Maryam 19:28
Mary · Juz 16 · Page 307
يَٰٓأُخۡتَ هَٰرُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ ٱمۡرَأَ سَوۡءٖ وَمَا كَانَتۡ أُمُّكِ بَغِيّٗا ٢٨
O sister [i.e., descendant] of Aaron, your father was not a man of evil, nor was your mother unchaste."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 19:27–33
پس لے آئی مریم اس (بچے) کو اپنی قوم کے پاس، اسے اٹھائے ہوئے، انھوں نے کہا، اے مریم! تحقیق کیا ہے تو نے کام بہت برا (27) اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار (28) پس مریم نے اشارہ کیا اس (بچے) کی طرف، انھوں نے کہا، کیسے کلام کریں ہم اس سے جو ہے گود میں بچہ؟ (29) بچے نے کہا، بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے دی ہے مجھے کتاب اور اس نے بنایا ہے مجھے نبی (30) اور اس نے بنایا ہے مجھے بابرکت جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اس نے وصیت کی ہے مجھے نماز اور زکاۃ کی، جب تک میں رہوں زندہ (31) اور (بنایا مجھے) نیکی کرنے والا ساتھ اپنی والدہ کے اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش، بدبخت (32) اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا زندہ کر کے (33)
[27] یعنی جب حضرت مریم[ اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰu کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔؔا فَرِيًّا ﴾ ’’تو نے بڑا عجیب کام کیا‘‘ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں ۔
[28]﴿ يٰۤاُخۡتَ هٰؔرُوۡنَ﴾ ’’اے ہارون کی بہن۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم[ کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰu کے بھائی ہارون بن عمرانu نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا﴾ ’’تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار‘‘ یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں ، نیکی اور بدی کے معاملے میں ، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم[ سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
[29] پس حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم[ کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ﴾ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔‘‘ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰu) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِي الۡمَهۡدِ صَبِيًّا ﴾ ’’ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ‘‘ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
[30] اس وقت حضرت عیسیٰu، پنگوڑے میں سے بولے:﴿اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ‘‘ آپu نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیحu کے ارشاد ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔‘‘ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپu کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’دی اس نے مجھے کتاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾ ’’اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے‘‘ حضرت عیسیٰu نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
[31] پھر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا: ﴿ وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ﴾ ’’اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں ‘‘ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰu کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ ﴿ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ﴾ ’’اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکٰوۃ کی، جب تک ہوں میں زندہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکٰوۃ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں ۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا۔
[32]نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں ، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔﴿وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِيۡ جَبَّارًؔا ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں ۔ ﴿ شَقِيًّا ﴾ یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
[33] پس جب حضرت عیسیٰu کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر‘‘ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں ۔
Page 307
19:26
فَكُلِي وَٱشۡرَبِي وَقَرِّي عَيۡنٗاۖ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ ٱلۡبَشَرِ أَحَدٗا فَقُولِيٓ إِنِّي نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمَٰنِ صَوۡمٗا فَلَنۡ أُكَلِّمَ ٱلۡيَوۡمَ إِنسِيّٗا ٢٦
So eat and drink and be contented. And if you see from among humanity anyone, say, 'Indeed, I have vowed to the Most Merciful abstention, so I will not speak today to [any] man.'"
19:27
فَأَتَتۡ بِهِۦ قَوۡمَهَا تَحۡمِلُهُۥۖ قَالُواْ يَٰمَرۡيَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـٔٗا فَرِيّٗا ٢٧
Then she brought him to her people, carrying him. They said, "O Mary, you have certainly done a thing unprecedented.
19:28
يَٰٓأُخۡتَ هَٰرُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ ٱمۡرَأَ سَوۡءٖ وَمَا كَانَتۡ أُمُّكِ بَغِيّٗا ٢٨
O sister [i.e., descendant] of Aaron, your father was not a man of evil, nor was your mother unchaste."
19:29
فَأَشَارَتۡ إِلَيۡهِۖ قَالُواْ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي ٱلۡمَهۡدِ صَبِيّٗا ٢٩
So she pointed to him. They said, "How can we speak to one who is in the cradle a child?"
19:30
قَالَ إِنِّي عَبۡدُ ٱللَّهِ ءَاتَىٰنِيَ ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلَنِي نَبِيّٗا ٣٠
[Jesus] said, "Indeed, I am the servant of Allāh. He has given me the Scripture and made me a prophet.
19:31
وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيۡنَ مَا كُنتُ وَأَوۡصَٰنِي بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ مَا دُمۡتُ حَيّٗا ٣١
And He has made me blessed wherever I am and has enjoined upon me prayer and zakāh as long as I remain alive
19:32
وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَتِي وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِي جَبَّارٗا شَقِيّٗا ٣٢
And [made me] dutiful to my mother, and He has not made me a wretched tyrant.
19:33
وَٱلسَّلَٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدتُّ وَيَوۡمَ أَمُوتُ وَيَوۡمَ أُبۡعَثُ حَيّٗا ٣٣
And peace is on me the day I was born and the day I will die and the day I am raised alive."
19:34
ذَٰلِكَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَۖ قَوۡلَ ٱلۡحَقِّ ٱلَّذِي فِيهِ يَمۡتَرُونَ ٣٤
That is Jesus, the son of Mary - the word of truth about which they are in dispute.
19:35
مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٖۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٣٥
It is not [befitting] for Allāh to take a son; exalted is He!1 When He decrees an affair, He only says to it, "Be," and it is.
1 translator’s note
- i.e., far removed is He from any such need. ↩
19:36
وَإِنَّ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ ٣٦
[Jesus said], "And indeed, Allāh is my Lord and your Lord, so worship Him. That is a straight path."
19:37
فَٱخۡتَلَفَ ٱلۡأَحۡزَابُ مِنۢ بَيۡنِهِمۡۖ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن مَّشۡهَدِ يَوۡمٍ عَظِيمٍ ٣٧
Then the factions differed [concerning Jesus] from among them, so woe to those who disbelieved - from the scene of a tremendous Day.
19:38
أَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَأَبۡصِرۡ يَوۡمَ يَأۡتُونَنَا لَٰكِنِ ٱلظَّٰلِمُونَ ٱلۡيَوۡمَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٣٨
How [clearly] they will hear and see the Day they come to Us, but the wrongdoers today are in clear error.