Maryam 19:52
Mary · Juz 16 · Page 309
وَنَٰدَيۡنَٰهُ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنَٰهُ نَجِيّٗا ٥٢
And We called him from the side of the mount1 at [his] right and brought him near, confiding [to him].
1 translator’s note
- Mount Sinai. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 19:51–53
اور ذکر کیجیے کتاب میں موسیٰ کا، بلاشبہ وہ تھا چنا ہوااور تھا رسول نبی (51) اور پکارا ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سےاور قریب کیا ہم نے اسے سرگوشی کرنے کے لیے (52) اور عطا کیا ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی (بنا کر)(53)
[51] یعنی اس قرآن عظیم میں ، حضرت موسیٰ بن عمرانu کی تعظیم و توقیر، ان کے مقام عالی قدر اور اخلاق کاملہ کی تعریف کے طور پر، ان کا ذکر کیجیے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا ﴾(مُخْلَصًا) کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے پسند کر لیا اور اسے چن لیا۔ ایک دوسری قراء ت میں (مُخْلِصًا)کو لام کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے تب اس کا معنی یہ ہو گا کہ حضرت موسیٰ u اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص تھے۔ ان کے تمام احوال میں اخلاص ان کا وصف تھا… دونوں معنی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کے اخلاص کی بنا پر ان کو چن لیا اور ان کا اخلاص اس بات کا موجب تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو چن لے اور بندۂ مومن کا جلیل ترین حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے اخلاص کا حامل ہو اور اس کا رب اسے اپنے لیے چن لے۔﴿ وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں رسالت اور نبوت کو یکجا کر دیا۔ پس رسالت، بھیجنے والے کے کلام کی تبلیغ کا تقاضا کرتی ہے، نیز یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ شریعت کی جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز آئی ہے اسے بندوں تک پہنچایا جائے… اور نبوت اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی آتی ہو اور اللہ تعالیٰ نے وحی کی تنزیل کے لیے اسے مختص کر لیا ہو۔ پس نبوت کا تعلق بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے اور رسالت کا تعلق بندے اور مخلوق کے درمیان ہے۔
[52] بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کو وحی کی جلیل ترین اور سب سے افضل نوع کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام کرنا اور انھیں اپنی سرگوشی کے لیے اپنے قریب کرنا۔ انبیاء میں سے اس فضیلت کے ساتھ صرف موسیٰ uکو خاص کیا گیا کہ وہ رحمان کے کلیم ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: ﴿وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ ﴾ یعنی حضرت موسیٰ u کی دائیں جانب سے، جب وہ سفر کر رہے تھے، ہم نے ان کو ندا دی۔ یا (اَلأَیْمن) سے مراد بابرکت ہے یعنی یہ (یُمْنٌ) ’’برکت‘‘ سے ہے اور اس معنیٰ پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ ﴿اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾(النمل:27؍8)’’بابرکت ہے وہ ہستی جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔‘‘﴿وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کے لیے اپنے قریب کیا۔‘‘ ندا اور مناجات میں فرق یہ ہے، کہ ندا بلند آواز میں ہوتی اور مناجات اس سے کم تر دھیمی آواز میں ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی تمام انواع… مثلاً: ندا اور مناجات وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے جیسا کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔ اس کے برعکس جہمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم مسلک گروہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں ۔
[53]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ نَبِيًّا﴾ یہ حضرت موسیٰ u کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارونu کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون u کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انھیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنا دیا… پس ہارون u کی نبوت حضرت موسیٰ u کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون u نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰu کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔
Page 309
19:52
وَنَٰدَيۡنَٰهُ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنَٰهُ نَجِيّٗا ٥٢
And We called him from the side of the mount1 at [his] right and brought him near, confiding [to him].
1 translator’s note
- Mount Sinai. ↩
19:53
وَوَهَبۡنَا لَهُۥ مِن رَّحۡمَتِنَآ أَخَاهُ هَٰرُونَ نَبِيّٗا ٥٣
And We gave him out of Our mercy his brother Aaron as a prophet.
19:54
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِسۡمَٰعِيلَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُولٗا نَّبِيّٗا ٥٤
And mention in the Book, Ishmael. Indeed, he was true to his promise, and he was a messenger and a prophet.
19:55
وَكَانَ يَأۡمُرُ أَهۡلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِۦ مَرۡضِيّٗا ٥٥
And he used to enjoin on his people prayer and zakāh and was to his Lord pleasing [i.e., accepted by Him].
19:56
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِدۡرِيسَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقٗا نَّبِيّٗا ٥٦
And mention in the Book, Idrees. Indeed, he was a man of truth and a prophet.
19:57
وَرَفَعۡنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ٥٧
And We raised him to a high station.
19:58
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٖ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡرَٰٓءِيلَ وَمِمَّنۡ هَدَيۡنَا وَٱجۡتَبَيۡنَآۚ إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُ ٱلرَّحۡمَٰنِ خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَبُكِيّٗا۩ ٥٨
Those were the ones upon whom Allāh bestowed favor from among the prophets of the descendants of Adam and of those We carried [in the ship] with Noah, and of the descendants of Abraham and Israel [i.e., Jacob], and of those whom We guided and chose. When the verses of the Most Merciful were recited to them, they fell in prostration and weeping.
19:59
۞ فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ أَضَاعُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّبَعُواْ ٱلشَّهَوَٰتِۖ فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا ٥٩
But there came after them successors [i.e., later generations] who neglected prayer and pursued desires; so they are going to meet evil1 -
1 translator’s note
- Described as a valley in Hell or may be rendered "the consequence of error." ↩
19:60
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَأُوْلَٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا ٦٠
Except those who repent, believe and do righteousness; for those will enter Paradise and will not be wronged at all.
19:61
جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ عِبَادَهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ إِنَّهُۥ كَانَ وَعۡدُهُۥ مَأۡتِيّٗا ٦١
[Therein are] gardens of perpetual residence which the Most Merciful has promised His servants in the unseen. Indeed, His promise has ever been eminent.1
1 translator’s note
- Literally, "that to which all will come." ↩
19:62
لَّا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوًا إِلَّا سَلَٰمٗاۖ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيهَا بُكۡرَةٗ وَعَشِيّٗا ٦٢
They will not hear therein any ill speech - only [greetings of] peace - and they will have their provision therein, morning and afternoon.
19:63
تِلۡكَ ٱلۡجَنَّةُ ٱلَّتِي نُورِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيّٗا ٦٣
That is Paradise, which We give as inheritance to those of Our servants who were fearing of Allāh.
19:64
وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمۡرِ رَبِّكَۖ لَهُۥ مَا بَيۡنَ أَيۡدِينَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذَٰلِكَۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّٗا ٦٤
[Gabriel said],1 "And we [angels] descend not except by the order of your Lord. To Him belongs that before us and that behind us and what is in between. And never is your Lord forgetful -
1 translator’s note
- In answer to the Prophet's wish that Gabriel would visit him more often. ↩