَلِنَجۡعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’جبریل نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لیے نشانی‘‘ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں ، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بعض اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غوروفکر ترک نہ کریں ۔ ﴿ وَرَحۡمَةً مِّؔنَّا﴾ ’’اور اپنی طرف سے رحمت‘‘ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لیے، اس کی والدہ کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنائیں ۔ان کا خود اپنے لیے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لیے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ ﴿وَؔكَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِيًّا﴾ ’’اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریلu نے حضرت مریم[ کے گریبان میں پھونک ماری۔
Page 306
19:12
يَٰيَحۡيَىٰ خُذِ ٱلۡكِتَٰبَ بِقُوَّةٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحُكۡمَ صَبِيّٗا ١٢
[Allāh said], "O John, take the Scripture [i.e., adhere to it] with determination." And We gave him judgement [while yet] a boy
19:13
وَحَنَانٗا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوٰةٗۖ وَكَانَ تَقِيّٗا ١٣
And affection from Us and purity, and he was fearing of Allāh
19:14
وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَيۡهِ وَلَمۡ يَكُن جَبَّارًا عَصِيّٗا ١٤
And dutiful to his parents, and he was not a disobedient tyrant.
19:15
وَسَلَٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيّٗا ١٥
And peace be upon him the day he was born and the day he dies and the day he is raised alive.
19:16
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَرۡيَمَ إِذِ ٱنتَبَذَتۡ مِنۡ أَهۡلِهَا مَكَانٗا شَرۡقِيّٗا ١٦
And mention, [O Muḥammad], in the Book [the story of] Mary, when she withdrew from her family to a place toward the east.
19:17
فَٱتَّخَذَتۡ مِن دُونِهِمۡ حِجَابٗا فَأَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرٗا سَوِيّٗا ١٧
And she took, in seclusion from them, a screen. Then We sent to her Our Angel [i.e., Gabriel], and he represented himself to her as a well-proportioned man.
19:18
قَالَتۡ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيّٗا ١٨
She said, "Indeed, I seek refuge in the Most Merciful from you, [so leave me], if you should be fearing of Allāh."
19:19
قَالَ إِنَّمَآ أَنَا۠ رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَٰمٗا زَكِيّٗا ١٩
He said, "I am only the messenger of your Lord to give you [news of] a pure boy [i.e., son]."
19:20
قَالَتۡ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞ وَلَمۡ أَكُ بَغِيّٗا ٢٠
She said, "How can I have a boy while no man has touched me and I have not been unchaste?"
19:21
قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞۖ وَلِنَجۡعَلَهُۥٓ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَةٗ مِّنَّاۚ وَكَانَ أَمۡرٗا مَّقۡضِيّٗا ٢١
He said, "Thus [it will be]; your Lord says, 'It is easy for Me, and We will make him a sign to the people and a mercy from Us. And it is a matter [already] decreed.'"
19:22
۞ فَحَمَلَتۡهُ فَٱنتَبَذَتۡ بِهِۦ مَكَانٗا قَصِيّٗا ٢٢
So she conceived him, and she withdrew with him to a remote place.
19:23
فَأَجَآءَهَا ٱلۡمَخَاضُ إِلَىٰ جِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ قَالَتۡ يَٰلَيۡتَنِي مِتُّ قَبۡلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسۡيٗا مَّنسِيّٗا ٢٣
And the pains of childbirth drove her to the trunk of a palm tree. She said, "Oh, I wish I had died before this and was in oblivion, forgotten."
19:24
فَنَادَىٰهَا مِن تَحۡتِهَآ أَلَّا تَحۡزَنِي قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيّٗا ٢٤
But he1 called her from below her, "Do not grieve; your Lord has provided beneath you a stream.
1 translator’s note
- There is a difference of opinion among scholars as to whether "he" refers to the baby or to the angel. ↩
19:25
وَهُزِّيٓ إِلَيۡكِ بِجِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ تُسَٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبٗا جَنِيّٗا ٢٥
And shake toward you the trunk of the palm tree; it will drop upon you ripe, fresh dates.