Al-BaqarahJuz 1 · Page 15

Al-Baqarah 2:101

The Cow · Juz 1 · Page 15

وَلَمَّا جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٞ لِّمَا مَعَهُمۡ نَبَذَ فَرِيقٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ كَأَنَّهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ١٠١

And when a messenger from Allāh came to them confirming that which was with them, a party of those who had been given the Scripture threw the Scripture of Allāh [i.e., the Torah] behind their backs as if they did not know [what it contained].

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:101–103

اور جب آیا ان کے پاس کوئی رسول اللہ کے پاس سے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، تو پھینک دیا ایک فریق نے ان لوگوں میں سے جو دیے گئے تھے کتاب، اللہ کی کتاب کو، پیچھے اپنی پیٹھوں کے، گویا وہ نہیں جانتے(101) اور اتباع کیا انھوں نے اس کا جو پڑھتے تھے شیطان، سلیمان کی بادشاہی میں، اور نہیں کفر کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا، وہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور (پیروی کی) اس کی جو نازل کیا گیا اوپر دو فرشتوں کے، بابل میں، ھاروت اور ماروت (پر) اور نہیں سکھلاتے تھے وہ (فرشتے) کسی کو یہاں تک کہ کہتے وہ (پہلے) ہم تو صرف آزمائش ہیں، سو نہ کفر کر تو، پس سیکھتے تھے لوگ ان سے وہ (جادو) کہ جدائی ڈالتے تھے وہ اس کے ذریعے سے درمیان مرد اور اس کی بیوی کے، اور نہیں تھے وہ نقصان پہنچانے والے ساتھ اس (جادو) کے کسی کو بھی، مگر ساتھ حکم اللہ کے۔ اور سیکھتے تھے لوگ وہ (علم) جو نقصان پہنچاتا تھا ان کو اور نہیں نفع دیتا تھا انھیں۔ اور تحقیق جان لیا انھوں نے، البتہ جس نے خریدا اس (جادو) کو نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ اور البتہ بُری ہے وہ چیز کہ بیچا انھوں نے بدلے اس کے اپنی جانوں کو، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(102) اور اگر بے شک وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ، البتہ ثواب (ملتا) اللہ کے ہاں سے بہت بہتر، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(103)

[101] یعنی جب ان کے پاس رسول کریم(ﷺ)اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھی اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انھوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کر دیا جس کو یہ رسول لے کر آئے۔ ﴿ نَبَذَ فَرِيۡقٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ ﴾ ’’اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا‘‘ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بے رغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا ﴿ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’اپنی پیٹھوں کے پیچھے‘‘ روگردانی اور اعراض کے لیے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اس رسول کی صداقت اور جو کچھ وہ لایا ہے اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اہل کتاب کے اس گروہ کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہیں جبکہ یہ اس رسول پر ایمان نہیں لائے۔ ان کا اس رسول کو نہ ماننا اپنی کتاب کا انکار کرنا ہے مگر وہ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ حکمت الٰہی اور عادت قدسی یہ ہے کہ جو کوئی اس چیز کو ترک کرتا ہے جو اسے فائدہ دیتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے ممکن ہو لیکن وہ فائدہ نہ اٹھائے تو اسے ایسے کام میں مشغول کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑتا ہے، اسے بتوں کی عبادت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف اور اس پرامید کو ترک کرتا ہے وہ غیر اللہ کی محبت، اس سے خوف اور اس سے امید میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مال خرچ نہیں کرتا، اسے شیطان کی فرماں برداری میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جو کوئی اپنے رب کے سامنے ذلت اور فروتنی کا اظہار نہیں کرتا اسے بندوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور جو کوئی حق کو چھوڑ دیتا ہے اسے باطل میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔

[103-102] اسی طرح ان یہودیوں نے جب اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تو اس جادو کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین نے حضرت سلیمانuکی حکومت کے زمانے میں ایجاد کیا۔ جہاں شیاطین نے لوگوں کو سکھانے کے لیے جادو گھڑا اور لوگ سمجھے کہ حضرت سلیمانuجادو کا استعمال کرتے ہیں اور جادو ہی کے زور پر انھیں اتنی بڑی سلطنت حاصل ہوئی ہے۔ اس بارے میں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت سلیمانuنے کبھی جادو نہیں کیا۔ بلکہ اللہ سچے نے اپنے اس فرمان میں حضرت سلیمان کو اس کام سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمٰنُ﴾ یعنی (حضرت سلیمان) نے (جادو سیکھ کر) کفر کا ارتکاب نہیں کیا، انھوں نے ہرگز جادو نہیں سیکھا ﴿ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی (جادو سیکھ کر )شیاطین نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿ يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ﴾ یعنی بنی آدم کو گمراہ کرنے اور ان کو اغوا کرنے کی حرص کی وجہ سے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اسی طرح یہودیوں نے اس جادو کی بھی پیروی کی جو سرزمین عراق کے شہر بابل میں دو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے امتحان اور آزمائش کے لیے ان فرشتوں پر جادو نازل کیا گیا تھا اور یہ فرشتے آزمائش ہی کے لیے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ ﴿ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى﴾ ’’اور وہ کسی کو نہیں سکھاتے تھے یہاں تک کہ‘‘ وہ ان کی خیر خواہی کرتے اور ﴿ يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡ﴾ ’’کہتے کہ ہم تو آزمائش کے لیے ہیں، سو تم کفر مت کرو‘‘ یعنی جادو نہ سیکھو کیونکہ جادو کفر ہے۔ پس دونوں فرشتے لوگوں کو جادو سیکھنے سے روکتے تھے اور انھیں جادو کی حیثیت سے آگاہ کر دیتے تھے۔ پس شیاطین کا جادو سکھانا تو محض تدلیس اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر تھا، نیز اس جادو کو ترویج دینے اور اسے اس معصوم ہستی یعنی حضرت سلیمانuکی طرف منسوب کرنے کے لیے تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بری قرار دیا ہے اور فرشتوں کا جادو سکھانا لوگوں کی آزمائش اور امتحان کے لیے تھا۔ وہ خیر خواہی سے لوگوں کو آگاہ کر دیتے تھے تاکہ ان کے لیے حجت نہ بنے۔ پس یہ یہودی اس جادو کے پیچھے لگے، جسے شیاطین نے سیکھا تھا اور جو وہ دو فرشتے سکھایا کرتے تھے۔ تو انھوں نے انبیاء و مرسلین کے علوم کو چھوڑ دیا اور شیاطین کے علم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ہر شخص اسی چیز کی طرف مائل ہوتا ہے جو اس کے مناسب حال ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے مفاسد بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهٖ﴾ ’’پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈال دیں‘‘ اس کے باوجود کہ میاں بیوی کے درمیان محبت کو کسی اور کی محبت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّۃً وَّرَحۡمَۃً﴾(الروم : 30؍21) ’’اور تمھارے درمیان مودت اور رحمدلی پیدا کر دی۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت ہے نیز یہ کہ جادو اللہ تعالیٰ کے ’’اذن‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے نقصان دیتا ہے۔ اذن کی دو اقسام ہیں۔ (الف) اذن قدری ۔ جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (ب) اذن شرعی ۔ جیسا کہ سابقہ آیت کریمہ ﴿فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾(البقرہ : 2؍97) میں مذکور ہے ’’اس نے تو یہ کتاب اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتاری۔‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسباب کی قوت تاثیر خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ ہر حال میں قضا و قدر کے تابع ہوتے ہیں، ان کی مستقل تاثیر نہیں ہوتی۔ افعال العباد کے بارے میں امت کے فرقوں میں کوئی بھی اس اصول کی مخالفت نہیں کرتا سوائے قدریہ کے۔ قدریہ سمجھتے ہیں کہ اسباب کی تاثیر مستقل ہوتی ہے اور وہ مشیت الٰہی کے تابع نہیں ہوتے۔ چنانچہ انھوں نے بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج کر دیا اور اس طرح وہ کتاب اللہ ، سنت رسول اور صحابہ و تابعین کے اجماع کی مخالفت کے مرتکب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جادو میں نقصان ہی نقصان ہے، اس میں کوئی دینی یا دنیاوی منفعت نہیں ہوتی جس طرح بعض گناہوں میں دنیاوی منفعت ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا:﴿قُلۡ فِيۡهِمَاۤ اِثۡمٌ كَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ٞ وَاِثۡمُهُمَاۤ اَكۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا﴾(البقرہ : 2؍219) ’’کہہ دو شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں البتہ اس کا گناہ ان کے فائدے کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔‘‘ پس یہ جادو تو ضرر محض ہے اور اصل میں اس کا کوئی داعیہ نہیں۔ تمام منہیات یا تو ضرر محض کی حامل ہیں یا ان میں شر کا پہلو خیر کے پہلو سے زیادہ ہے۔ جیسے تمام مامورات صرف مصلحت پر مبنی ہیں یا ان میں خیر کا پہلو شر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا﴾ یعنی یہود نے جان لیا ہے ﴿ لَمَنِ اشۡتَرٰىهُ﴾ ’’جس نے اسے خریدا‘‘ یعنی انھوں نے جادو کے علم میں اس طرح رغبت کی جیسے تاجر مال تجارت کے خریدنے میں رغبت رکھتا ہے ﴿ مَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ﴾ یعنی ’’آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں‘‘ بلکہ یہ جادو آخرت میں عذاب کا موجب ہو گا۔ پس ان کا جادو پر عمل کرنا جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کیا ہے ﴿وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ ’’وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے‘‘ یعنی اپنے فعل کے بارے میں ایسا علم رکھنا جو عمل کا باعث ہو۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 15

Al-BaqarahJuz 1 · Page 15

2:94

قُلۡ إِن كَانَتۡ لَكُمُ ٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ عِندَ ٱللَّهِ خَالِصَةٗ مِّن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٩٤

Say, [O Muḥammad], "If the home of the Hereafter with Allāh is for you alone and not the [other] people, then wish for death, if you should be truthful."

2:95

وَلَن يَتَمَنَّوۡهُ أَبَدَۢا بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٩٥

But never will they wish for it, ever, because of what their hands have put forth. And Allāh is Knowing of the wrongdoers.

2:96

وَلَتَجِدَنَّهُمۡ أَحۡرَصَ ٱلنَّاسِ عَلَىٰ حَيَوٰةٖ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ أَلۡفَ سَنَةٖ وَمَا هُوَ بِمُزَحۡزِحِهِۦ مِنَ ٱلۡعَذَابِ أَن يُعَمَّرَۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ ٩٦

And you will surely find them the most greedy of people for life - [even] more than those who associate others with Allāh. One of them wishes that he could be granted life a thousand years, but it would not remove him in the least from the [coming] punishment that he should be granted life. And Allāh is Seeing of what they do.

2:97

قُلۡ مَن كَانَ عَدُوّٗا لِّـجِبۡرِيلَ فَإِنَّهُۥ نَزَّلَهُۥ عَلَىٰ قَلۡبِكَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٩٧

Say, "Whoever is an enemy to Gabriel - it is [none but] he who has brought it [i.e., the Qur’ān] down upon your heart, [O Muḥammad], by permission of Allāh, confirming that which was before it and as guidance and good tidings for the believers."

2:98

مَن كَانَ عَدُوّٗا لِّلَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبۡرِيلَ وَمِيكَىٰلَ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَدُوّٞ لِّلۡكَٰفِرِينَ ٩٨

Whoever is an enemy to Allāh and His angels and His messengers and Gabriel and Michael - then indeed, Allāh is an enemy to the disbelievers.

2:99

وَلَقَدۡ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖۖ وَمَا يَكۡفُرُ بِهَآ إِلَّا ٱلۡفَٰسِقُونَ ٩٩

And We have certainly revealed to you verses [which are] clear proofs, and no one would deny them except the defiantly disobedient.

2:100

أَوَكُلَّمَا عَٰهَدُواْ عَهۡدٗا نَّبَذَهُۥ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ١٠٠

Is it not [true] that every time they took a covenant a party of them threw it away? But, [in fact], most of them do not believe.

2:101

وَلَمَّا جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٞ لِّمَا مَعَهُمۡ نَبَذَ فَرِيقٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ كَأَنَّهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ١٠١

And when a messenger from Allāh came to them confirming that which was with them, a party of those who had been given the Scripture threw the Scripture of Allāh [i.e., the Torah] behind their backs as if they did not know [what it contained].

As-Sa'diTafsir · 2:101

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском