Al-Baqarah 2:14
The Cow · Juz 1 · Page 3
وَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوۡاْ إِلَىٰ شَيَٰطِينِهِمۡ قَالُوٓاْ إِنَّا مَعَكُمۡ إِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُونَ ١٤
And when they meet those who believe, they say, "We believe"; but when they are alone with their evil ones, they say, "Indeed, we are with you; we were only mockers."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 2:14–15
اور جب ملتے ہیں وہ ایمان والوں سے تو کہتے ہیں، ایمان لے آئے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں وہ اپنے سرداروں کی طرف تو کہتے ہیں، بے شک ہم تمھارے ساتھ ہیں، بلاشبہ ہم تو صرف استہزا کرنے والے ہیں(14) اللہ استہزا کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں، وہ بھٹکتے پھرتے ہیں(15)
[14] یہ قول ان کی ان باتوں میں سے ہے جس کا اظہار وہ اپنی زبانوں سے کرتے تھے درآں حالیکہ ان کے دل میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ جب یہ منافقین اہل ایمان کے پاس جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے طریقے پر گامزن ہیں اور ان کے ساتھ ہیں اور جب وہ اپنے شیطان سرداروں یعنی شریر رؤسا سے تنہائی میں ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں ’’ہم تو درحقیقت تمھارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ، ہم تمھارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔‘‘ یہ ہیں ان کے ظاہری اور باطنی احوال۔ بری چال کا وبال اسی پر پڑتا ہے جو یہ چال چلتا ہے۔
[15]﴿اَللّٰهُ يَسۡتَهۡزِئُ بِهِمۡ وَيَمُدُّهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَؔ﴾ ’’اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ استہزا ان کے اس استہزا کی جزا ہے جو وہ اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا یہ ہے کہ وہ ان کے بدبختی کے اعمال اور خبیث احوال کو ان کے سامنے مزین اور آراستہ کر دیتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان پر مسلط نہیں کیا اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہیں۔ قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا یہ ہوگا کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ انھیں ظاہری روشنی عطا کرے گا۔ جب اہل ایمان اس روشنی میں چلیں گے تو منافقین کی روشنی بجھ جائے گی۔ وہ روشنی کے بجھ جانے کے بعد تاریکی میں متحیر کھڑے رہ جائیں گے۔ پس امید کے بعد مایوسی کتنی بری چیز ہے۔ ﴿يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَكُنۡ مَّعَكُمۡ قَالُوۡا بَلٰي وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾(الحدید:57؍14) ’’وہ منافق اہل ایمان کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہ تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم ہمارے بارے میں کسی برے وقت کے منتظر رہے اور تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا۔‘‘ ﴿وَيَمُدُّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ کرتا ہے ﴿فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ﴾ یعنی ان کے فسق و فجور اور کفر میں ﴿يَعۡمَهُوۡنَ﴾ یعنی وہ حیران و سرگرداں ہیں، یہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی حقیقت احوال کو منکشف کرتے ہوئے فرمایا:
Page 3
2:6
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَأَنذَرۡتَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تُنذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ٦
Indeed, those who disbelieve1 - it is all the same for them whether you warn them or do not warn them - they will not believe.
1 translator’s note
- Literally, "cover" or "conceal" (faith or truth). ↩
2:7
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ وَعَلَىٰٓ أَبۡصَٰرِهِمۡ غِشَٰوَةٞۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ ٧
Allāh has set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their vision is a veil.1 And for them is a great punishment.
1 translator’s note
- A covering preventing them from discerning guidance. This condition is a direct result of their arrogance and persistence in sin. ↩
2:8
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَمَا هُم بِمُؤۡمِنِينَ ٨
And of the people are some who say, "We believe in Allāh and the Last Day," but they are not believers.
2:9
يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَمَا يَخۡدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ ٩
They [think to] deceive Allāh and those who believe, but they deceive not except themselves and perceive [it] not.
2:10
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡذِبُونَ ١٠
In their hearts is disease, so Allāh has increased their disease;1 and for them is a painful punishment because they [habitually] used to lie.
1 translator’s note
- The "disease" mentioned here includes doubt, hypocrisy, arrogance and disbelief. ↩
2:11
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ قَالُوٓاْ إِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُونَ ١١
And when it is said to them, "Do not cause corruption on the earth," they say, "We are but reformers."
2:12
أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡمُفۡسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشۡعُرُونَ ١٢
Unquestionably, it is they who are the corrupters, but they perceive [it] not.
2:13
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ ءَامِنُواْ كَمَآ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ قَالُوٓاْ أَنُؤۡمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُۗ أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلسُّفَهَآءُ وَلَٰكِن لَّا يَعۡلَمُونَ ١٣
And when it is said to them, "Believe as the people have believed," they say, "Should we believe as the foolish have believed?" Unquestionably, it is they who are the foolish, but they know [it] not.
2:14
وَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوۡاْ إِلَىٰ شَيَٰطِينِهِمۡ قَالُوٓاْ إِنَّا مَعَكُمۡ إِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُونَ ١٤
And when they meet those who believe, they say, "We believe"; but when they are alone with their evil ones, they say, "Indeed, we are with you; we were only mockers."
2:15
ٱللَّهُ يَسۡتَهۡزِئُ بِهِمۡ وَيَمُدُّهُمۡ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ ١٥
[But] Allāh mocks them and prolongs them in their transgression [while] they wander blindly.
2:16
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلۡهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَٰرَتُهُمۡ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ ١٦
Those are the ones who have purchased error [in exchange] for guidance, so their transaction has brought no profit, nor were they guided.