Al-BaqarahJuz 2 · Page 30

Al-Baqarah 2:191

The Cow · Juz 2 · Page 30

وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوهُمۡ وَأَخۡرِجُوهُم مِّنۡ حَيۡثُ أَخۡرَجُوكُمۡۚ وَٱلۡفِتۡنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۚ وَلَا تُقَٰتِلُوهُمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِيهِۖ فَإِن قَٰتَلُوكُمۡ فَٱقۡتُلُوهُمۡۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٩١

And kill them [in battle] wherever you overtake them and expel them from wherever they have expelled you, and fitnah1 is worse than killing. And do not fight them at al-Masjid al-Ḥarām until they fight you there. But if they fight you, then kill them. Such is the recompense of the disbelievers.

1 translator’s note
  1. Among the meanings of fitnah are disbelief and its imposition on others, discord, dissension, civil strife, persecution, oppression, injustice, seduction, terrorism, trial and torment. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:190–193

اور لڑو تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو لڑتے ہیں تم سے،اور نہ زیادتی کرو تم، بے شک اللہ نہیں پسندکرتا زیادتی کرنے والوں کو(190) اور قتل کرو تم ان کو، جہاں پاؤ تم ان کواور نکال دو تم ان کو جہاں سے نکالا انھوں نے تم کو،اور فتنہ زیادہ سخت ہے قتل سےاور نہ لڑو تم ان سے نزدیک مسجد حرام کے، یہاں تک کہ لڑیں وہ تم سے اس میں، پس اگر وہ لڑیں تم سے تو قتل کرو تم ان کو، اسی طرح ہے سزا کافروں کی(191) پھر اگر وہ باز آجائیں، تو بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا(192) اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ اور ہو جائے دین صرف اللہ کے لیے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو نہیں ہے زیادتی مگر اوپر ظالموں کے(193)

[190] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد اور قتال کو متضمن ہیں اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد جب مسلمان طاقتور ہو گئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قتال کا حکم دیا جبکہ اس سے قبل ان کو حکم تھا کہ وہ اپنے آپ کو لڑائی سے روکے رکھیں ۔ قتال کو ﴿ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ کے ساتھ مختص کرنے میں، اخلاص کی ترغیب اور فتنوں کے زمانے میں مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کی ممانعت ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ ﴾ ’’جو تم سے لڑتے ہیں۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو تمھارے ساتھ لڑنے کی تیاری کرتے ہیں۔ یہ ذمے دار لڑنے کی اہلیت رکھنے والے کافر مرد ہیں، نہ کہ وہ بوڑھے جو لڑ سکتے ہیں اور نہ لڑائی میں کوئی مشورہ دے سکتے ہیں۔ حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت میں ظلم و تعدی کی تمام انواع شامل ہیں، جیسے عورتوں، بچوں، بے عقل لوگوں اور راہبوں وغیرہ کو قتل کرنا جو لڑائی میں شریک نہ ہوں۔ جنگ کے دوران مقتولین کا مثلہ کرنا (یعنی مقتول کے کان، ناک اور پوشیدہ اعضاء کاٹنا، آنکھیں نکال دینا اور پیٹ چاک کرنا) اور مسلمانوں کی کسی مصلحت کے بغیر جانوروں کو قتل کرنا اور درخت وغیرہ کاٹنا، سب ظلم و تعدی میں شمار ہو گا۔ جب کفار جزیہ قبول کر کے اس کو ادا کر چکے ہوں تو ان کے خلاف لڑنا بھی ظلم و تعدی ہے جو کہ ہرگز جائز نہیں۔

[192-191]﴿ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ۠ ﴾ ’’اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں بھی پاؤ تم ان کو‘‘ یہ ان کے ساتھ قتال کا حکم ہے ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان کے خلاف مدافعانہ اور جارحانہ جنگ جاری رہے۔ پھر اس عموم سے مسجد حرام کے قریب قتال کرنے کو مستثنیٰ کر دیا، کیونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسجد حرام کے قریب لڑائی کی ابتدا کریں تو پھر ان کے خلاف لڑائی کی جائے یہ ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔ یہ کفار کے خلاف، ہر وقت اور دائمی قتال و جہاد ہے یہاں تک کہ وہ کفر کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیں۔ (اگر وہ ایسا کر لیں) تو یقینا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، مسجد حرام میں شرک کا ارتکاب کیا اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت اور اس کا کرم ہے، چونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنے کی ممانعت سے یہ وہم لاحق ہوتا ہے کہ یہ لڑائی اس محترم شہر کے اندر گویا فساد برپا کرنا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس حرمت والے شہر کے اندر فتنہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے دین سے لوگوں کو روکنے کے مفاسد، قتل کے مفاسد سے بڑھ کر ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو! تمھارے لیے ان کے خلاف لڑنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس آیت کریمہ سے فقہ کے ایک مشہور قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ دو برائیوں میں سے (جب ایک برائی کو اختیار کرنا لابدی ہو تو) کم تر برائی کو اختیار کیا جائے۔ تاکہ بڑی برائی کا سدباب کیا جا سکے۔

[193] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے راستے میں اس قتال اور جہاد کا مقصد بیان فرمایا ہے۔ قتال فی سبیل اللہ کا مقصد یہ نہیں کہ کفار کا خون بہایا جائے اور ان کے اموال لوٹ لیے جائیں بلکہ جہاد کا مقصد صرف یہ ہے ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کہ دین اللہ کا ہو جائے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آ جائے اور شرک وغیرہ اور ان تمام نظریات کا قلع قمع کر دیا جائے جو اللہ کے دین کے منافی ہیں اور فتنہ سے بھی یہی مراد ہے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو جائے تو قتل کرنا اور لڑائی کرنا جائز نہیں۔ ﴿ فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں۔‘‘ یعنی اگر وہ مسجد حرام کے قریب تمھارے ساتھ لڑائی کرنے سے باز آ جائیں ﴿ فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں۔‘‘ یعنی تمھاری طرف سے ان پر کوئی ظلم اور زیادتی نہیں ہونی چاہیے، سوائے اس کے جس نے ظلم کا ارتکاب کیا ہو تو ایسا شخص اپنے ظلم کے برابر سزا کا مستحق ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 30

Al-BaqarahJuz 2 · Page 30

2:191

وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوهُمۡ وَأَخۡرِجُوهُم مِّنۡ حَيۡثُ أَخۡرَجُوكُمۡۚ وَٱلۡفِتۡنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۚ وَلَا تُقَٰتِلُوهُمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِيهِۖ فَإِن قَٰتَلُوكُمۡ فَٱقۡتُلُوهُمۡۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٩١

And kill them [in battle] wherever you overtake them and expel them from wherever they have expelled you, and fitnah1 is worse than killing. And do not fight them at al-Masjid al-Ḥarām until they fight you there. But if they fight you, then kill them. Such is the recompense of the disbelievers.

1 translator’s note
  1. Among the meanings of fitnah are disbelief and its imposition on others, discord, dissension, civil strife, persecution, oppression, injustice, seduction, terrorism, trial and torment. ↩

2:192

فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٩٢

And if they cease, then indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

2:193

وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِۖ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَلَا عُدۡوَٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ ١٩٣

Fight them until there is no [more] fitnah and [until] religion [i.e., worship] is [acknowledged to be] for Allāh. But if they cease, then there is to be no aggression [i.e., assault] except against the oppressors.

2:194

ٱلشَّهۡرُ ٱلۡحَرَامُ بِٱلشَّهۡرِ ٱلۡحَرَامِ وَٱلۡحُرُمَٰتُ قِصَاصٞۚ فَمَنِ ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَٱعۡتَدُواْ عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ ١٩٤

[Battle in] the sacred month is for [aggression committed in] the sacred month,1 and for [all] violations is legal retribution. So whoever has assaulted you, then assault him in the same way that he has assaulted you. And fear Allāh and know that Allāh is with those who fear Him.

1 translator’s note
  1. The sacred months are Dhul-Qaʿdah, Dhul-Ḥijjah, Muḥarram and Rajab. ↩

2:195

وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ وَأَحۡسِنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٩٥

And spend in the way of Allāh and do not throw [yourselves] with your [own] hands into destruction [by refraining]. And do good; indeed, Allāh loves the doers of good.

2:196

وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ فَإِنۡ أُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۖ وَلَا تَحۡلِقُواْ رُءُوسَكُمۡ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡهَدۡيُ مَحِلَّهُۥۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ بِهِۦٓ أَذٗى مِّن رَّأۡسِهِۦ فَفِدۡيَةٞ مِّن صِيَامٍ أَوۡ صَدَقَةٍ أَوۡ نُسُكٖۚ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۚ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖ فِي ٱلۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ إِذَا رَجَعۡتُمۡۗ تِلۡكَ عَشَرَةٞ كَامِلَةٞۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمۡ يَكُنۡ أَهۡلُهُۥ حَاضِرِي ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ١٩٦

And complete the ḥajj and ʿumrah for Allāh. But if you are prevented, then [offer] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And do not shave your heads until the sacrificial animal has reached its place of slaughter. And whoever among you is ill or has an ailment of the head [making shaving necessary must offer] a ransom of fasting [three days] or charity1 or sacrifice.2 And when you are secure,3 then whoever performs ʿumrah [during the ḥajj months]4 followed by ḥajj [offers] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And whoever cannot find [or afford such an animal] - then a fast of three days during ḥajj and of seven when you have returned [home]. Those are ten complete [days]. This is for those whose family is not in the area of al-Masjid al-Ḥarām. And fear Allāh and know that Allāh is severe in penalty.

4 translator’s notes
  1. Feeding six needy persons.

    [72] The slaughter of a sheep or goat.

    [73] Under normal conditions, i.e., are not prevented.

    [74] The months of Shawwāl, Dhul-Qaʿdah and Dhul-Ḥijjah.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩
  4. ↩
As-Sa'diTafsir · 2:191

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском