MaryamJuz 16 · Page 306

Maryam 19:24

Mary · Juz 16 · Page 306

فَنَادَىٰهَا مِن تَحۡتِهَآ أَلَّا تَحۡزَنِي قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيّٗا ٢٤

But he1 called her from below her, "Do not grieve; your Lord has provided beneath you a stream.

1 translator’s note
  1. There is a difference of opinion among scholars as to whether "he" refers to the baby or to the angel. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 19:22–26

پس حاملہ ہو گئی وہ ساتھ اس کے، پھر الگ ہو گئی وہ ساتھ اس کے ایک مکان دور والے میں (22) پس لے آیا اس (مریم) کو دردزہ طرف تنے کی کھجور کے تو اس نے کہا، اے کاش! میں مر جاتی پہلے اس سے اور ہو جاتی بھولی بسری (23) پس آواز دی فرشتے نے اسےاور اس کے نیچے سے، یہ کہ نہ غم کھا تو، تحقیق (جاری) کر دیا ہے تیرے رب نے، تیرے نیچے سے، ایک چشمہ(24) اور تو ہلا اپنی طرف تنے کو کھجورکے، وہ گرائے گا تجھ پر کھجور (عمدہ) تازہ پکی ہوئی (25) سو تو کھا اور پی اور ٹھنڈی کر آنکھیں (اپنی)، پس اگر دیکھے تو آدمیوں میں سے کسی کو تو کہہ دینا، بے شک میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی، پس ہرگز نہیں کلام کروں گی میں آج کسی انسان سے (بھی)(26)

[22] جب حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں ﴿ مَكَانًا قَصِيًّا﴾ ’’دور جگہ‘‘

[23] جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جب حضرت مریمu کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انھیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے … تو انھوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں ، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم[ کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لیے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انھیں حاصل ہوئی۔

[24] اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم[ کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا: مت گھبرا اور نہ غم کر ﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا﴾ ’’تمھارے رب نے تمھارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔‘‘ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کر دی ہے جس سے تو پانی پيے گی۔

[25]﴿وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ ’’اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں ‘‘ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں ۔

[26]﴿ فَكُلِيۡ﴾ یعنی کھجوریں کھا ﴿ وَاشۡرَبِيۡ﴾ ’’(اور اس نہر کا) پانی پی۔‘‘ ﴿ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا﴾ ’’(اور حضرت عیسیٰu کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔‘‘ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم[ کے لیے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے تو فرشتے نے حضرت مریم[ کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں :﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا ﴾ ’’میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی‘‘ یعنی خاموش رہنے کی۔ ﴿ فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا﴾ ’’پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے‘‘ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے ہونا ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لیے، اسی جیسا ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰu کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 306

MaryamJuz 16 · Page 306

19:12

يَٰيَحۡيَىٰ خُذِ ٱلۡكِتَٰبَ بِقُوَّةٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحُكۡمَ صَبِيّٗا ١٢

[Allāh said], "O John, take the Scripture [i.e., adhere to it] with determination." And We gave him judgement [while yet] a boy

19:13

وَحَنَانٗا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوٰةٗۖ وَكَانَ تَقِيّٗا ١٣

And affection from Us and purity, and he was fearing of Allāh

19:14

وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَيۡهِ وَلَمۡ يَكُن جَبَّارًا عَصِيّٗا ١٤

And dutiful to his parents, and he was not a disobedient tyrant.

19:15

وَسَلَٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيّٗا ١٥

And peace be upon him the day he was born and the day he dies and the day he is raised alive.

19:16

وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَرۡيَمَ إِذِ ٱنتَبَذَتۡ مِنۡ أَهۡلِهَا مَكَانٗا شَرۡقِيّٗا ١٦

And mention, [O Muḥammad], in the Book [the story of] Mary, when she withdrew from her family to a place toward the east.

19:17

فَٱتَّخَذَتۡ مِن دُونِهِمۡ حِجَابٗا فَأَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرٗا سَوِيّٗا ١٧

And she took, in seclusion from them, a screen. Then We sent to her Our Angel [i.e., Gabriel], and he represented himself to her as a well-proportioned man.

19:18

قَالَتۡ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيّٗا ١٨

She said, "Indeed, I seek refuge in the Most Merciful from you, [so leave me], if you should be fearing of Allāh."

19:19

قَالَ إِنَّمَآ أَنَا۠ رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَٰمٗا زَكِيّٗا ١٩

He said, "I am only the messenger of your Lord to give you [news of] a pure boy [i.e., son]."

19:20

قَالَتۡ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞ وَلَمۡ أَكُ بَغِيّٗا ٢٠

She said, "How can I have a boy while no man has touched me and I have not been unchaste?"

19:21

قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞۖ وَلِنَجۡعَلَهُۥٓ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَةٗ مِّنَّاۚ وَكَانَ أَمۡرٗا مَّقۡضِيّٗا ٢١

He said, "Thus [it will be]; your Lord says, 'It is easy for Me, and We will make him a sign to the people and a mercy from Us. And it is a matter [already] decreed.'"

19:22

۞ فَحَمَلَتۡهُ فَٱنتَبَذَتۡ بِهِۦ مَكَانٗا قَصِيّٗا ٢٢

So she conceived him, and she withdrew with him to a remote place.

19:23

فَأَجَآءَهَا ٱلۡمَخَاضُ إِلَىٰ جِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ قَالَتۡ يَٰلَيۡتَنِي مِتُّ قَبۡلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسۡيٗا مَّنسِيّٗا ٢٣

And the pains of childbirth drove her to the trunk of a palm tree. She said, "Oh, I wish I had died before this and was in oblivion, forgotten."

19:24

فَنَادَىٰهَا مِن تَحۡتِهَآ أَلَّا تَحۡزَنِي قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيّٗا ٢٤

But he1 called her from below her, "Do not grieve; your Lord has provided beneath you a stream.

1 translator’s note
  1. There is a difference of opinion among scholars as to whether "he" refers to the baby or to the angel. ↩

19:25

وَهُزِّيٓ إِلَيۡكِ بِجِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ تُسَٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبٗا جَنِيّٗا ٢٥

And shake toward you the trunk of the palm tree; it will drop upon you ripe, fresh dates.

As-Sa'diTafsir · 19:24

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском