Al-BaqarahJuz 2 · Page 28

Al-Baqarah 2:186

The Cow · Juz 2 · Page 28

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ ١٨٦

And when My servants ask you, [O Muḥammad], concerning Me - indeed I am near. I respond to the invocation of the supplicant when he calls upon Me. So let them respond to Me [by obedience] and believe in Me that they may be [rightly] guided.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:186

اور جب سوال کریں آپ سے میرے بندے میرے بارے میں تو بلاشبہ میں قریب ہوں، قبول کرتا ہوں میں پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے، پس چاہیے کہ مانیں وہ (بھی) میرا حکم اور ایمان لائیں مجھ پرتاکہ وہ ہدایت پائیں(186)

[186] رسول اللہﷺسے بعض صحابہ کرامyنے عرض کیا ’’کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کے انداز میں مناجات کریں یا وہ دور ہے کہ ہم اسے پکاریں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’اور جب تجھ سے میرے بندے میری بابت پوچھیں تو (ان کو بتلا دیں کہ) میں قریب ہوں‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کی نگہبانی کرنے والا اور اسے دیکھنے والا ہے وہ ہر بھید اور ہر چھپی ہوئی چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔ وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں مدفون رازوں کو جانتا ہے۔ وہ دعا قبول کرنے کے اعتبار سے بھی پکارنے والے کے قریب ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ﴾ ’’جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔‘‘ دعا کی دو اقسام ہیں: (۱) دعائے عبادت۔ (۲) دعائے سوال۔ اسی طرح قرب کی بھی دو قسمیں ہیں: (۱) اپنے علم کے اعتبار سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا۔ (۲) دعا کی قبولیت، مدد اور توفیق کے ساتھ اپنے عبادت گزار بندوں اور پکارنے والے کے قریب ہونا۔ جو کوئی حضور قلب کے ساتھ اپنے رب سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جو مشروع ہو اور قبولیت دعا میں کوئی مانع بھی نہ ہو، مثلاً حرام کھانا وغیرہ، تو اللہ تعالیٰ نے ایسی دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ خاص طورپر جب بندہ ایسے اسباب اختیار کرتا ہے جو اجابت دعا کے موجب ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے قولی اور فعلی اوامر و نواہی کے سامنے سرافگندہ ہونا اور اس پر ایمان لانا، جو قبولیت دعا کا موجب ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لِيۡ وَلۡيُؤۡمِنُوۡا بِيۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُوۡنَ ﴾ ’’پس ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ راہ راست پا لیں‘‘ یعنی ان کو وہ رشد عطا ہو گی جو ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے کا نام ہے اور ان سے وہ گمراہی زائل ہوجائے گی جو ایمان اور اعمال صالحہ کے منافی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا حصول علم کا سبب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ فُرۡقَانًا ﴾(الانفال : 8؍29) ’’اے ایمان دارو! اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمھارے لیے حق وباطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کسوٹی بہم پہنچا دے گا۔‘‘

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 28

Al-BaqarahJuz 2 · Page 28

2:182

فَمَنۡ خَافَ مِن مُّوصٖ جَنَفًا أَوۡ إِثۡمٗا فَأَصۡلَحَ بَيۡنَهُمۡ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٨٢

But if one fears from the bequeather [some] error or sin and corrects that which is between them [i.e., the concerned parties], there is no sin upon him. Indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

2:183

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٨٣

O you who have believed, decreed upon you is fasting as it was decreed upon those before you that you may become righteous -

2:184

أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدۡيَةٞ طَعَامُ مِسۡكِينٖۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيۡرٗا فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥۚ وَأَن تَصُومُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ١٨٤

[Fasting for] a limited number of days. So whoever among you is ill or on a journey [during them] - then an equal number of other days [are to be made up]. And upon those who are able [to fast, but with hardship] - a ransom [as substitute] of feeding a poor person [each day]. And whoever volunteers good [i.e., excess] - it is better for him. But to fast is best for you, if you only knew.

2:185

شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلۡعُسۡرَ وَلِتُكۡمِلُواْ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ١٨٥

The month of Ramaḍān [is that] in which was revealed the Qur’ān, a guidance for the people and clear proofs of guidance and criterion. So whoever sights [the crescent of] the month,1 let him fast it; and whoever is ill or on a journey - then an equal number of other days. Allāh intends for you ease and does not intend for you hardship and [wants] for you to complete the period and to glorify Allāh for that [to] which He has guided you; and perhaps you will be grateful.

1 translator’s note
  1. Also, "whoever is present during the month." ↩

2:186

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ ١٨٦

And when My servants ask you, [O Muḥammad], concerning Me - indeed I am near. I respond to the invocation of the supplicant when he calls upon Me. So let them respond to Me [by obedience] and believe in Me that they may be [rightly] guided.

As-Sa'diTafsir · 2:186

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском